جدید سائنسی دور میں زندگی کے ہر شعبے جہاں جہاں ترقی ہوئی ہے وہیں پرانے وقتوں کے طور طریقوں میں بھی تبدیلی آئی ہے ۔آپ کچھ خریدنا چاہتے ہیں تو ملاحظہ فرمائیں کہ آپ کو مارکیٹنگ مینجمنٹ کے ذریعے کسی طرح اپنی ضرورت سے زیادہ خریداری پر مائل اور مجبور کر دیا جاتا ہے
شاپنگ مال میں جو بڑی ٹرالی آپ دھکیلتے ہیں وہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی نفسیاتی چال ہے جسے کنزیومر مینوفیکچرنگ کہتے ہیں Consumer
Manufacturing
اس کی شروعات 1936 میں امریکہ کے شہر اوکلاہوما سے ہوئی۔ وہاں ایک دکاندار تھا سلوین گولڈمین، اس نے غور کیا کہ گاہک کے ہاتھ کی ٹوکری جیسے ہی بھر جاتی ہے وہ مزید خریداری چھوڑ کر گھر چلا جاتا ہے۔ تو اس نے اپنے دفتر میں رکھی دو فولڈنگ کرسیوں کو دیکھ کر سوچا، اگر اسی پر پہیے اور ایک ٹوکری لگا دی جائے تو گاہک زیادہ سامان بھر سکے گا۔ 4 جون 1937 کو دنیا کی پہلی شاپنگ کارٹ مارکیٹ میں آئی۔
لیکن شروع میں لوگوں نے اس کا مذاق اڑا دیا۔ مرد کہتے تھے یہ عورتوں والا ٹھیلا ہے ہم نہیں دھکیلیں گے، عورتیں کہتی تھیں یہ بچوں کی گاڑی جیسی لگتی ہے۔ گولڈمین کا سارا آئیڈیا فیل ہوتا نظر آیا۔ پھر اس نے ایک چال چلی، اس نے خوبصورت ماڈل لڑکے اور لڑکیوں کو پیسے دے کر ہائر کیا اور انہیں اسٹور میں یہ ٹرالی چلاتے ہوئے گھمایا۔ لوگوں نے جب دیکھا کہ اسمارٹ لوگ یہ استعمال کر رہے ہیں تو شرم ختم ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ فیشن بن گیا۔ 1946 میں ایک اور انجینئر اورلا واٹسن نے اس میں ایک دوسرے میں پھنسنے والا گیٹ لگایا جو آج تک وہی ڈیزائن چل رہا ہے۔ آج تحقیق کہتی ہے کہ ٹرالی کا سائز دوگنا کر دو تو انسان 40 فیصد زیادہ خریداری کر لیتا ہے۔
آپ نے مال میں کبھی تیز میوزک سنا ہے؟ نہیں نا ہمیشہ سلو یعنی دھیمی اور پرسکون دھن بجتی ہے۔ اس کی وجہ بھی مارکیٹنگ سائنس ہے۔ سلو میوزک پر آپ کے قدم آہستہ ہو جاتے ہیں، دل کی دھڑکن پرسکون ہو جاتی ہے اور آپ اسٹور میں 34 فیصد زیادہ دیر رکتے ہیں۔ جتنی دیر زیادہ رکیں گے اتنا زیادہ دیکھیں گے اور اتنا زیادہ خریدیں گے۔ اسی لیے بڑے مالز میں نہ گھڑی ہوتی ہے نہ کھڑکی، تاکہ آپ کو وقت کا احساس ہی نہ ہو اور آپ بھول جائیں کہ آپ کتنی دیر سے مال کے اندر آئے ہوئے ہیں
مال میں ایک اور سنہری اصول ہے Eye Level is Buy Level یعنی جو چیز آنکھ کے سامنے ہے وہی بکتی ہے * جو دکھتی ہے وہ بکتی ہے *
۔ سب سے مہنگی کمپنیاں کروڑوں روپے دے کر اپنی پراڈکٹ عین آپ کی آنکھوں کے لیول پر رکھواتی ہیں۔ سستی چیز سب سے نیچے رکھی جاتی ہے جہاں جھک کر نکالنا پڑے۔ اور بچوں کی ٹافیاں، چاکلیٹ اور کارٹون والے سیریل ہمیشہ بچوں کی آنکھ کے لیول پر رکھے جاتے ہیں تاکہ بچہ خود اٹھا لے اور ضد کر کے آپ سے خریدوا لے۔
آخری وار کیش کاؤنٹر پر ہوتا ہے۔ جب آپ آدھا گھنٹہ فیصلے کر کے تھک جاتے ہیں تو آپ کے دماغ میں فیصلہ کرنے کی طاقت ختم ہو جاتی ہے، اس کو Decision Fatigue کہتے ہیں۔ اسی تھکے ہوئے لمحے میں قطار میں آپ کو رنگین ٹافیاں، چیونگم اور چھوٹی کولڈ ڈرنک نظر آتی ہیں اور آپ اور آپ کے بچے سوچے سمجھے بغیر اٹھا لیتے ہیں۔ اسی طرح دودھ، ڈبل روٹی جیسی روز مرہ کی ضروری چیز ہمیشہ اسٹور کے سب سے پیچھے رکھی جاتی ہے تاکہ آپ کو پورا اسٹور پار کرنا پڑے۔ تو اب سوال یہ ہے، کیا ہم خریداری کر رہے ہیں یا ہمیں خریدا جا رہا ہے؟
بلا شبہ ہمیں خرید کر، ہماری ضروریات کو پس پشت ڈال کر ہمارے لیے استعمال کی غیر ضروری اشیاء کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے بعد ہمیں خریدنے پر مجبور اور مائل کیا کیا جاتا ہے جس میں ان کا اپنا مفاد پنہاں ہوتا ہے
مارکیٹنگ مینجمنٹ کے ماہرین اپنی سیلز ٹیم کی موٹیویشن Motivation اور گرومنگ Grooming اس انداز سے کرتے ہیں اگر آپ نے کوئی ایک چیز خریدنی تو ان کا تربیت یافتہ سیلز مین آپ کو اسی قسم کی چار مزید چیزیں خریدنے پر تیار کر لے گا کہ آپ کو پتا بھی نہیں چلے گا کہ آپ اس سیلز مین کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس گئے ہیں
مارکیٹنگ مینجمنٹ میں کامیاب سیلز مین اسی کو سمجھا جاتا ہے جو سائیبیریا جیسے برفباری سے ڈھکے ہوئے علاقوں میں ڈی فریزر اور ائیر کنڈیشن فروخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو یا پھر صحرائی علاقوں کے گرم ترین موسم میں گیزر بیچ آئے۔
جدید مارکیٹنگ کے ذریعے آپ کی خریداری کو آپ کے نہ چاہتے ہوئے بھی بڑھا کر آپ کو معاشی بحران میں دکھیلا جا رہا ہے ۔
مزید پڑھیں


