ہماری غیرت، دوسروں کی عورت،تحریر: ردا امانت علی
نقطہ نظر
عورت کے بارے میں مختصر سا لکھنے جا رہی ہوں؛ ہو سکتا ہے آپ میں سے کچھ لوگوں کو مجھ سے اتفاق نہ ہو۔ میں زیادہ پیچھے یا صدیوں پرانی تاریخ میں جانا نہیں چاہتی کہ عورت کے بارے میں آپ سب کو روشناس کرواؤں، پر میں آپ سب کی سوچ اور نظریہ کو اس طرف مرکوز لازمی کرنا چاہتی ہوں کہ جس طرح مرد کے حقوق و فرائض ہیں، اسی طرح عورت کے بھی حقوق و فرائض متعین ہیں۔ عورت جس روپ میں بھی ہو، اللہ نے اس کے لیے ہر مقام دوسروں سے الگ اور اونچا رکھا ہے۔ عورت بہن کے روپ میں ہو، بیٹی کے روپ میں ہو، بیوی کے روپ میں ہو یا ماں کے روپ میں— وہ ہر حال میں اعلیٰ درجے کا مقام رکھتی ہے۔
آج ہم اپنے معاشرے میں بہت دور نہیں، بس اپنے آس پاس دیکھ لیں کہ کیا ہم اکیلی عورت کو اس معاشرے میں جینے دیتے ہیں؟ عورت کے کردار کی کس طرح سے کردار کشی کی جاتی ہے کہ ایک پاکیزہ عورت اگر گھر سے باہر قدم رکھتی ہے، تو لوگوں کی نظریں اور باتیں پہلے اس کے کردار کو دوسروں کے سامنے اس طرح سے بیان کرتی ہیں، جیسے اس عورت نے گھر سے باہر قدم نکال کر بدنامی کو اپنا مقدر بنا لیا ہو۔ کسی پر بہتان لگانا گناہ ہے اور اس کی سزا کوڑوں کی شکل میں ہے، پر ہم اپنے گھر کی بیوی، بیٹی اور بہن کو اس نگاہ سے نہیں دیکھتے کیونکہ وہ ہمارے اپنے گھر کی عورتیں ہیں، لیکن دوسروں کی عورتوں کی عزت کو پامال کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اکثر مرد حضرات راہ چلتی عورت پر جملے کستے ہیں اور اس کو اپنی نظروں سے اس کے گھر تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، جب تک کہ وہ عورت ان کی نظر سے اوجَھل نہیں ہو جاتی۔
اگر ہم اپنے گھر کی عورتوں کی حفاظت کر سکتے ہیں، تو اگر دوسروں کے گھر کی عورتوں کی حفاظت نہیں کر سکتے، کم از کم ان کی عزتوں کو پامال بھی نہ کریں۔ عورت کو ہم کیا سمجھ بیٹھے ہیں؟
عورت اگر پیار کا مجسمہ ہے، تو عورت وفا کا پیکر بھی ہے۔ اگر عورت جھونپڑی کو محل بنا سکتی ہے، تو محل کو جھونپڑی بھی بنا سکتی ہے۔
آج مشاہدے میں آیا ہے کہ کچھ مرد اپنے نفس کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی عورت کے جذبات کے ساتھ کھیل جاتے ہیں، اور کچھ عورتیں بھی اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے ایسے مردوں کے احساسات کے ساتھ کھیل جاتی ہیں۔ سب ایک جیسے نہیں ہوتے۔ جیسے کہ مثال ہے: "ایک مچھلی سارے تالاب کو گندا کر دیتی ہے"؛ اسی طرح ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو بظاہر شریف اور انصاف پسند نظر آتے ہیں۔
آج سے کچھ سال پہلے اپنے آبا و اجداد کے دور کا حال اگر اپنے والدین سے سنا جائے، تو اس میں بہت واضح بات سامنے آتی ہے کہ پہلے کس طرح سے ایک دوسرے کی عزت کی جاتی تھی اور ایک دوسرے کی بہن بیٹی کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کس قدر کی جاتی تھی۔ آج کے دور میں دیکھا جائے تو کہنے کو ہم مسلمان ہیں، دین کے ماننے والے ہیں، کلمہ طیبہ پڑھنے والے ہیں؛ پر کیا ہم اس پر پورا اترنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں؟
اگر آج ہم کسی کی بہن بیٹی کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، اپنے نفس کی خواہشات کے لیے جس طرح چاہیں اس کا استعمال کریں اور پھر آخر میں جب اپنا مطلب نکل جائے تو "تم کون اور میں کون؟" اگر عورت اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنا چاہے تو اسے یہ کہہ کر چپ کرا دیا جاتا ہے کہ "لوگ کیا کہیں گے؟" لوگوں کے ڈر سے کسی کے ساتھ حق تلفی ہو جائے، وہ لوگوں کو منظور ہو گا، پر اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے پر ہزاروں قسم کی مثالیں سامنے رکھ دی جاتی ہیں۔ وہ عورت جو اپنے حق کے لیے بولنا چاہتی ہو، کچھ ایسا کام کرنا چاہتی ہو کہ معاشرے میں سدھار آ جائے، اسے صرف "عورت ذات" کہہ کر چپ کرا دیا جاتا ہے۔
