Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ہر سنجیدہ چہرے کے پیچھے ایک سنجیدہ انسان نہیں ہوتا،تحریر: زینب جہانزیب

نقطہ نظر
zainab jahazeb

ہم انسانوں کو سمجھنے میں شاید بہت جلدی کرتے ہیں۔ کسی کے چہرے پر سنجیدگی دیکھی اور اسے سنجیدہ مزاج کہہ دیا، کسی کی خاموشی محسوس ہوئی اور اسے مغرور سمجھ لیا، کسی نے اپنے جذبات چھپا لیے تو ہم نے اسے بے حس قرار دے دیا۔ شاید ہم چہروں کو پڑھنے کے عادی ہیں، انسانوں کو نہیں۔ ہمیں کسی کے ظاہر سے ایک نتیجہ اخذ کر لینا آسان لگتا ہے، مگر اس نتیجے تک پہنچنے والی پوری داستان جاننے کی زحمت ہم کم ہی کرتے ہیں۔


حالاں کہ انسان صرف وہ نہیں ہوتا جو دوسروں کو دکھائی دیتا ہے۔ اس کے اندر ایک اور دنیا آباد ہوتی ہے؛ ایسی دنیا جس کے دروازے ہر شخص کے لیے نہیں کھلتے۔ بعض لوگ باہر سے بہت سنجیدہ، خاموش اور محتاط دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کے اندر ایک ایسا شخص زندہ ہوتا ہے جو ہنسنا جانتا ہے، محبت کرنا جانتا ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونا جانتا ہے اور کسی کے دکھ کو اپنے دکھ کی طرح محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ اب وہ اپنی اس دنیا کی چابیاں ہر ہاتھ میں نہیں رکھتا۔


شاید انسان کی سب سے بڑی تبدیلی یہ نہیں کہ وہ بدل جاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو ظاہر کرنے کے انداز بدل لیتا ہے۔


جو شخص کبھی ہر ایک پر یقین کر لیتا تھا، ایک وقت کے بعد لوگوں کو پرکھنے لگتا ہے۔ جو ہر بات دل پر لے لیتا تھا، ایک دن بے نیازی کا ہنر سیکھ لیتا ہے۔ جو ہر تعلق میں پوری سچائی کے ساتھ اترتا تھا، وہی بعد میں اپنے دل کے گرد ایک خاموش سا حصار قائم کر لیتا ہے۔


اور لوگ کہتے ہیں:

"یہ شخص پہلے ایسا نہیں تھا۔"


شاید وہ پہلے بھی ایسا ہی تھا، بس اسے دنیا کے کچھ چہرے ابھی دیکھنے باقی تھے۔


زندگی انسان کو صرف تجربات نہیں دیتی، وہ اسے لوگوں کو سمجھنے کی ایک نئی بصیرت بھی دیتی ہے۔ کبھی ایک بے وفائی اسے محتاط کر دیتی ہے، کبھی کسی اپنے کی بے قدری اسے خاموش کر دیتی ہے، اور کبھی بار بار غلط سمجھے جانے کا احساس انسان کو یہ سکھا دیتا ہے کہ ہر بات کی وضاحت ضروری نہیں۔ یوں آہستہ آہستہ وہ شخص جو کبھی اپنے دل کے دروازے بے تکلفی سے کھول دیا کرتا تھا، اب پہلے یہ دیکھتا ہے کہ سامنے کھڑا شخص اس دروازے کے قابل بھی ہے یا نہیں۔


یہ سختی نہیں ہوتی، شاید شعور کی ایک تلخ شکل ہوتی ہے۔


کیونکہ نرم دل انسان جب بار بار زخمی ہوتا ہے تو ضروری نہیں کہ اس کا دل سخت ہو جائے؛ کبھی وہ صرف اپنی نرمی کو چھپانا سیکھ لیتا ہے۔ پھول اپنی خوشبو نہیں چھوڑتا، مگر ہر ہاتھ کو چھونے کا حق بھی نہیں دیتا۔ شاید انسان بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ اس کے اندر محبت باقی رہتی ہے، مگر اس کا اظہار منتخب ہو جاتا ہے۔


