جمعرات، 29 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ریاست مخالف باتوں کے بعد فضل الرحمان کی کوئی عزت نہیں رہی،محسن نقوی


وزیر داخلہ محسن نقوی نے مولا فضل الرحمان کے مبینہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ "میں فضل الرحمن کی بہت عزت کرتا تھا، لیکن ریاست پر تھوکنے کے بیان کے بعد فضل الرحمن کیلئے احترام کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔


یہ بیان اکتوبر 2026 میں سامنے آیا ہے جب ملکی سیاسی صورتحال اور مولانا فضل الرحمان کے مختلف بیانات پر حکومت اور ان کے درمیان لفظی جنگ جاری ہے-


سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے مولانا فضل الرحمان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اُس دن تک ماں ہوتی ہے، جب تک یہ اسے نچوڑتے ہیں۔ جب تک ریاست سے مال لیتے ہیں، ریاست اچھی ہوتی ہے، لیکن جب ریاست اور حکومت میں حصہ نہ ملے تو ریاست پر تھوک دو۔


انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر فضل الرحمن کی بہت عزت کرتا تھا، لیکن ریاست پر تھوکنے کے بیان کے بعد فضل الرحمن کیلئے احترام کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی،آپ سو اختلاف کریں آپ سو سیاستیں کریں لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جو کسی بھی سیاستدان کو زیب نہیں دیتیں-


سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پچھلے کچھ عرصے سے میرے خلاف مہم چل رہی رہی، کہا گیا کہ ہم ایران کوئی دفاعی معاہدہ کرنے گئے تھے، ہم دفاعی معاہدہ کرنے نہیں موجودہ بحران کے سلسلے میں گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیردفاع سے سوال کیا گیا ان کے علم میں نہیں تھا، ان کو اس لئے علم نہیں تھا کہ کیونکہ دفاع سے متعلق بات نہیں ہوئی، وزیر اعظم نے خصوصی ٹاسک دیا اس لئے گیا، مجھے باہر جانے کا شوق نہیں ہے، مولانا صاحب نے اداروں کے حوالے سے غلاضت کہی۔


کامران مرتضی نے وزیر داخلہ کے الفاظ پر اعتراض کیا، محسن نقوی نے کہا کہ جب تک یہ ریاست سے مال لے لیں ریاست اچھی ہوتی ہے، جب مال نہ ملے تو پھر خلاف ہو جاتے ہیں، یہ تنقید کرتے ہیں تو جواب سننے کا حوصلہ بھی رکھیں، یہ اسلام کو بزنس کے لئے اور سیاست کے لئے استعمال کرتے ہیں۔


محسن نقوی نے کہا کہ  جے یو آئی کافی دنوں سے میرے اوپر  تبصرے کر رہی ہے، میں ذاتی طور پر مولانا فضل الرحمان کا دل سے احترام اور عزت کرتا تھا، لیکن کل جب انہوں نے کہا کہ میں ریاست پر تھوکتا ہوں، وہ احترام ختم ہو گیا، انہوں نے احترام کی گنجائش نہیں چھوڑی، انہوں نے وزیر دفاع سے سوال کیا کہ دفاعی معاملہ تھا تو اپ کیوں نہیں گئے۔


وزیر داخلہ نے کہا کہ میرے اوپر اعتراض کیا کہ میں کیوں گیا تھا تو وہ دفاعی معاہدہ نہیں تھا، ایران کا جو دورہ تھا وہ کسی صورت دفاعی معاہدے کے لیے نہیں تھا، ان کی مثال وہ ہے کہ اگر ان کو حکومت میں حصہ ملے تو سب ٹھیک اور اگر حکومت میں کوئی کرادار نہیں ہے تو مخالف باتیں شروع کر دیں۔


وزیر داخلہ کے خطاب کے دوران اپوزیشن نے ہنگامہ آرائی کی جب کہ  محسن نقوی نے کہا کہ اب آپ کو ریاست سے پیسے اور نوکری نہیں ملنی، یہ لوگ گورنر راج سے پہلے کہتے تھے ہماری ان سے جان چھڑوائیں، جب یہ ریاست کو نچوڑیں تو ان کی ماں ہوتی ہے۔