بہت سی مثالیں موجود ہیں؛ جیسے کہ لڑکا لڑکی پیار کرتے ہیں، ایک دوسرے کی ہر جائز اور ناجائز بات مان لیتے ہیں، پر جیسے ہی شادی کی بات ان دونوں میں سے کسی ایک نے کی، تو سب سے بڑی دراڑ آ جاتی ہے۔
* "گھر والے نہیں مانیں گے"
* "خاندانی دشمنی چلی آ رہی ہے"
* "وٹہ سٹہ کیا جائے گا"
* "ہم اپنی برادری سے باہر شادی نہیں کرتے"
* "تم غریب ہو"
کیا یہ سب باتیں اس وقت یاد نہیں آئی تھیں جب حرام کی طرف گامزن ہوئے جا رہے تھے؟ اگر لڑکی اصرار کرے تو اس کو زمانے بھر میں رسوا کرنے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ وہ لڑکی کسی کو بتا بھی نہیں سکتی اور چپ رہ کر اذیت برداشت کرتی ہے۔ کیا میرے اس سوال کا جواب کوئی دے سکتا ہے؟
اگر ہم امیری غریبی کے چکروں سے ابھی باہر ہی نہیں نکلے، تو ہم کیا ترقی کریں گے؟ کیا امیر لوگوں کو یہ گوارا ہے کہ وہ اپنی بیوی کے پیسوں سے ترقی حاصل کریں اور ان کی وجہ سے— جیسے کہ آج کل باہر کے ممالک میں جانے کے لیے لوگ امیر خاندان کا پرچار کر رہے ہیں؟ کہاں گئی ان کی مردانگی جب ان کی وجہ سے اس لڑکی کو ایسی ایسی باتیں سننے کو ملیں جن کا دور دور تک ان باتوں سے کوئی واسطہ تک نہ ہو؟
ایسے مردوں کے لیے یہ کہنا بہت آسان اور فخر جیسی بات ہوتی ہے کہ "فلاں کی بہن بیٹی میرے ساتھ تھی"؛ درحقیقت مرد باتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ مرد تب کہلاتا ہے جب وہ دوسروں کی بہن بیٹی کو عزت دے اور اس کی وجہ سے کسی کی بہن بیٹی پر کوئی حرف نہ آئے۔
مجھے نفرت ہے دنیا کے اس رسم و رواج سے جو کسی غریب کی بہن بیٹی کو غریب اور چھوٹی ذات ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔ نفرت ہے ایسے مردوں سے جو غیرت کے نام پر قتل عام کرتے ہیں پر اپنے اوپر کسی بھی طرح کی کوئی پابندی نہیں لگاتے، اور خود دوسروں کی بہن بیٹیوں پر گندی نظر رکھتے ہیں۔ مجھے نفرت ہے ان مردوں سے جو اپنی بہن بیٹی کو پردے میں رکھنا پسند کرتے ہیں اور دوسروں کی بہن بیٹی کو ان کے پردے میں بھی نہیں چھوڑتے۔
آج کا انسان خود کو بادشاہ اور دوسروں کو حقیر سمجھ بیٹھا ہے، جیسے سب کچھ اسی کے ہاتھ میں ہے۔ انسان اپنی آخرت کو کیوں بھول بیٹھا ہے؟ انسان کے پاس کتنا وقت ہے؟ جب اس دنیا میں آیا تو اذان ہوئی اور جب اس دنیا سے گیا تو نماز ہوئی۔ اتنے کم عرصے کی زندگی میں انسان کیوں روپے پیسے اور ذات پات کے چکروں میں انسانیت کو بھول گیا؟ حقوق اللہ معاف ہو سکتے ہیں پر حقوق العباد تب تک معاف نہیں ہو سکتے جب تک وہ انسان آپ کو معاف نہیں کر دیتا جس کا دل آپ کی وجہ سے دکھا ہو۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور ایسی سمجھ بوجھ عطا کی ہے جو کسی اور مخلوق کو عطا نہیں ہوئی۔ دنیا مکافاتِ عمل ہے، انسان جو بوئے گا وہی کاٹے گا۔ انسان اپنی انا، ہٹ دھرم فطرت اور غرور میں یہ بھول بیٹھا ہے کہ جو ظلم، زیادتی اور ناانصافی وہ دوسرے انسانوں کے ساتھ کر رہا ہے، اس کا جواب بھی دینا پڑے گا۔
شیخ سعدی کا فرمان ہے:
"تم چاہے جتنی مرضی ترقی کر لو مگر یہ یاد رکھنا کہ تمہاری منزل کا راستہ دوسروں کے دلوں کو توڑتا اور روندتا ہوا نہ گزرے۔"
جب آپ کسی کے ساتھ کچھ بھی ناانصافی کرتے ہیں تو وہ پلٹ کر آپ کی طرف ضرور آتی ہے۔ اپنے آپ کو اس قابل بناؤ کہ خود کی اہمیت خود کی نظر میں ہو۔ اور ایسے لوگوں کے ڈر و خوف کی وجہ سے چپ نہیں رہنا بلکہ حق کے لیے آواز اٹھانی ہے۔ برائی کو روکنے کے لیے کی گئی کوشش بے شک چھوٹی ہی ہو، کیا پتا کہ تمہاری چھوٹی سی کوشش سے کسی کی زندگی ویران ہونے سے بچ جائے۔
اسلام نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت دی ہے پر اس کا لائحہ عمل (عدل و انصاف کی سخت شرط) بھی بتا دیا ہوا ہے۔ کسی کو اتنی ہمت نہ دو کہ کوئی بھی تمہاری ذات پر تبصرہ کرے۔ لوگ تم پر تب تک باتیں بنائیں گے، جب تک تم انہیں اجازت دو گی۔ اگر تمہاری طرف اٹھنے والی انگلیاں اور تمہاری ایک نظر انہیں کچھ کہنے سے روک دے، تو سمجھ جانا کہ تم نے اپنی اہمیت اپنی نظر میں بنا لی ہے۔
مجھے آپ سب کی رائے درکار ہے۔





