Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

فیصل آباد،بڑا گاؤں یا صنعتی شہر؟ تحریر: ماہ جبین اظہر

نقطہ نظر
mah jabeen b

فیصل آباد، جسے پاکستان کا مانچسٹر کہا جاتا ہے، محض ایک شہر نہیں بلکہ صنعت، تجارت، تعلیم، ثقافت اور محنت کا ایک بڑا مرکز ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں ٹیکسٹائل کی صنعت نے اسے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ایک منفرد شناخت دی۔ یہاں تیار ہونے والا کپڑا ملک کے مختلف شہروں تک پہنچتا ہے اور بیرونِ ملک بھی برآمد کیا جاتا ہے۔ اس شہر کی معیشت کا ایک بڑا حصہ صنعت اور تجارت سے وابستہ ہے، لیکن اس سب کے باوجود بعض لوگ فیصل آباد کو طنزیہ انداز میں ’’بڑا گاؤں‘‘ کہہ دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں؟


اس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ فیصل آباد کے چاروں طرف بہت سے دیہات آباد ہیں اور شہری حدود کے ساتھ دیہی علاقے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ شاید اسی نسبت سے بعض لوگ پورے شہر کو ’’بڑا گاؤں‘‘ کہہ کر اس کی شہری حیثیت کو کم تر دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ کسی شہر کے آس پاس دیہات کا ہونا اس کی ترقی یا اہمیت کو کم نہیں کرتا۔ دنیا کے بڑے شہروں کے گرد بھی دیہی آبادیاں موجود ہوتی ہیں، مگر ان شہروں کی شناخت ان کی خدمات، سہولتوں اور ترقی سے ہوتی ہے۔


فیصل آباد کی سب سے بڑی خوبصورتی اس کا تاریخی گھنٹہ گھر اور اس کے گرد موجود آٹھ بازار ہیں، جو اس شہر کی شناخت بن چکے ہیں۔ گھنٹہ گھر کے گرد پھیلے ہوئے یہ بازار نہ صرف خریداری کا اہم مرکز ہیں بلکہ فیصل آباد کی قدیم شہری منصوبہ بندی، رونق اور تہذیبی رنگ کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ ان بازاروں میں داخل ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شہر کی تاریخ، تجارت اور روزمرہ زندگی ایک ہی جگہ سمٹ آئی ہو۔


فیصل آباد صرف صنعت کا شہر نہیں بلکہ تعلیم کے حوالے سے بھی ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ یہاں کئی معروف تعلیمی ادارے موجود ہیں جہاں نہ صرف فیصل آباد بلکہ آس پاس کے شہروں اور علاقوں سے بھی طلبہ تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔ یونیورسٹیوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں کی وجہ سے یہ شہر نوجوانوں کے لیے علمی مواقع کا مرکز بن چکا ہے۔ اگر یہ محض ’’بڑا گاؤں‘‘ ہوتا تو دوسرے شہروں کے طلبہ یہاں اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے کیوں آتے؟


صحت کے شعبے میں بھی فیصل آباد کی اپنی اہمیت ہے۔ یہاں سرکاری اور نجی سطح پر متعدد ہسپتال اور طبی مراکز موجود ہیں جہاں نہ صرف مقامی افراد بلکہ گردونواح کے شہروں اور علاقوں سے بھی لوگ علاج کے لیے آتے ہیں۔ کسی شہر میں صحت، تعلیم، تجارت اور روزگار کی ایسی سہولتیں موجود ہوں تو اسے محض اس بنیاد پر ’’بڑا گاؤں‘‘ کہنا حقیقت سے دوری کے سوا کچھ نہیں۔


فیصل آباد میں تفریح کے مواقع بھی موجود ہیں۔ مختلف پارکس، باغات اور تفریحی مقامات شہریوں کو مصروف زندگی سے کچھ وقت نکال کر اپنے خاندان کے ساتھ گزارنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ بچوں کے لیے کھیل کے مقامات ہوں یا خاندانوں کے لیے پرسکون ماحول، شہر میں ایسی متعدد جگہیں موجود ہیں جہاں لوگ اپنی روزمرہ مصروفیات سے نکل کر خوشگوار لمحات گزار سکتے ہیں۔


