پمز میں ہائی الرٹ نافذ، طبی و معاون عملے کی چھٹیوں پر پابندی عائد

اسلام آباد: وفاقی اسپتال پمز میں ہائی الرٹ نافذ کرتے ہوئے ضروری طبی اور معاون عملے کی 24 گھنٹے دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ جاری سرکلر کے مطابق پمز اسپتال میں ہائی الرٹ 30 ستمبر 2026 تک برقرار رہے گا، جبکہ میڈیکل اور نان میڈیکل شعبوں کے سربراہان کی چھٹیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
ہائی الرٹ کے دوران ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکس اور معاون عملے کی ہر وقت دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تمام افسران اور عملے کو ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر دستیاب رہنے اور بروقت ردعمل دینے کی ہدایت بھی کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
سرکلر میں پمز اسپتال کی ایمرجنسی، آئی سی یو، آپریشن تھیٹر، ٹراما، نرسنگ اور ڈائیگناسٹک سروسز کو مکمل طور پر فعال رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بلڈ بینک اور فارمیسی سروسز کو بھی مکمل فعال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ہائی الرٹ کے دوران پمز میں ایمبولینسز کی 24 گھنٹے دستیابی یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ ایمرجنسی اور ایمبولینس کے راستے ہر وقت کلیئر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ مریضوں کی منتقلی اور ہنگامی طبی امداد میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ ڈائریکٹر ایمرجنسی پمز اسپتال ڈاکٹر شرجیل ظہیر کو ہنگامی صورتحال سے متعلق امور کے لیے فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔
سرکلر کے مطابق بڑے پیمانے پر مریضوں کی آمد کی صورت میں اضافی بیڈز، اسٹریچرز اور وہیل چیئرز کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی۔ ہسپتال میں آکسیجن، خون، ادویات، ضروری طبی آلات اور دیگر مطلوبہ سامان کا وافر اسٹاک رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
ایمرجنسی، مرکزی داخلی راستوں اور حساس مقامات پر سیکیورٹی سخت رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ ہائی الرٹ کے دوران طبی رخصت کے علاوہ عملے کی دیگر تمام چھٹیاں محدود کردی گئی ہیں۔ متعلقہ حکام کو ڈیوٹی روسٹرز مسلسل اپ ڈیٹ رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
نیورو سرجری، آرتھوپیڈک، جنرل سرجری اور اورل اینڈ میکسیلو فیشل سرجری کے زیادہ سے زیادہ عملے کو آن کال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر متعلقہ ماہرین فوری طور پر طبی خدمات فراہم کر سکیں۔ پمز اسپتال کے ایس ڈبلیو فور میں 20 مخصوص بیڈز ہر وقت دستیاب رکھنے کا حکم بھی دیا گیا ہے، تاکہ ہنگامی صورتحال یا بڑی تعداد میں مریضوں کی آمد کی صورت میں فوری طور پر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
مزید پڑھیں





