Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سکھیکی منڈی سے خانقاہ ڈوگراں روڈ ایک خستہ حال رستہ، تحریر : سدرہ قیوم

نقطہ نظر

حافظ آباد کی تحصیل پنڈی بھٹیاں کا یہ مرکزی روڈ نہیں، بلکہ ہزاروں لوگوں کی روزمرہ زندگی کی شہ رگ ہے۔ سکھیکی منڈی سے خانقاہ ڈوگراں تک جانے والی یہ سڑک گزشتہ تقریباً 20 سے 30 سال سے اپنی بدحالی پر نوحہ کناں ہے، اور آج حالت یہ ہے کہ اسے سڑک کہنا بھی سڑک کی توہین لگتا ہے۔

جگہ جگہ گہرے گڑھے، اکھڑا ہوا تارکول، اور بارش کے بعد جوہڑوں میں تبدیل ہوتے کھڈے۔ یہ منظر کسی پسماندہ علاقے کا نہیں، بلکہ ضلع حافظ آباد کے ایک مصروف ترین تجارتی راستے کا ہے۔


ایک سڑک، کئی مسائل


1. انسانی جانوں کو خطرہ: یہ سڑک روزانہ حادثات کا سبب بن رہی ہے۔ موٹر سائیکل سوار گڑھوں میں توازن کھو کر گر جاتے ہیں۔ خواتین، سکول کے بچے اور بزرگ اس راستے پر سفر کرتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں۔


2. معاشی قتل: سکھیکی منڈی غلہ منڈی ہے۔ یہاں سے گندم، چاول اور دیگر اجناس پورے پنجاب میں جاتی ہیں۔ ٹوٹی سڑک کی وجہ سے گاڑیوں کے ٹائر پنکچر، سسپنشن خراب اور ڈیزل کا خرچہ دگنا ہو گیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے اس روڈ پر آنے سے انکار کرنا شروع کر دیا ہے، جس کا براہ راست نقصان کسان اور چھوٹے تاجر کو ہو رہا ہے۔


3. تعلیم اور صحت کا نقصان: اسی روڈ پر کئی دیہات کے بچے سکول جاتے ہیں۔ بارش کے دنوں میں یہ روڈ ناقابلِ عبور ہو جاتا ہے تو بچوں کی حاضری نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ کسی ایمرجنسی میں مریض کو حافظ آباد یا لاہور لے جانا ہو تو مریض راستے میں ہی دم توڑ دیتا ہے


سوال یہ نہیں کہ روڈ ٹوٹا کیوں ہے، سوال یہ ہے کہ بنا کیوں نہیں؟

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ اور وزیر اعظم شہباز شریف صاحب سے اپیل ہے کہ اس طرف جلد توجہ دی جائے ۔

تجویز: روڈ کی جلد تعمیر - وقت کی سب سے بڑی ضرورت


صبح سویرے جب ایک مزدور فیکٹری جانے کے لیے گھر سے نکلتا ہے، ایک طالبعلم سکول جانے کے لیے سائیکل نکالتا ہے اور ایک مریض ہسپتال جانے کے لیے رکشے کا انتظار کرتا ہے، تو ان تینوں کے راستے میں ایک ہی رکاوٹ آتی ہے - ٹوٹی ہوئی، اکھڑی ہوئی اور گرد سے بھری سڑک۔ سڑک صرف پتھر اور تارکول کا نام نہیں، یہ کسی بھی علاقے کی شہ رگ ہوتی ہے۔ جب شہ رگ میں خون رکتا ہے تو پورا جسم بیمار ہو جاتا ہے۔ آج ہمارے علاقے کا بھی یہی حال ہے۔


ہمارے مرکزی روڈ کی خستہ حالی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ جگہ جگہ گڑھے، بارش میں تالاب کا منظر، اور خشک موسم میں اڑتی دھول نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ اسکول کے بچے روز کپڑے خراب ہونے کی شکایت کرتے ہیں، مریض ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی سڑک پر مزید بیمار ہو جاتا ہے، اور کسان اپنی فصل منڈی تک لے جاتے ہوئے آدھا وقت اور آدھا کرایہ سڑک کی نذر کر دیتا ہے۔

اس لیے میری حکومتِ وقت، ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں سے پُر زور اپیل ہے کہ اس روڈ کی فوری تعمیر کو ترجیحی بنیادوں پر شروع کیا جائے۔

* تجاویز درج ذیل ہیں:


1. فوری سروے اور تخمینہ:

سب سے پہلے محکمہ ہائی وے کو چاہیے کہ ایک ہفتے کے اندر اندر روڈ کا ٹیکنیکل سروے مکمل کرے۔ گڑھوں کو عارضی طور پر بھرنے کی بجائے مکمل از سرِ نو تعمیر کا تخمینہ لگایا جائے تاکہ بار بار مرمت کے اخراجات سے بچا جا سکے۔


*2. معیاری تعمیر،۔

خدارا ! معیار کو ترجیح دی جائے۔ سڑک کے دونوں اطراف پختہ نالیوں کا ہونا بے حد ضروری ہے تاکہ پانی کھڑا نہ ہو اور سڑک زیادہ عرصہ چلے۔


3. متبادل راستے کا انتظام:

تعمیر کے دوران عوام کو تکلیف سے بچانے کے لیے متبادل کچے راستے کو قابلِ استعمال بنایا جائے اور وہاں روزانہ پانی کا چھڑکاؤ کیا جائے تاکہ سکول جانے والے بچے اور سانس کے مریض گرد و غبار سے محفوظ رہیں۔


4. مقامی لوگوں کو روزگار:

اگر ممکن ہو تو اس منصوبے میں مقامی مزدوروں کو ترجیح دی جائے۔ اس سے دو فائدے ہوں گے، ایک تو کام جلد ہوگا اور دوسرا علاقے کے لوگوں کو روزگار ملے گا۔


یاد رکھیں! ایک اچھی سڑک صرف سفر آسان نہیں کرتی، یہ معیشت کو تیز کرتی ہے۔ جب سڑک اچھی ہوگی تو دکاندار کا گاہک بڑھے گا، طالبعلم وقت پر سکول پہنچے گا، ایمبولینس وقت پر ہسپتال پہنچے گی اور سرمایہ کار اس علاقے میں آنے سے نہیں گھبرائے گا۔ یہ ترقی کا پہلا قدم ہے۔ ہمیشہ سڑک سے ہی شروع ہوتا ہے

۔مجھے امیدہے کہ حکام بالا اس عوامی مطالبے کو کسی فائل میں بند نہیں کریں گے بلکہ اس پر فوری عمل درآمد کریں گے۔روڈ کی تعمیر کریں گے