جمعرات، 29 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میری پہچان پاکستان،تحریر: جاویدؔ ڈینی ایل

نقطہ نظر

کبھی کبھی وطن کی عظمت سمجھنے کے لیے تاریخ کی ضخیم کتابیں کھولنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ہجرتوں سے لٹے ہوئے قافلوں کی یاد، سرحدوں پر جاگتی آنکھوں کا عزم، کھیتوں میں محنت کرتے کسان کے چہرے کی تھکن اور کسی معصوم بچے کی زبان سے نکلتا ہوا نعرہ ’’پاکستان زندہ باد‘‘ ہی دل میں محبت کا چراغ روشن کر دیتا ہے۔ تب احساس ہوتا ہے کہ پاکستان محض زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ ہماری تہذیب، قربانیوں، مشترکہ تاریخ، قومی شناخت اور آنے والی نسلوں کے خوابوں کا نام ہے۔پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخی جدوجہد کا ثمر ہے، لیکن اس کی تشکیل میں مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسیحی برادری کی حمایت اور خدمات بھی قومی تاریخ کا قابلِ قدر حصہ ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا کسی کی قربانی کم کرنا نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ کو اس کی پوری وسعت کے ساتھ دیکھنا ہے۔


یہاں ایک بنیادی حقیقت یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس خطے میں مسیحیوں کی تاریخ قیامِ پاکستان سے کہیں پرانی ہے۔ مسیحی خاندان، عبادت گاہیں، تعلیمی ادارے، ہسپتال اور سماجی خدمت کے مراکز آزادی سے بہت پہلے موجود تھے۔ ان کے آباؤاجداد نے اسی سرزمین پر زندگی گزاری، محنت کی اور نسلیں پروان چڑھائیں۔ اس خطے میں بسنے والے مسیحی کہیں باہر سے نہیں آئے، یہ مہاجر نہیں اور نہ ہی یہ کسی کی امانت ہیں۔ یہ پاکستان سے پہلے بھی اسی سرزمین کے باسی تھے۔ان کی وطن سے وابستگی کسی سیاسی فیصلے کی محتاج نہیں بلکہ آبائی، تاریخی اور تہذیبی نسبت کا تسلسل ہے۔


اسی تاریخی حقیقت کو قتیلؔ شفائی کا یہ شعر نہایت خوب صورتی سے بیان کرتا ہے:

ایک یہی پہچان تھی اپنی اِس پہچان سے پہلے بھی

پاکستان کا شہری تھا مَیں پاکستان سے پہلے بھی


یہ شعر پاکستانی مسیحیوں کے احساسِ وابستگی کی بھرپور ترجمانی کرتا ہے۔ ان کی جڑیں اسی مٹی میں پیوست ہیں، ان کے بزرگوں کی قبریں اسی سرزمین میں ہیں اور ان کی نسلوں کا مستقبل بھی اسی وطن سے وابستہ ہے۔تحریکِ پاکستان کے دوران پنجاب اسمبلی کے مسیحی سپیکر دیوان بہادر ایس پی سنگھا اور ان کے رفقا کی حمایت تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔ جون 1947ء میں پنجاب کی تقسیم سے متعلق کارروائیوں کے دوران مسیحی نمائندوں نے پاکستان کے حق میں مؤقف اختیار کیا۔ اگرچہ ایس پی سنگھا کے ووٹ کو تنہا فیصلہ کن قرار دینے کی تاریخی تعبیر پر اختلاف موجود ہے، تاہم ان کی سیاسی حمایت اور مسیحی نمائندوں کی شرکت ہماری قومی تاریخ کا قابلِ فخر باب ہے۔


قیامِ پاکستان کے بعد بھی مسیحی برادری نے تعمیرِ وطن میں اپنی صلاحیتیں وقف کیے رکھیں۔ تعلیم کے میدان میں مسیحی اداروں نے لاکھوں طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت کی۔ ان درس گاہوں سے مختلف مذاہب کے طلبہ نے یکساں استفادہ کیا اور زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ اسی طرح مسیحی ہسپتالوں، نرسوں، ڈاکٹروں اور طبی کارکنوں نے مذہبی امتیاز کے بغیر انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔پاکستان کی مسلح افواج میں مسیحی افسروں اور جوانوں کی خدمات قومی افتخار کا روشن باب ہیں۔ گروپ کیپٹن سیسل چوہدری جیسے بہادر سپوتوں نے دفاعِ وطن میں شجاعت اور پیشہ ورانہ مہارت کی مثالیں قائم کیں۔ ان کی خدمات یاد دلاتی ہیں کہ وطن کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے جذبے کا تعلق کسی ایک مذہبی شناخت سے نہیں بلکہ پاکستان سے غیرمشروط وفاداری سے ہے۔


