Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ہر معافی تعلق نہیں بچاتی،تحریر: زینب جہانزیب

zainab jahazeb

ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ ہر ٹوٹا ہوا رشتہ صرف ایک معافی سے دوبارہ جڑ سکتا ہے۔ شاید اسی لیے، جب کوئی تعلق بکھرنے لگتا ہے تو سب سے پہلے یہی مشورہ دیا جاتا ہے کہ ’’معاف کر دو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘ مگر زندگی ہمیشہ اتنی سادہ نہیں ہوتی۔ بعض اوقات معافی دل کا بوجھ تو ہلکا کر دیتی ہے، مگر ٹوٹا ہوا اعتماد دوبارہ نہیں جوڑ پاتی۔ کچھ رشتے معافی کے بعد بھی واپس نہیں آتے، کیونکہ تعلق صرف الفاظ سے نہیں، رویّوں اور یقین سے زندہ رہتا ہے۔

معافی محض ایک لفظ نہیں، ایک کیفیت ہے۔ یہ انسان کو انتقام کی آگ سے نکال سکتی ہے، دل میں جمع کڑواہٹ کو دھو سکتی ہے اور روح کو ایک عجیب سا سکون دے سکتی ہے۔ لیکن معاف کر دینا اور پہلے جیسا ہو جانا، دو بالکل مختلف باتیں ہیں۔ کچھ دراڑیں وقت کے ساتھ مدھم تو پڑ جاتی ہیں، مگر ان کے نشان انسان کے اندر کہیں محفوظ رہتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ دل بھولنے کی جگہ نہیں، محسوس کرنے کی جگہ ہے۔

رشتے محبت سے بنتے ہیں، مگر اعتماد سے قائم رہتے ہیں۔ محبت کبھی کبھی انسان کو بہت کچھ برداشت کرنے پر آمادہ کر دیتی ہے، لیکن اعتماد کے ٹوٹنے کے بعد وہی محبت ایک سوال بن جاتی ہے۔ اعتماد عجیب چیز ہے؛ اسے بنانے میں برسوں لگ سکتے ہیں، مگر اسے توڑنے کے لیے کبھی ایک لمحہ ہی کافی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کسی کو دل سے معاف کرنے کے باوجود، اس کے سامنے پہلے جیسا بےفکر نہیں رہ پاتا۔

اور ہر معذرت پچھتاوے سے پیدا نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ معافی اس لیے مانگتے ہیں کہ تعلق ختم نہ ہو، کچھ اس لیے کہ اپنی غلطی کا بوجھ ہلکا ہو جائے، اور کچھ صرف اس لیے کہ سامنے والا دوبارہ ان کی زندگی میں جگہ دے دے۔ مگر حقیقی معذرت صرف زبان سے نہیں، رویّے سے ثابت ہوتی ہے۔ اگر ’’مجھے افسوس ہے‘‘ کے بعد وہی رویہ، وہی تکلیف اور وہی غلطی دوبارہ لوٹ آئے، تو معذرت محض ایک جملہ رہ جاتی ہے، تبدیلی نہیں بنتی۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی کو معاف کرنا اور اسے دوبارہ اپنی زندگی میں وہی مقام دینا، دو الگ فیصلے ہیں۔ آپ کسی کو دل سے معاف کر سکتے ہیں اور پھر بھی اپنی حدود قائم رکھ سکتے ہیں۔ آپ نفرت چھوڑ سکتے ہیں، مگر احتیاط نہیں۔ آپ دل سے بددعا نکال سکتے ہیں، مگر اپنی زندگی کا دروازہ دوبارہ کھولنے سے انکار کر سکتے ہیں۔ یہ بےرحمی نہیں، خودداری ہے؛ کیونکہ ہر تعلق میں محبت کے ساتھ تحفظ کا احساس بھی ضروری ہوتا ہے۔

کبھی کبھی ہم تعلق بچانے کی کوشش میں اپنی ذات ہی ہار دیتے ہیں۔ بار بار نظرانداز کرنا، ہر تکلیف کو ’’چلو، معاف کیا‘‘ کہہ دینا اور ہر مرتبہ یہ امید باندھ لینا کہ شاید اب سب بدل جائے گا، انسان کو دوسروں سے پہلے خود سے دور کر دیتا ہے۔ معافی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنے زخموں کی نفی کریں۔ معافی کا اصل مطلب تو یہ ہے کہ آپ زخم کو اپنی پوری زندگی کا مزاج بننے سے روک دیں۔

زندگی کا ایک تلخ، مگر سچا سبق یہ بھی ہے کہ ہر شخص ہماری معافی کا مستحق ہو سکتا ہے، مگر ہر شخص ہماری قربت کا مستحق نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ ہماری زندگی میں قیام کے لیے نہیں، شعور کے لیے آتے ہیں۔ وہ ہمیں بتا جاتے ہیں کہ کہاں محبت کرنی ہے، کہاں رکنا ہے اور کہاں خاموشی سے پیچھے ہٹ جانا ہے۔ ہر رشتہ منزل نہیں ہوتا؛ کچھ تعلقات راستے ہوتے ہیں، جن سے گزر کر انسان خود تک پہنچتا ہے۔

شاید پختگی کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ انسان معاف کرنا سیکھ لے، مگر خود کو بھولنے پر مجبور نہ کرے۔ یاد رکھنا ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتا؛ کبھی کبھی یادداشت انسان کی حفاظت کرتی ہے۔ اگر ہم ہر زخم کو مکمل طور پر بھلا دیں تو ممکن ہے ہم دوبارہ اسی جگہ جا کھڑے ہوں، جہاں سے کبھی بڑی مشکل سے نکلے تھے۔

اسی لیے، اگر کبھی کسی کو معاف کریں تو اپنے دل کے سکون کے لیے کیجیے، اس امید پر نہیں کہ ہر تعلق دوبارہ پہلے جیسا ہو جائے گا۔ کچھ رشتے معافی کے بعد بھی ختم ہو جاتے ہیں، مگر دل میں نفرت باقی نہیں رہتی۔ اور شاید یہی معافی کی سب سے خوبصورت صورت ہے؛ جب انسان کسی کو اپنے دل سے آزاد کر دے، مگر خود بھی اس تعلق کی قید سے آزاد ہو جائے۔

شاید رشتوں کی آخری سچائی یہی ہے کہ ہر معافی کا انجام ملاپ نہیں ہوتا؛ کچھ معافیاں صرف اس لیے ہوتی ہیں کہ ہم ماضی کو دفن کر سکیں۔

زخم رہ جائیں تو رہنے دو، انہیں قصہ نہ بناؤ،

ہر بچھڑنے والے کو پھر سے اپنا حصہ نہ بناؤ۔

کچھ لوگ معافی کے بعد بھی دور ہی اچھے لگتے ہیں،

زینبؔ، ہر شخص کی دل میں دوبارہ جگہ نہ بناؤ۔