اس شہر کی پہچان صرف اس کی عمارتوں اور صنعتوں تک محدود نہیں۔ فیصل آباد نے فن، ادب، موسیقی، سائنس اور کھیل کے میدان میں بھی ایسی شخصیات پیدا کی ہیں جنہوں نے اپنے شہر کا نام ملک اور دنیا تک پہنچایا۔ نصرت فتح علی خان جیسے عظیم فن کار نے قوالی کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا، جبکہ راحت فتح علی خان نے موسیقی کے میدان میں اپنی الگ پہچان بنائی۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں کم عمری میں غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے والی ارفع کریم کا نام بھی فیصل آباد سے وابستہ ہے۔ ادب میں بھی اس شہر نے کئی معروف شاعروں اور ادیبوں کو جنم دیا ہے۔


کھیل کے میدان میں بھی فیصل آباد کسی سے پیچھے نہیں۔ کرکٹ یہاں کے مقبول ترین کھیلوں میں شامل ہے اور سعید اجمل جیسے معروف پاکستانی کرکٹر کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ فیصل آباد ریجن نے ملکی کرکٹ کو کئی باصلاحیت کھلاڑی دیے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو یہ شہر صرف کپڑے کی صنعت کا مرکز نہیں بلکہ مختلف شعبوں میں صلاحیتیں پیدا کرنے والی ایک زرخیز سرزمین بھی ہے۔


فیصل آباد کی ایک اور خوبصورتی یہ ہے کہ یہاں شہری اور دیہی زندگی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی نظر آتی ہے۔ آس پاس کے دیہات فیصل آباد کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی طاقت ہیں۔ یہی علاقے شہر کو افرادی قوت فراہم کرتے ہیں اور زرعی پیداوار کے ذریعے اس کی معیشت سے جڑے رہتے ہیں۔ شہر اور دیہات کا یہ تعلق ہماری معاشرت کی حقیقت ہے، اسے کسی شہر کی کمزوری سمجھنا درست نہیں۔


اصل میں کسی شہر کی عظمت کا فیصلہ اس بات سے نہیں ہونا چاہیے کہ اس کے آس پاس کتنے دیہات ہیں۔ شہر کی اصل پہچان وہاں کے لوگوں کی محنت، تعلیم، ہنر، تہذیب، صنعت اور خدمات سے بنتی ہے۔ فیصل آباد میں اگر ایک طرف کارخانے ہیں تو دوسری طرف یونیورسٹیاں بھی ہیں، اگر صنعت ہے تو تعلیم بھی ہے، اگر بازار ہیں تو پارکس بھی ہیں، اگر تجارت ہے تو صحت کی سہولتیں بھی ہیں اور اگر گنجان شہری آبادی ہے تو اس کے گرد پھیلے دیہات بھی اس کی معاشرت کا حصہ ہیں۔


اس لیے فیصل آباد کو ’’بڑا گاؤں‘‘ کہنا اگر محض اپنائیت کا اظہار ہو تو الگ بات ہے، لیکن اگر یہ لفظ شہر کو کمتر ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو ہمیں اپنی سوچ پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ فیصل آباد کو کسی دوسرے شہر کی نقل بننے کی ضرورت نہیں۔ اس کی اپنی تاریخ، اپنی ثقافت، اپنی صنعت اور اپنی شناخت ہے۔


فیصل آباد صرف ایک شہر نہیں؛ یہ محنت کش ہاتھوں، علم کے چراغوں، صنعت کے پہیوں، گھنٹہ گھر کی یادوں، آٹھ بازاروں کی رونق اور اپنے لوگوں کے خوابوں سے آباد ایک زندہ شہر ہے۔