برطانیہ، امریکی فوجی اڈے پرحملے کی منصوبہ بندی، برطانوی نژاد ایرانی شہری گرفتار

لندن: برطانیہ میں امریکی فوج کے زیر استعمال رائل ایئر فورس فیئر فورڈ ایئربیس کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کے الزام میں برطانوی اور ایرانی دوہری شہریت رکھنے والے 25 سالہ شخص کو گرفتار کرلیا گیا۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق مشتبہ شخص کو جمعرات کے روز لندن کے علاقے ویسٹ منسٹر سے گرفتار کیا گیا۔ اس پر دہشت گرد کارروائیوں کی تیاری کے شبے میں تحقیقات کی جارہی ہیں، جبکہ پولیس نے گرفتاری کے بعد علاقے میں دو مقامات پر تلاشی بھی لی۔برطانوی انسداد دہشت گردی پولیس کی سینئر نیشنل کوآرڈینیٹر وکی ایونز کا کہنا ہے کہ گلوسٹرشائر میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات انتہائی پیچیدہ ہیں اور خصوصی ٹیمیں مختلف پہلوؤں سے معاملے کی چھان بین کررہی ہیں۔ ان کے مطابق تحقیقات میں کسی غیرملکی ریاست کے ممکنہ کردار سمیت تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا جارہا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے بدھ کے روز بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے مضبوط شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے ہفتے کے اختتام پر RAF فیئر فورڈ ایئربیس کے قریب پیش آنے والے واقعے میں کردار ادا کیا، تاہم تحقیقات ابھی جاری ہیں۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا تھا کہ مبینہ دہشت گرد منصوبے میں واضح طور پر کسی غیرملکی فریق کا ہاتھ دکھائی دیتا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مشتبہ افراد کے ایران سے ممکنہ تعلق کا ذکر کیا تھا۔
دوسری جانب ایران نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ ایرانی حکومت نے تہران میں برطانوی سفیر کو طلب کرکے برطانیہ کے مؤقف پر احتجاج کیا۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے لندن پر زور دیا کہ وہ تہران کے حوالے سے اپنا نامناسب رویہ تبدیل کرے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے برطانوی وزیر اعظم کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ غلط سمت میں تحقیقات کررہا ہے۔ لندن میں ایرانی سفارت خانے نے بھی ایران کو واقعے سے جوڑنے سے متعلق قیاس آرائیوں کی سختی سے تردید کی ہے۔
واضح رہے کہ اس واقعے کے سلسلے میں اتوار کی صبح رائل ایئر فورس کے فیئر فورڈ اڈے کے قریب پانچ دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتار ہونے والے تمام افراد برطانوی شہری اور ان کی عمریں 23 سے 25 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔پولیس نے بعد ازاں ان پانچوں افراد کو ضمانت پر رہا کردیا تھا، تاہم وہ تحقیقات کے دائرے میں ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کی رہائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایسا فیصلہ نہ کرتے۔برطانوی پولیس کے مطابق مشتبہ افراد کی تین گاڑیوں سے کوئی دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا، تاہم پٹرول کی کچھ مقدار قبضے میں لی گئی ہے۔ انسداد دہشت گردی پولیس کے سینئر افسر لارنس ٹیلر کے مطابق پولیس کو اتوار کی صبح مختلف ذرائع سے اطلاعات موصول ہوئی تھیں، جن میں ایک مقامی خاتون کسان کی جانب سے مشکوک گاڑیوں اور نقاب پوش افراد کی موجودگی کی اطلاع بھی شامل تھی۔برطانوی میڈیا کے مطابق گرفتار ہونے والے مشتبہ افراد میں سے ایک نے گرفتاری سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل ایمرجنسی نمبر 999 پر پولیس کو فون بھی کیا تھا۔ پولیس اس بات کی تحقیقات کررہی ہے کہ آیا اس شخص نے منصوبے سے دستبردار ہونے کے ارادے سے فون کیا یا یہ کال مبینہ منصوبے کا ہی حصہ تھی۔
فیئر فورڈ ایئربیس برطانیہ میں واقع ایک اہم فوجی اڈہ ہے جہاں سے امریکی B-1 بمبار طیارے ایران کے خلاف فوجی مشنز کے لیے پروازیں کرتے رہے ہیں۔ واقعے کے بعد اڈے کے اطراف سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور پولیس کو دہشت گردی کے شبے میں گرفتار افراد کو فرد جرم عائد کرنے سے قبل 14 روز تک حراست میں رکھنے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔
مزید پڑھیں