قومی زندگی میں مسیحی اساتذہ، ادیبوں، صحافیوں، وکلا، فنکاروں، سرکاری ملازمین اور محنت کشوں کا کردار بھی قابلِ تحسین ہے۔ ہر وہ ہاتھ جو پاکستان کو سنوارتا ہے، احترام کا مستحق ہے۔ وطن سے محبت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم اپنے قومی ضمیر سے سوال کریں: کیا ہم نے ہر شہری کو وہ احترام، تحفظ اور مساوی مواقع فراہم کیے ہیں جن کا وہ حق دار ہے؟ پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو قانون کے سامنے مساوات کی ضمانت دیتا ہے۔ مذہبی آزادی، تعلیم، روزگار، انصاف اور تحفظ ہر پاکستانی کے بنیادی حقوق ہیں۔ مسیحی برادری کی حب الوطنی کا اعتراف اسی وقت بامعنی ہوگا جب اس کے شہری حقوق کو بھی پوری سنجیدگی سے تسلیم کیا جائے۔


ہمیں ایک ایسا پاکستان تعمیر کرنا ہے جہاں مسجد کی اذان اور گرجاگھر کی گھنٹی باہمی احترام کی فضا میں سنائی دیں، جہاں کسی بچے کا مستقبل اس کے مذہب یا خاندانی پس منظر سے محدود نہ ہو، جہاں عبادت گاہوں کا تحفظ ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ترجیح ہو اور جہاں اختلافِ عقیدہ، نفرت یا امتیاز کا جواز نہ بن سکے۔


حب الوطنی صرف یومِ آزادی پرسبز و سفید ہلالی پرچم لہرانے یا قومی نعرے بلند کرنے کا نام نہیں۔ یہ دیانت داری سے ذمہ داریاں ادا کرنے، قانون کی پاسداری، کمزور کے ساتھ کھڑے ہونے، سچ بولنے اور قومی وسائل کو امانت سمجھنے کا نام ہے۔ ایک استاد کی دیانت، ایک مزدور کی محنت، ایک قلم کار کی سچائی، ایک ڈاکٹر کی خدمت اور ایک سپاہی کی قربانی وطن سے محبت کی روشن صورتیں ہیں۔ اسی احساس کو میں نے اپنے ایک قطعے میں یوں بیان کیا ہے؛

عمارت حوصلوں کی صبر سے تعمیر کرنا ہے

ہمیں خوابوں کی خود ہی دوستو! تعبیر کرنا ہے

یہ دھرتی مان ہے اپنا، یہی پہچان ہے اپنی

اِسے آباد رکھنا ہے، اِسے تطہیر کرنا ہے


یہ دھرتی ہمارے بزرگوں کی یادوں، ہمارے آج کی جدوجہد اور آنے والی نسلوں کی امیدوں کی امین ہے۔ ہمیں اس سے شکوہ کرنے کا حق ضرور ہے، لیکن اپنے کردار کا محاسبہ بھی ضروری ہے۔ پاکستان کی ترقی کسی ایک طبقے، مذہب یا زبان کی ذمہ داری نہیں؛ یہ ہم سب کی مشترکہ منزل ہے۔میری پہچان پاکستان ہے، کیونکہ میری جڑیں اِسی مٹی میں ہیں، میری محبت اسی وطن سے ہے اور میری آرزو ایک ایسا پاکستان ہے جہاں ہر شہری فخر سے کہہ سکے کہ یہ ملک میرا بھی ہے۔


آخر کب تک ہمیں اپنی ہی سرزمین پر اپنی وفاداری، حب الوطنی اور شناخت کا ثبوت دینا پڑے گا؟ آخر کب تک اس وطن کی تعمیر و ترقی میں اپنا خون پسینہ بہانے والے شہریوں کو مذہبی شناخت کی بنیاد پر الگ سمجھا جائے گا؟ ہمیں کسی سے حب الوطنی کی سند نہیں چاہیے، کیونکہ ہماری تاریخ، ہماری قربانیاں اور ہماری خدمات خود ہماری گواہ ہیں۔ ہم اس دھرتی کے وارث بھی ہیں، محافظ بھی اور اس کے روشن مستقبل کے خواب دیکھنے والے بھی۔ ہماری خواہش کسی امتیازی رعایت کی نہیں، بلکہ مساوی حقوق، احترام اور انصاف کی ہے۔ کاش! وہ دن جلد آئے جب کسی پاکستانی کو یہ ثابت نہ کرنا پڑے کہ وہ بھی اس وطن کا برابر کا شہری ہے۔ کیونکہ پاکستان ہم سب کا ہے، اور ہم سب کی پہچان پاکستان ہے!