دنیاوی دوڑ اور حقیقی کامیابی، تحریر: مرزا اورنگزیب
نقطہ نظرآج کی اس پرآسائش مگر رو نما ہوتی ہوئی بے سکونی کی دنیا میں، ہر انسان ایک ایسی دوڑ میں شامل ہے جس کا کوئی آخری سرا دکھائی نہیں دیتا۔ صبح کی پہلی کرن سے لے کر رات کے آخری پہر تک، انسان کی تمام تر توانائیاں، اس کی سوچ، اس کی صلاحیتیں اور اس کا قیمتی وقت محض مادی کامیابیوں، عارضی آسائشوں اور سماجی رتبے کے حصول کے لیے وقف ہو چکا ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا کو دل و جان سے سنوارنے میں لگے ہیں جو خود فانی ہے، اور اس کے اصولوں پر پورا اترنے کے لیے اپنی روحانی اور اخلاقی میراث کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ مگر اس اندھی دوڑ کا حاصل کیا ہے؟ جب انسان گہرائی میں اتر کر سوچتا ہے تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ دنیا کے لیے کی گئی ہر وہ بھاگ دوڑ جو خالق سے غافل کر دے، سراسر بے سود ہے اور وہ لوگ جو محض دنیا کو اپنی منزلِ مقصود بنا لیتے ہیں، اصل میں خسارے میں ہیں۔
قرآنِ پاک نے اس حقیقت کو کتنے دلنشین اور واضح انداز میں بیان کیا ہے کہ: "اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے" (آل عمران: 185)۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے سے بڑے بادشاہ، دولت مند اور دنیا کے فتوحات کے چرچے کرنے والے سب کے سب اس مٹی میں اس طرح مل گئے جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔ اس کے باوجود آج کا انسان اس سبق سے غافل ہے۔ ہم مکان سے محلات تک، اور عام گاڑیوں سے لے کر قیمتی سواریوں تک کے حصول کو ہی زندگی کی معراج سمجھ بیٹھے ہیں۔جہاں ہر شخص عارضی قیام کے لیے آیا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم نے مسافر خانے کو ہی اپنا مستقل گھر سمجھ لیا ہے اور اس کی مرمت اور زیبائش میں اپنی ابدی زندگی کی تیاریوں کو بھلا بیٹھے ہیں۔ جو لوگ اپنی ساری عمر صرف مال و دولت اکٹھا کرنے، نام و نمود کمانے اور دنیاوی مفادات کی جنگ لڑنے میں گزار دیتے ہیں، جب ان کا وقتِ آخر قریب آتا ہے تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ہاتھ خالی ہیں اور انہوں نے ایک ایسا سودا کیا جس میں نفع کے بجائے دائمی گھاٹا مقدر ہوا۔اس فانی دنیا کے برعکس، قرآن اور صاحبِ شریعت ہستیوں نے کامیابی کا ایک بالکل مختلف اور روشن معیار ہمارے سامنے رکھا ہے۔ کامیابی کا تعلق کروڑوں روپے کے بنک بیلنس، بلند و بالا عمارتوں یا سماجی شہرت سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق اس ابدی تیاری سے ہے جو انسان اپنی اگلی اور اصلی زندگی (آخرت) کے لیے کرتا ہے۔
ہاں! وہ لوگ جو اس دنیا میں محض غفلت کی زندگی گزارنے کے لیے نہیں آئے، بلکہ یہاں آنے کے بعد اس اصل مقصد کو پہچان چکے ہیں جو ان کی تخلیق کا باعث بنا، وہی حقیقت میں کامیاب ہیں۔ وہ لوگ جو اس دنیا کو اگلی ابدی دنیا کی تیاری کا زینہ بناتے ہیں، جو دن کی روشنی میں بھی اللہ کی رضا کو مقدم رکھتے ہیں اور رات کے اندھیروں میں اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہونے کے لیے بستروں سے اٹھتے ہیں، وہی دراصل عقلِ کل اور کامران ہیں۔
وہ خوش نصیب انسان جو رات کے پچھلے پہر، جب پوری دنیا خوابِ خرگوش میں مگن ہوتی ہے، اپنے رب کے حضور کھڑے ہوتے ہیں، آنسو بہاتے ہیں اور اپنی خطاؤں کی معافی مانگتے ہیں، وہ دنیا کے تمام تر خزانے رکھنے والوں سے زیادہ مالدار اور طاقتور ہیں۔ قرآن کہتا ہے: "ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں"۔
یہ تہجد گزار، یہ ذکر کرنے والے اور یہ اللہ کے راستے میں وقت اور توانائیاں صرف کرنے والے لوگ بظاہر دنیا کی دوڑ میں پیچھے نظر آ سکتے ہیں، لیکن ربِ کائنات کے نزدیک ان کا مقام سب سے بلند ہے۔ وہ دنیا کی چکاچوند سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ ان کی نگاہیں ہمیشہ اس اجر پر ہوتی ہیں جو کبھی ختم نہیں ہونے والا۔ ان کی ہر صبح اور ہر شام اس عزم کے ساتھ شروع ہوتی ہے کہ آج کا دن ان کی آخرت کو سنوارنے کا ذریعہ بنے گا۔آج ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر خود سے یہ سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم کس راستے کے مسافر ہیں؟ کیا ہم اس نہ ختم ہونے والی دوڑ کا حصہ ہیں جو ہمیں خسارے کی طرف لے جا رہی ہے، یا ہم ان لوگوں میں شامل ہیں جو اپنی دنیا کو آخرت کی کھیتی بنا رہے ہیں؟
یہ وقت اپنے ضمیر کو جھنجھوڑنے اور ترجیحات کو بدستور درست کرنے کا ہے۔ دنیا کمائیں، اپنی حلال ضروریات پوری کریں، اس زمین کی آبادی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں، لیکن یاد رکھیں کہ دل کا قبلہ ہمیشہ اللہ کی رضا کی طرف ہونا چاہیے۔ جب ہماری زندگی کا محور و مرکز مادی ترقی کے بجائے رضا الٰہی بن جائے گا، تب ہی ہماری زندگی بامقصد ہوگی اور تب ہی ہم اس حقیقی کامیابی کے حقدار ٹھہریں گے جو زوال سے پاک اور ہمیشہ ہمیشہ کی ہے۔
مزید پڑھیں





