ذمہ داریاں انسان کو وقت سے پہلے بڑا کر دیتی ہیں،تحریر: شازیہ یاسین
نقطہ نظر
ذمہ داریاں انسان کی زندگی کا وہ مرحلہ ہوتی ہیں جہاں سے اصل شعور کا آغاز ہوتا ہے۔ جب انسان کے کندھوں پر ذمہ داریوں کا بوجھ آتا ہے تو اس کی سوچ بدل جاتی ہے، اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں، اور وہ زندگی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے لگتا ہے۔ وہ شخص جو کل تک لاپرواہ تھا، اچانک سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ وہ جو معمولی باتوں پر مسکرا دیتا تھا، اب ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانے لگتا ہے۔ یہی ذمہ داریاں انسان کو وقت سے پہلے بڑا کر دیتی ہیں اور اسے زندگی کے حقائق سے روشناس کرواتی ہیں۔
زندگی کے ابتدائی دنوں میں انسان خواب دیکھتا ہے۔ وہ اپنی خواہشات کے پیچھے بھاگتا ہے، اپنی خوشیوں کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ مگر جیسے ہی ذمہ داریاں اس کے دروازے پر دستک دیتی ہیں، وہ اپنی خواہشات کو پس پشت ڈالنا سیکھ لیتا ہے۔ وہ اپنی خوشیوں کو قربان کرنا سیکھ جاتا ہے تاکہ دوسروں کی زندگی میں آسانی پیدا کر سکے۔ یہی قربانی انسان کو مضبوط بناتی ہے اور اسے زندگی کے اصل معنی سمجھاتی ہے۔
جو انسان ذمہ داریوں کو قبول کرتا ہے، وہ وقت کے ساتھ پختہ ہو جاتا ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے اوپر اٹھ جاتا ہے اور زندگی کے بڑے مقاصد پر توجہ دینے لگتا ہے۔ ذمہ دار انسان کبھی بھی مشکلات سے نہیں گھبراتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ زندگی میں ہر مشکل کے پیچھے ایک سبق ہوتا ہے۔ یہی سبق اسے آگے بڑھنے کی طاقت دیتا ہے اور اسے مزید مضبوط بناتا ہے۔
ذمہ داریاں انسان کو صبر سکھاتی ہیں۔ جب انسان اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے جینا شروع کرتا ہے تو وہ برداشت کرنا سیکھ جاتا ہے۔ وہ اپنے دکھوں کو چھپا لیتا ہے اور دوسروں کی خوشیوں کو ترجیح دیتا ہے۔ یہی صبر انسان کی اصل طاقت بن جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی صبر انسان کی شخصیت میں وقار پیدا کرتا ہے اور اسے دوسروں سے ممتاز بنا دیتا ہے۔
جو انسان ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتا ہے، وہ کبھی بھی حالات سے نہیں بھاگتا۔ وہ جانتا ہے کہ زندگی کا سفر آسان نہیں ہوتا، مگر وہ ہر مشکل کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ ایسے لوگ خاموشی سے جدوجہد کرتے ہیں، وہ اپنی تکلیفوں کا ذکر نہیں کرتے، مگر ان کی محنت اور قربانی ان کی شخصیت کو نمایاں کر دیتی ہے۔ یہی لوگ معاشرے کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔
ذمہ داریاں انسان کو خود غرضی سے نکال کر ایثار کی طرف لے جاتی ہیں۔ انسان دوسروں کے لیے سوچنا شروع کرتا ہے۔ وہ اپنے فیصلے کرتے وقت صرف اپنے بارے میں نہیں بلکہ اپنے خاندان، اپنے پیاروں اور اپنے مستقبل کے بارے میں بھی سوچتا ہے۔ یہی سوچ انسان کو بالغ بناتی ہے اور اسے زندگی کے قریب لے آتی ہے۔
کبھی کبھی ذمہ داریاں بہت بھاری محسوس ہوتی ہیں۔ انسان تھک جاتا ہے، اسے لگتا ہے کہ وہ مزید آگے نہیں بڑھ سکتا۔ مگر یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب انسان کی اصل ہمت سامنے آتی ہے۔ وہ خود کو سنبھالتا ہے، حوصلہ جمع کرتا ہے اور دوبارہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہی جدوجہد اسے مضبوط بناتی ہے اور اسے زندگی کے ہر چیلنج کے لیے تیار کر دیتی ہے۔
جو انسان کم عمری میں ذمہ داریاں سنبھالتا ہے، وہ وقت سے پہلے سمجھدار ہو جاتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں سنجیدگی آ جاتی ہے، اس کے لہجے میں ٹھہراؤ آ جاتا ہے، اور اس کی شخصیت میں ایک وقار پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ دوسروں کے دکھ کو سمجھنے لگتا ہے اور زندگی کی حقیقتوں کو قریب سے دیکھتا ہے۔ یہی تجربات اسے ایک مضبوط انسان بنا دیتے ہیں۔
ذمہ داریاں انسان کو یہ بھی سکھاتی ہیں کہ زندگی صرف خوشیوں کا نام نہیں بلکہ جدوجہد کا نام بھی ہے۔ یہ جدوجہد ہی انسان کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ وہ شخص جو ذمہ داریوں سے نہیں گھبراتا، وہی زندگی میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ کامیابی آسانی سے نہیں ملتی، اس کے لیے محنت اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔
ذمہ داریاں انسان کو وقت سے پہلے بڑا کر دیتی ہیں۔ یہ انسان کو مضبوط بناتی ہیں، اسے صبر سکھاتی ہیں، اور اسے زندگی کے اصل معنی سمجھاتی ہیں۔ جو انسان ذمہ داریوں کو قبول کر لیتا ہے، وہ زندگی کے ہر موڑ پر کامیاب ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ زندگی کا اصل حسن جدوجہد میں ہے، اور یہی جدوجہد انسان کو عظمت کی طرف لے جاتی ہے۔
مزید پڑھیں





