امریکی غلامی سے نجات سے امریکہ سے ایکس اکاؤنٹ تک عمران خان کا سفر

قوم کو حقیقی آزادی کا نعرہ لگا کر تحریک چلانے،امریکہ مخالف بیانیہ بنانے والے سابق وزیراعظم ،اڈیالہ جیل کے قیدی عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ بارے انکشاف ہوا ہے کہ وہ امریکہ سے چلایا جا رہا ہے
سابق وزیراعظم عمران خان کے نام سے منسوب ایکس اکاؤنٹ کا ایک اسکرین شاٹ سامنے آیا ہےجس میں اکاؤنٹ کی لوکیشن نارتھ امریکہ ظاہر کی گئی ہے۔ اسکرین شاٹ کے مطابق اکاؤنٹ مارچ 2010 میں بنایا گیا، مارچ 2014 سے ویریفائیڈ ہے جبکہ اسے نارتھ امریکہ کے ذریعے منسلک دکھایا گیا ہے۔ عمران خان اپنے دورِ حکومت کے خاتمے کے بعد امریکا پر سخت الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ 2022 میں ان کی حکومت کے خاتمے میں امریکا کا کردار تھا، جبکہ امریکا نے ان الزامات کی تردید کی ۔ رائٹرز کے مطابق امریکی سفارت کار ڈونلڈ لو نے بھی عمران خان کے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا تھا۔بعد ازاں اگست 2024 میں رائٹرز کو دیے گئے تحریری جوابات میں عمران خان نے کہا تھا کہ انہیں امریکا سے ذاتی رنجش نہیں اور پاکستان کے مفاد میں ممالک کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دینی چاہیے۔
سوشل میڈیا صارفین اب ایکس اکاؤنٹ پر نارتھ امریکہ کی نشاندہی کو عمران خان کے سابقہ امریکی مخالف بیانیے کے ساتھ جوڑ کر سوالات اٹھا رہے ہیں اور اسے سیاسی بیانیے اور عملی طرزِ عمل کے درمیان تضاد قرار دے رہے ہیں ،کل تک قوم کو بے وقوف بنانے والے عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ امریکہ سے آپریٹ ہو رہا ہے، کیا حقیقی آزادی کا نعرہ ایک دھوکہ تھا اگر دھوکہ نہیں تھا تو ایکس اکاؤنٹ پاکستان سے کیوں نہیں چلایا جا رہا، سوال یہ ہے کہ عمران خان جیل میں ہے اور سزا کاٹ رہا ہے ایسے میں عمران خان کے نام سے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹیں کون کر رہا ہے،عمران خان کے پیغامات کون نشر کر رہا ہے اسکی بھی تحقیقات ہونی چاہئے





