بھارتی گلوکار دلجیت دوسانجھ کے 15 نومبر کو اندور میں ہونے والے کنسرٹ میں ان کے 4 مقبول پنجابی گانے پیش کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان گانوں میں شراب، منشیات اور تشدد کی تشہیر بچوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ضلع اندور کے محکمہ خواتین و اطفال کے ضلعی تحفظِ اطفال افسر نے 6 نومبر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کنسرٹ کے منتظمین اور سی 21 مال انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ دلجیت دوسانجھ تقریب کے دوران ’پٹیالہ پیگ‘، ’5 تارا‘، ’جیب وچوں افیم‘ جسے ’کیس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اور ’جٹ اتھے فائر کردا‘ نہ گائیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ ہدایت اس شکایت کے بعد جاری کی گئی جو چندی گڑھ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر پنڈت راؤ دھریناور نے یکم نومبر کو حکام کو جمع کرائی تھی، شکایت میں جولائی 2019 کے پنجاب و ہریانہ ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا، جس میں شراب، منشیات اور تشدد کی تشہیر کرنے والے گانوں کے بچوں پر منفی اثرات کی نشاندہی کی گئی تھی۔
پروفیسر نے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ گلوکار اسٹیج پر بچوں کو نہ بلائیں اور گولیوں کی بیلٹ سے مشابہ لباس بھی نہ پہنیں، ان کا مؤقف تھا کہ تیز آواز اور چمکتی روشنیاں بچوں کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہیں، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ جاری کردہ نوٹس میں پابندی صرف 4 گانوں تک محدود ہے۔
دلجیت کا 15 نومبر کا کنسرٹ منسوخ نہیں کیا گیا، تاہم تقریب سے قبل 3 نجی سکولوں اور اندور کے میئر کے دفتر کو بم دھماکے کی دھمکی آمیز ای میلز موصول ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
دلجیت دوسانجھ کو اس سے قبل بھی اپنے گانوں کے باعث قانونی اور انتظامی اعتراضات کا سامنا رہا ہے۔ 2024 میں حیدرآباد، احمدآباد، چندی گڑھ اور ممبئی میں ان کے کنسرٹس کے موقع پر بھی شراب اور منشیات سے متعلق گانوں پر پابندی یا احتیاطی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ حیدرآباد میں انہوں نے بعض گانوں کے بول تبدیل کرکے پیش کیے تھے۔
مزید پڑھیں