اسی لیے کسی خاموش انسان کو دیکھ کر یہ فیصلہ کر لینا کہ اس کے اندر احساس نہیں، شاید ہمارے اپنے فہم کی کمی ہے۔ ممکن ہے وہ بہت کچھ محسوس کرتا ہو، مگر ہر احساس کو لفظ دینے کا قائل نہ ہو۔ ممکن ہے وہ کسی کی ایک نظر میں چھپی اداسی پڑھ لیتا ہو، مگر اپنی آنکھوں میں ٹھہری ہوئی نمی کسی کو دکھانا پسند نہ کرتا ہو۔


کچھ لوگ اپنی ذات کا نرم ترین حصہ دنیا سے نہیں، صرف چند لوگوں سے بانٹتے ہیں۔


اور یہی شاید انسان کی فطرت کا ایک عجیب پہلو ہے کہ وہ ہر شخص کے سامنے اپنی ایک جیسی شخصیت لے کر نہیں جاتا۔ ہم سب کے اندر کئی روپ موجود ہوتے ہیں۔ کوئی ہمیں دنیا کے سامنے سنجیدہ دیکھتا ہے، کوئی ہمارے ساتھ بیٹھ کر ہماری بے ساختہ ہنسی سنتا ہے۔ کوئی ہمیں خاموش سمجھتا ہے، کوئی جانتا ہے کہ ہم گھنٹوں بات کر سکتے ہیں۔ کوئی ہمیں مضبوط سمجھتا ہے، جبکہ کوئی ایک ایسا بھی ہوتا ہے جو جانتا ہے کہ اس مضبوطی کے پیچھے کتنی نرمی چھپی ہوئی ہے۔


تو پھر اصل انسان کون سا ہے؟


شاید دونوں۔


کیونکہ انسان ایک ہی رنگ کا وجود نہیں۔ وہ حالات، تعلقات، تجربات اور احساسات سے مل کر بنتا ہے۔ اس کا ایک چہرہ دنیا کے لیے ہوتا ہے اور ایک وہ جو صرف ان لوگوں کے سامنے آتا ہے جہاں اسے خود کو ثابت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔


ہم اکثر کہتے ہیں کہ "لوگ بدل جاتے ہیں۔"


مگر شاید ہر تبدیلی کو بدل جانا کہنا بھی درست نہیں۔ کبھی کبھی انسان صرف یہ سیکھتا ہے کہ اپنی روشنی کہاں بکھیرنی ہے اور کہاں چراغ کو ڈھانپ کر رکھنا ہے۔ وہ محبت کرنا نہیں چھوڑتا، صرف ہر ایک سے محبت کی توقع رکھنا چھوڑ دیتا ہے۔ وہ اچھا ہونا نہیں چھوڑتا، بس اپنی اچھائی کی قیمت ہر بار ادا کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔


اور شاید یہی وجہ ہے کہ بعض سنجیدہ چہروں کو سمجھنے کے لیے ان کے الفاظ سے زیادہ ان کے رویّوں کی خاموش تہوں کو پڑھنا پڑتا ہے۔


کیونکہ کچھ لوگ واقعی سخت نہیں ہوتے؛

وہ صرف زندگی سے اتنا سیکھ چکے ہوتے ہیں کہ اپنی نرمی ہر ایک کے سامنے رکھنا دانش مندی نہیں۔


آخرکار انسان کی اصل پہچان اس کے چہرے کی سنجیدگی نہیں، بلکہ وہ نرمی ہے جو وہ دنیا سے چھپا کر بھی اپنے اندر زندہ رکھتا ہے۔ شاید یہی نرمی اس بات کا ثبوت ہے کہ تلخ تجربات انسان کی فطرت کو ہمیشہ نہیں بدلتے، کبھی صرف اس کے گرد دیواریں کھڑی کر دیتے ہیں۔


اور بعض دیواروں کے پیچھے آج بھی وہی انسان بیٹھا ہوتا ہے،

جو کبھی بہت ہنسا کرتا تھا،

بہت جلد یقین کر لیا کرتا تھا،

اور لوگوں کو ان کے لفظوں سے نہیں، اپنے دل کی سچائی سے پہچانا کرتا تھا۔