ہم روز ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، "آپ کیسے ہیں؟"
اور سامنے والا ہمیشہ کی طرح مسکرا کر جواب دیتا ہے، "الحمدللہ، بالکل ٹھیک۔"
پھر بات ختم ہو جاتی ہے۔
مگر کبھی ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس "بالکل ٹھیک" کے پیچھے کیا چھپا ہے؟
کتنے لوگ ایسے ہیں جو صبح اٹھتے ہی اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجا لیتے ہیں۔ کیونکہ گھر والوں کو اپنی پریشانی نہیں بتانی ہے۔ کتنی عورتیں ایسی ہیں جو بچوں کے سامنے ہنستی ہیں۔ شوہر کے سامنے خاموش رہتی ہیں۔ اور رات کو تکیے میں منہ چھپا کر اپنے آنسوؤں کو بہنے دیتی ہیں۔
کتنے مرد ایسے ہیں جو پورا دن دوسروں کی ضرورتیں پوری کرتے ہیں مگر اپنی ضرورت بتاتے ہوئے شرماتے ہیں۔
کتنے نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ ہیں مگر سوشل میڈیا پر کامیابی کی تصویریں لگا رہے ہیں۔
کتنے بزرگ گھر کے ایک کونے میں بیٹھے اس انتظار میں ہیں کہ کوئی آ کر دو گھڑی ان کے پاس بیٹھ جائے۔
اور کتنے بچے ایسے ہیں جنہیں کھلونوں سے زیادہ اپنے والدین کا وقت چاہیے ہے۔
ہم سب ٹھیک ہیں۔
شاید یہی ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔
ہم نے اپنی تکلیف چھپانے کو صبر، اپنی خاموشی کو برداشت اور اپنے آنسو روکنے کو مضبوطی کا نام دے دیا ہے۔ ہمیں بچپن سے سکھایا گیا کہ "لوگ کیا کہیں گے؟"
بس پھر ہم نے اپنی پوری زندگی لوگوں کے کہنے کے مطابق گزار دینی ہے۔
دکھ ہوا تو کہا، "کوئی بات نہیں۔" دل ٹوٹا تو کہا، "میں ٹھیک ہوں۔" کسی نے زیادتی کی تو خاموش رہے۔ کسی نے حق مارا تو مسکرا دیے۔
کسی نے دل دکھایا تو رشتہ بچانے کے لیے خود کو ہی سمجھا لیا۔ اور جب اندر سے بکھر گئے تو آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے کہا:
"مضبوط بنو۔"
مگر کیا مضبوط ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کبھی روئے ہی نہ؟ کیا آنسو کمزوری ہیں؟ نہیں۔
آنسو شاید انسان کے اندر موجود ان احساسات کی زبان ہیں جنہیں الفاظ بیان نہیں کر پاتے ہیں۔
خوشی حد سے بڑھے تو بھی آنکھ نم ہو جاتی ہے اور غم دل کی حدیں توڑ دے تو بھی آنکھ راستہ بن جاتی ہے۔
مسئلہ آنسو نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ایک دوسرے کے آنسو سمجھنا چھوڑ دیے ہیں۔ ہم کسی کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں مگر آنکھوں کی تھکن نہیں پڑھتے ہیں۔ ہم کسی کی خاموشی کو غرور سمجھ لیتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ شاید وہ اندر سے کسی جنگ میں مصروف ہو۔
ہم کسی کے کم یا زیادہ بولنے کو بدتمیزی کہہ دیتے ہیں مگر یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ شاید اس کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے یا کچھ بھی نہیں ہے۔ جب کہ اسے سننے والا کوئی نہیں ہے۔ آج ہمارے پاس ہر چیز کے لیے وقت ہے۔ موبائل کے لیے وقت ہے۔ سوشل میڈیا کے لیے وقت ہے۔ دوسروں کی زندگی دیکھنے کے لیے وقت ہے۔ دوسروں پر تبصرہ کرنے کے لیے وقت ہے مگر اپنے ہی گھر میں بیٹھے کسی پریشان انسان کے پاس دس منٹ بیٹھنے کا وقت نہیں ہے۔
ہم "آن لائن" لوگوں سے جڑے ہوئے ہیں مگر اپنے اردگرد موجود لوگوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
کبھی غور کیجیے، ہمارے گھروں میں کتنی باتیں صرف اس لیے نہیں ہوتیں کہ ہم سننے کا حوصلہ نہیں رکھتے ہیں۔
ایک بیٹی ماں سے کچھ کہنا چاہتی ہے مگر سوچتی ہے کہ ماں پریشان ہو جائے گی۔
ایک بیٹا باپ کے سامنے اپنی ناکامی کا ذکر نہیں کرتا، کیونکہ اسے ڈر ہے کہ باپ مایوس ہو جائے گا۔
ایک بیوی اپنی تھکن چھپا لیتی ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اس کی تھکن کو بھی شکایت سمجھ لیا جائے گا۔
