فلائی دبئی طیارے پر حملہ، مشتبہ پائلٹ تحقیقات کے لیے متحدہ عرب امارات منتقل

فلائی دبئی کی تل ابیب جانے والی پرواز میں کپتان پر مبینہ حملے کے ملزم معاون پائلٹ کو سیکیورٹی ٹیم کی نگرانی میں متحدہ عرب امارات منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ معاون پائلٹ نے کپتان پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دونوں پائلٹس زخمی ہوئے۔ طبی طور پر سفر کے قابل قرار دیے جانے کے بعد مشتبہ پائلٹ کو سیکیورٹی ٹیم کے ہمراہ ابوظبی روانہ کیا گیا۔مشتبہ پائلٹ کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی، تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ عمان کا شہری ہے۔ متحدہ عرب امارات اس بات کی بھی تحقیقات کررہا ہے کہ آیا واقعہ دہشت گردی سے منسلک تھا۔واقعے کے محرکات تاحال واضح نہیں ہوسکے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ مشتبہ شخص کو مبینہ طور پر انتہاپسندانہ نظریات کی جانب راغب کیا گیا تھا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق پائلٹ کا ایران سے تعلق ہوسکتا ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب طیارے میں موجود مسافروں نے حملے کے دوران پیش آنے والے خوفناک مناظر بیان کیے ہیں۔ بعض مسافروں اور عملے نے مبینہ حملہ آور پر قابو پانے میں مدد کی، جس کے بعد طیارے کو سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔حملے میں زخمی ہونے والے بھارتی کپتان سمیت دیگر افراد کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ بھارتی سفارتخانے کے مطابق کپتان سمت مچھھر کو مزید علاج کے لیے ابوظبی منتقل کیا گیا ہے اور ان کی حالت میں بہتری آرہی ہے۔تحقیقاتی ادارے اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ حملے کا اصل مقصد کیا تھا، آیا اس کے پیچھے کوئی تنظیم یا بیرونی رابطہ موجود تھا اور طیارے پر حملے کی منصوبہ بندی کس طرح کی گئی۔
مزید پڑھیں





