Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جم خانہ کی وہ شام، بڑے نام اور ایک چھوٹا سا لکھاری،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

zaigham abidi syed

میڈیا کی فیلڈ کو خیرباد کہے مجھے تقریباً چار سے پانچ برس کا عرصہ گزر چکا ہے۔ میڈیا کے دنوں میں بحیثیت رپورٹر کچھ پریس کانفرنسز کور کرنے کا موقع ملا۔ ایک دفعہ CPNE کی کانفرنس میں بھی شمولیت ہوئی، جہاں ملک کے کئی نامور صحافیوں کو قریب سے دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔ اس وقت شاید اندازہ نہیں تھا کہ صحافت سے یہ مختصر سا تعلق ایک دن یوں دوبارہ میرے سامنے آ کھڑا ہوگا۔

وقت گزرتا گیا اور میں میڈیا کی دنیا سے تقریباً دور ہوگیا۔ لکھنے پڑھنے کا سلسلہ بھی کہیں پیچھے رہ گیا۔ پھر کچھ عرصہ قبل باغی ٹی وی سے منسلک ہونے کا موقع ملا، جس کی سرپرستی سینئر صحافی اور معروف اینکر پرسن مبشر لقمان صاحب کر رہے ہیں۔ اس پلیٹ فارم کی بدولت مجھے ایک بار پھر لکھنے کا موقع ملا اور یوں محسوس ہوا جیسے صحافت سے میرا وہ پرانا تعلق، جسے میں تقریباً بھول چکا تھا، دوبارہ زندہ ہو رہا ہے۔

آج باغی رائٹرز فورم کے لاہور سے تعلق رکھنے والے اراکین اور لکھاریوں کی مبشر لقمان صاحب کے ساتھ لاہور جم خانہ کلب میں ایک تعارفی نشست تھی۔ میرے لیے یہ محض ایک تعارفی نشست نہیں تھی۔ شاید کئی برس بعد یہ میرے لیے ایسا دن تھا جب میں خود کو ایک بار پھر صحافت سے جڑا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ میرے اندر ایک عجیب سی خوشی، جوش اور بے چینی تھی۔ میں شام ساڑھے چھ بجے جم خانہ کلب پہنچا۔

ہال میں داخل ہوا تو میرے احساسات یکسر بدل گئے۔ وہاں بیٹھا ہر شخص اپنی ایک دنیا تھا۔ ہر ایک کا اپنا تعارف، اپنا تجربہ، اپنی جدوجہد اور اپنی خدمات تھیں۔ کوئی برسوں سے صحافت سے وابستہ تھا، کوئی کالم نگاری کے میدان میں اپنا مقام بنا چکا تھا اور کوئی ادب و فکر کے حوالے سے اپنی شناخت رکھتا تھا۔ میں ان سب کے درمیان بیٹھا خود کو بہت چھوٹا محسوس کر رہا تھا، لیکن اسی لمحے یہ احساس بھی ہو رہا تھا کہ شاید انسان سیکھتا ہی تب ہے جب وہ اپنے سے بڑے لوگوں کے درمیان بیٹھتا ہے۔

کہتے ہیں انسان کی سوچ اس کے ماحول سے بنتی ہے۔ آپ جیسے لوگوں میں بیٹھتے ہیں، ویسا ہی سوچنے لگتے ہیں۔

پھر تعارفی سیشن شروع ہوا۔ ایک ایک کرکے سب اپنا تعارف کروا رہے تھے۔ میں خاموشی سے سب کو سن رہا تھا اور اندر ہی اندر سوچ رہا تھا کہ جب میری باری آئے گی تو میں کیا بتاؤں گا؟ میرے پاس شاید اتنا کچھ نہیں تھا جتنا اس محفل میں بیٹھے دوسرے لوگوں کے پاس تھا پھر میری باری آگئی۔

مبشر لقمان صاحب نے میری طرف دیکھا اور کہا:

*”جی، آپ بتائیں۔”*

بظاہر یہ ایک عام سا جملہ تھا، لیکن میرے لیے اس لمحے اس کی اہمیت شاید کچھ اور تھی۔ میں نے اپنا مختصر سا تعارف کروانا شروع کیا۔ میں بول رہا تھا اور مبشر لقمان صاحب میری بات سن رہے تھے۔ ان کی طرف سے ملنے والی وہ توجہ میرے لیے غیر معمولی تھی۔

مجھے اچانک انضمام الحق یاد آگیا۔ وہ انضمام الحق جس کی خراب پرفارمنس کے باوجود عمران خان اس کے اندر ایک ونر دیکھ رہا تھا۔

آج شاید مجھے بھی اسی طرح کا ایک لمحہ محسوس ہوا۔ میں کوئی بڑا نام نہیں تھا، میرے پاس سنانے کو کوئی بہت بڑی داستان نہیں تھی، لیکن مبشر لقمان صاحب کا میری طرف دیکھنا، میری بات کو توجہ سے سننا اور مجھے اپنی بات مکمل کرنے کا موقع دینا میرے لیے حوصلے کی بات تھی۔ شاید کبھی کبھی انسان کو آگے بڑھنے کے لیے صرف ایک بڑے آدمی کی طرف سے یہ احساس چاہیے ہوتا ہے کہ تمہاری بات بھی اہم ہے۔

لیکن آج کی نشست میں میرے لیے اصل حاصل یہ نہیں تھا۔ اصل حاصل وہ ایک جملہ تھا جو مبشر لقمان صاحب نے گفتگو کے دوران کہا اور جو میرے اندر کہیں بہت گہرائی میں اتر گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم بہت علمی باتیں لکھتے ہیں، لیکن ایک عام آدمی کا مسئلہ، اس کی پریشانی اور اس کی غربت لکھنا زیادہ ضروری ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کیا ہو رہا ہے، دنیا میں کون سے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور ہمارا عام آدمی، خاص طور پر ہماری نوجوان نسل، ان مواقع سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتی ہے، اس بارے میں بھی لکھا جائے۔

یہ بات میرے لیے صرف ایک مشورہ نہیں تھی۔ یہ میرے لکھنے کے پورے انداز کے لیے ایک سوال تھا۔ ہم اکثر لکھتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم کتنا جانتے ہیں۔ ہم بڑے بڑے موضوعات چنتے ہیں، مشکل الفاظ استعمال کرتے ہیں، فلسفے اور نظریات پر گفتگو کرتے ہیں اور کبھی کبھی ہماری تحریر میں لکھنے والے کی ذات اتنی نمایاں ہوجاتی ہے کہ وہ شخص غائب ہوجاتا ہے جس کے لیے وہ تحریر لکھی جانی چاہیے۔

شاید ایک صحافی اور لکھاری کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ وہ اپنے الفاظ کا رعب ڈال سکے یا یہ ثابت کرے کہ وہ کتنا پڑھا لکھا ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ اس شخص کی آواز بن سکے جو خود اپنی بات ایوانوں تک نہیں پہنچا سکتا۔ وہ نوجوان جو ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار تلاش کر رہا ہے، وہ مڈل کلاس باپ جو اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے پریشان ہے، وہ ماں جو اپنے بیٹے کے بہتر مستقبل کے خواب دیکھ رہی ہے، وہ مزدور جو مہنگائی کے سامنے اپنی زندگی کا حساب لگا رہا ہے، اور وہ طالب علم جو یہ جاننا چاہتا ہے کہ دنیا میں اس کے لیے کون سے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں

صحافت شاید انہی سوالوں کو زبان دینے کا نام ہے۔ آج کی نشست کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ شاید مجھے اپنے لکھنے کا انداز بدلنا ہوگا۔ مجھے وہ نہیں لکھنا جو میری سوچ ہے بلکہ مجھے وہ لکھنا ہے جو عام آدمی کی آواز ہے۔ ایسی تحریر جسے پڑھ کر ایک مڈل کلاس نوجوان یہ کہہ سکے:
"یہ تو میری بات ہے، یہ تو وہی مسئلہ ہے جس سے میں گزر رہا ہوں۔” ایسی تحریر جو کسی پریشان باپ کی آواز بنے، کسی بے روزگار نوجوان کو دنیا میں موجود کسی نئے موقع کی خبر دے، کسی طالب علم کو آگے بڑھنے کا راستہ دکھائے اور کبھی کسی صاحبِ اختیار کو یہ سوچنے پر مجبور کرے کہ اگر ہم نے آج اپنی نوجوان نسل کے سوالات کا جواب نہ دیا تو کل شاید بہت دیر ہوچکی ہوگی۔

شاید آج کی اس نشست کا میرے لیے سب سے بڑا حاصل یہی تھا کہ میں کئی برس بعد صرف صحافت کے قریب نہیں آیا بلکہ صحافت کے مقصد کے قریب آیا ہوں اور شاید یہی باغی رائٹرز فورم کی آج کی نشست کی اصل خوبصورتی تھی۔ یہ صرف لکھنے والوں کا تعارف نہیں تھا۔ یہ مختلف سوچوں، تجربات اور آوازوں سے متعارف ہونے کی ایک خوبصورت کوشش تھی۔

میرے لیے تو آج ایک نشست ہوئی، ایک جملہ سنا اور شاید میرے لکھنے کا راستہ بدل گیا۔ اب کوشش یہی ہوگی کہ میری تحریر میں صرف "میں” نہ ہو، بلکہ وہ "ہم” ہو جس میں اس ملک کا عام آدمی اپنی آواز سن سکے۔