ایک شوہر اپنی پریشانی نہیں بتاتا، کیونکہ اسے بچپن سے سکھایا گیا ہے کہ مرد روتے نہیں ہیں۔
اور یوں ایک ہی گھر میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے سے محبت تو کرتے ہیں مگر ایک دوسرے کے دکھ سے بے خبر رہتے ہیں۔
شاید ہمیں اپنے گھروں میں ایک نئی روایت شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی سے صرف یہ نہ پوچھیں: "کیسے ہو؟" بلکہ کبھی اس کے پاس بیٹھ کر پوچھیں: "سچ بتاؤ، دل کیسا ہے؟"
اور اگر وہ خاموش ہو جائے تو فوراً نصیحت نہ شروع کریں۔ اسے بولنے دیں۔ اگر آنکھیں بھر آئیں تو آنسو پونچھنے سے پہلے اسے رونے دیں۔ ہر دکھ کا علاج مشورہ نہیں ہوتا ہے۔ کچھ دکھ صرف کسی کے ساتھ بیٹھنے سے ہلکے ہو جاتے ہیں۔ کچھ زخم دوا سے نہیں، توجہ سے بھرتے ہیں۔ کچھ لوگ ہم سے حل نہیں مانگتے، صرف یہ چاہتے ہیں کہ بغیر فیصلہ سنائے کوئی ان کی بات سن لے۔ ہمیں اپنے رویوں پر بھی غور کرنا ہوگا۔
ہم اکثر دوسروں کے لیے وہ الفاظ استعمال کر دیتے ہیں جن کا زخم ہمیں خود محسوس نہیں ہوتا ہے۔
"تم تو بہت حساس ہو۔"
"اتنی سی بات پر رو رہی ہو؟"
"تمہیں تو ہر وقت مسئلہ رہتا ہے۔"
"لوگ اس سے بھی زیادہ مشکلات میں ہیں۔"
یہ جملے شاید بولنے والے کے لیے معمولی ہوں مگر سننے والے کے دل میں برسوں رہ سکتے ہیں۔ کسی کے دکھ کا موازنہ کسی دوسرے کے دکھ سے نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اگر کسی کے پاس روٹی نہیں تو یہ دلیل نہیں کہ جس کے پاس روٹی ہے، اسے بھوک نہیں لگ سکتی ہے۔
ہر انسان کی اپنی جنگ ہے۔
کسی کی جنگ نظر آتی ہے، تو کسی کی نہیں آتی۔ کسی کے ہاتھ پر زخم ہوتا ہے تو کسی کے دل پر لگتا ہے۔
اور دل کے زخموں کے لیے نہ پٹی ہوتی ہے، نہ کوئی ظاہری نشان ہوتا ہے۔
اس لیے شاید ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ تھوڑا نرم ہونے کی ضرورت ہے۔ کسی کے لیے ایک اچھا جملہ کہہ دیجیے۔ کسی تھکے ہوئے انسان کے لیے چائے بنا دیجیے۔ کسی بزرگ کے پاس بیٹھ جائیے۔ کسی بچے کی بات توجہ سے سن لیجیے۔
کسی دوست کو بلا وجہ فون کر کے پوچھ لیجیے،
"بس یوں ہی یاد آئی، بتاؤ کیسے ہو؟"
یقین کیجیے، کبھی کبھی ایک چھوٹی سی توجہ کسی کے پورے دن کا بوجھ کم کر دیتی ہے۔ زندگی بہت مختصر ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ ہمارے ساتھ بیٹھا ہوا شخص اندر سے کس کیفیت سے گزر رہا ہے۔ اس لیے رشتوں کو انا سے بڑا رکھیں۔
معافی کو ضد سے بڑا رکھیں۔ محبت کو خاموشی سے بڑا رکھیں۔ اور انسان کو اس کی غلطی سے پہلے دیکھیں۔ کیونکہ ہم سب کہیں نہ کہیں ٹوٹے ہوئے ہیں۔
ہم سب کے اندر کچھ ایسی کہانیاں ہیں جو ہم نے کسی کو نہیں سنائی ہیں۔ ہم سب کے دل میں کچھ ایسے نام ہیں جنہیں یاد کر کے آج بھی آنکھ نم ہو جاتی ہے۔ ہم سب کے پاس کچھ ایسے خواب ہیں جو ادھورے رہ گئے۔
اور کچھ ایسے لوگ ہیں جن کی کمی پوری زندگی محسوس ہوتی رہے گی۔
پھر بھی ہم صبح اٹھتے ہیں، چہرہ دھوتے ہیں، مسکراتے ہیں اور دنیا سے کہتے ہیں:
"میں بالکل ٹھیک ہوں۔"
شاید ہم واقعی ٹھیک نہیں ہوتے ہیں مگر زندگی چلانے کے لیے کبھی کبھی ایسا کہنا پڑتا ہے۔
تو اگلی بار جب کوئی آپ سے کہے، "میں ٹھیک ہوں"
تو صرف اس کے الفاظ پر یقین نہ کیجیے۔ ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھوں میں دیکھیے۔ شاید وہاں کوئی ایسی کہانی موجود ہو جسے صرف ایک مہربان سامع کی ضرورت ہو۔ اور اگر آپ کے پاس کسی کے دکھ کا علاج نہیں، تو کوئی بات نہیں ہے۔
بس اتنا کیجیے کہ اس کے دکھ میں اسے اکیلا نہ چھوڑیں۔ کیونکہ بعض اوقات انسان کو زندگی سے نہیں، تنہائی سے ہارنے کا خوف ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں





