ایران کی امریکا سے مذاکرات کیلئے 7 شرائط پیش کرنے کی تصدیق

ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے سات شرائط پیش کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کے آغاز کے لیے سات شرائط پیش کی گئی ہیں۔ محسن رضائی نے کہا کہ اگر امریکا اپنے پیدا کردہ بحران سے نکلنا اور مزید الجھنے سے بچنا چاہتا ہے تو اسے ایران کے حقوق اور پیش کردہ شرائط کو تسلیم کرنا ہوگا۔
اس سے قبل عرب میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محسن رضائی نے بتایا تھا کہ قطر اور پاکستان کی حکومتیں ایران کے ساتھ مسلسل مشاورت اور رابطوں میں ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے اپنی شرائط سے دونوں ممالک اور امریکا کو آگاہ کر دیا ہے اور اب امریکی ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ محسن رضائی نے کہا کہ ایران کی شرائط میں منجمد اثاثوں کا اجرا، تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت سے باز رہنا، انقلاب مخالفین کے ساتھ تعاون روکنا، ایرانی سرزمین پر کسی بھی جارحیت کا خاتمہ اور بحری ناکہ بندی اٹھانا شامل ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دوبارہ جنگ شروع ہوئی تو ایران ان تمام امریکی فضائی اڈوں کو پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ نشانہ بنائے گا جہاں سے امریکی طیارے پرواز کرتے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیا میں امریکا کا نظام ختم ہو چکا ہے اور نیا نظام علاقائی ممالک نافذ کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ایران کی شرائط پوری نہیں کی جاتیں، آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی۔
ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ ایران کے پیغامات اور شرائط ثالثوں کے ذریعے صراحت کے ساتھ امریکا تک پہنچائی جا چکی ہیں۔ ان کے بقول دشمن کو اچھی طرح معلوم ہے کہ فریب اور یک طرفہ تسلط کے راستے بند ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں





