انسان، وقت اور خاموش زندگی کی حقیقتیں ،تحریر: سائرہ علی
نقطہ نظر
زندگی ایک عجیب کتاب ہے۔ اس کے بعض صفحات ہم مسکرا کر پڑھتے ہیں، بعض کو آنسوؤں سے بھگو دیتے ہیں، اور بعض ایسے ہوتے ہیں جنہیں سمجھنے کے لیے پوری عمر درکار ہوتی ہے۔ انسان بھی کتنا عجیب ہے۔ وہ ساری زندگی خوشیوں کی تلاش میں بھاگتا رہتا ہے مگر جب کبھی تھک کر کسی گوشہ تنہائی میں بیٹھتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ خوشی ہمیشہ کسی منزل پر نہیں ملتی، کبھی کبھی وہ اُن لمحوں میں بھی موجود ہوتی ہے جنہیں ہم اپنی بےقدری کی نذر کر دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ زندگی کا سب سے بڑا المیہ محرومی ہے، حالانکہ بعض اوقات سب سے بڑی محرومی وہ نعمتیں ہوتی ہیں جو ہمارے پاس موجود تو ہوتی ہیں، مگر ہمیں ان کی قدر اس وقت آتی ہے جب وہ ہماری دسترس سے نکل چکی ہوتی ہیں۔ ماں کی دعا، باپ کا سایہ، کسی مخلص دوست کی رفاقت، کسی اپنے کی بےغرض محبت اور گھر کے آنگن میں بکھری ہوئی وہ سادہ سی خوشیاں، جنہیں ہم روزمرہ کی معمولی مصروفیات سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہی تو زندگی کا اصل سرمایہ ہوتی ہیں۔ مگر افسوس! انسان کی نگاہ اکثر اُس چیز پر رہتی ہے جو اسے حاصل نہیں، اور اُس نعمت سے غافل رہتی ہے جو خاموشی سے اس کے پاس موجود ہوتی ہے۔ شاید انسان کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ اسے زندگی کم ملتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ زندگی کو سمجھتے سمجھتے زندگی کا بڑا حصہ گزار دیتا ہے۔ وقت ایک ایسا استاد ہے جو سبق پہلے دیتا ہے اور امتحان بعد میں نہیں لیتا، بلکہ پہلے امتحان میں ڈالتا ہے اور پھر سبق سمجھاتا ہے۔ یہ ہمیں جدائی کے ذریعے محبت، ناکامی کے ذریعے کوشش، تنہائی کے ذریعے رفاقت اور محرومی کے ذریعے نعمت کی قدر سکھاتا ہے۔ مگر وقت کی سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس کے سکھائے ہوئے اسباق سمجھ میں آ جانے کے بعد بھی گزرے ہوئے لمحے واپس نہیں آتے۔ انسان چاہے تو اپنی غلطیوں سے سیکھ سکتا ہے۔ اپنے رویّوں کو بدل سکتا ہے، اپنے تعلقات کی مرمت کر سکتا ہے، لیکن وہ گزرے ہوئے کل کے دروازے پر دستک دے کر اپنے الفاظ واپس نہیں لے سکتا۔
ہم اکثر اُن لوگوں کو دکھ پہنچا دیتے ہیں جو ہمیں سب سے زیادہ چاہتے ہیں، کیونکہ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ وہ ہمیں کبھی چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ ہم ان کی خاموشی کو کمزوری، ان کی برداشت کو بےبسی اور ان کی محبت کو اپنی ملکیت سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ہمیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ ہر انسان کے اندر ایک ایسی دنیا آباد ہوتی ہے جس کے موسموں سے ہم ناواقف ہوتے ہیں۔ کوئی شخص بظاہر مسکرا رہا ہوتا ہے مگر اس کے اندر برسوں کی تھکن جمع ہوتی ہے۔ کوئی دوسروں کی خوشیوں میں شریک ہوتا ہے، مگر اپنی اداسی کے لیے اسے کوئی شانہ میسر نہیں آتا اور کوئی ہر ایک کا سہارا بنتا ہے، مگر جب خود بکھرتا ہے تو اپنے ٹکڑے سمیٹنے کے لیے اسے کسی کا ہاتھ نہیں ملتا۔ یہی انسانی وجود کا سب سے حساس پہلو ہے کہ ہم چہروں کو پڑھنے میں مہارت حاصل کر لیتے ہیں مگر دلوں کی زبان سیکھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ہم الفاظ سن لیتے ہیں، مگر ان کے پیچھے چھپی ہوئی کیفیت کو محسوس نہیں کرتے۔ ہم کسی کی غلطی دیکھ کر فیصلہ سنا دیتے ہیں، مگر اس کے حالات جاننے کی زحمت نہیں کرتے۔ شاید اسی لیے ہمارے معاشرے میں بولنے والے بہت ہیں، سننے والے کم، رائے دینے والے بہت ہیں۔ سمجھنے والے کم اور تعلقات قائم کرنے والے بہت ہیں، مگر انہیں نبھانے والے کم ہیں
انسان کی عظمت اس بات میں نہیں کہ وہ کتنا جانتا ہے، بلکہ اس بات میں ہے کہ اپنے علم کے باوجود کتنا نرم دل رہتا ہے۔
فلسفہ محض مشکل الفاظ، پیچیدہ نظریات اور زندگی کے بارے میں بلند و بانگ دعووں کا نام نہیں۔ حقیقی فلسفہ تو یہ ہے کہ انسان اپنے وجود، اپنے رویّوں اور اپنے مقاصد پر سوال اٹھانے کی جرأت پیدا کرے۔ وہ خود سے پوچھے کہ اگر اس کی کامیابی کسی دوسرے کی تذلیل پر قائم ہے تو کیا یہ واقعی کامیابی ہے؟ اگر اس کی دولت اسے دوسروں کے دکھ سے بےخبر کر دیتی ہے تو کیا یہ واقعی خوش حالی ہے؟ اگر اس کی زبان حق بات تو کہتی ہے، مگر اس کا لہجہ دل توڑ دیتا ہے، تو کیا اس کی سچائی مکمل ہے؟
زندگی کی معنویت شاید انہی سوالوں میں پوشیدہ ہے۔ ہم دنیا کو بدلنے کے خواب دیکھتے ہیں مگر اپنے اندر کی دنیا کو بدلنے سے گھبراتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے جذبات کی قدر کریں، لیکن دوسروں کے احساسات کو سمجھنے میں کوتاہی کرتے ہیں۔ ہم احترام چاہتے ہیں، مگر احترام دینے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ ہم معافی کے طلب گار ہوتے ہیں مگر دوسروں کی خطاؤں کو عمر بھر اپنے حافظے میں محفوظ رکھتے ہیں۔ حالانکہ زندگی کا حسن انتقام میں نہیں، درگزر میں ہے۔ برتری کے اظہار میں نہیں، عاجزی میں ہے اور لوگوں کو زیر کرنے میں نہیں، اپنے نفس پر قابو پانے میں ہے۔ معافی کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کی زیادتی کو درست مان لیا جائے، یا اپنے وقار کو کسی کے قدموں میں رکھ دیا جائے۔ معافی دراصل اپنے دل کو نفرت کی دائمی قید سے آزاد کرنے کا نام ہے۔ اسی طرح محبت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی ذات کو مٹا دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کو برقرار رکھتے ہوئے دوسرے انسان کے وجود، احساسات اور آزادی کا احترام کرے۔ جو تعلق انسان سے اس کی خودداری، سکون اور شخصیت چھین لے، اس پر نظرِ ثانی کرنا بھی زندگی کی دانائی کا حصہ ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر تعلق کو بچانا ضروری نہیں، مگر ہر تعلق سے کچھ سیکھنا ضروری ہے۔ ہر شخص کو اپنی زندگی میں ہمیشہ کے لیے جگہ دینا ممکن نہیں، مگر ہر شخص کے ساتھ انسانیت کا رشتہ قائم رکھنا ممکن ہے۔ بعض لوگ ہماری زندگی میں ٹھہرنے کے لیے آتے ہیں، بعض ہمیں کوئی سبق دے کر گزر جاتے ہیں اور بعض ہمیں یہ سکھا جاتے ہیں کہ آئندہ اپنے دل کے دروازے کھولتے ہوئے احتیاط اور اپنی حدود کی حفاظت کرنا کیوں ضروری ہے لیکن ان تمام تجربات کے باوجود دل میں محبت کی گنجائش باقی رہنی چاہیے۔ ایک تلخ تجربے کو پوری دنیا کے کردار کا فیصلہ نہیں بنانا چاہیے۔ ایک شخص کی بےوفائی کی سزا ہر مخلص انسان کو نہیں دینی چاہیے۔ دنیا میں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو کسی فائدے کے بغیر آپ کی خیریت پوچھتے ہیں، جو آپ کی کامیابی پر دل سے خوش ہوتے ہیں۔ جو آپ کی خاموشی میں چھپی اداسی محسوس کر لیتے ہیں اور جو آپ کی کمزوری جان لینے کے باوجود آپ کی عزت کرنا نہیں چھوڑتے۔ ایسے لوگ زندگی کے ہجوم میں محض افراد نہیں، بلکہ وہ نایاب نعمتیں ہیں جن کی موجودگی انسان کے دل میں دنیا پر اعتماد زندہ رکھتی ہے اور پھر ایک دن انسان کو احساس ہوتا ہے کہ عمر کا بڑھنا اور زندگی کا سمجھ آنا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ کچھ لوگ بہت کم عمر میں زندگی کی گہرائیوں سے آشنا ہو جاتے ہیں، جب کہ کچھ لوگ برسوں گزار کر بھی دوسروں کے دکھ کا مفہوم نہیں سمجھ پاتے۔ پختگی چہرے کی جھریوں سے نہیں، سوچ کی وسعت سے ظاہر ہوتی ہے۔ دانائی زیادہ بولنے میں نہیں، یہ جاننے میں ہے کہ کب خاموش رہنا ہے، کب کسی کا ہاتھ تھامنا ہے، کب اپنی غلطی تسلیم کرنی ہے اور کب کسی ایسے دروازے سے واپس آ جانا ہے جہاں بار بار دستک دینے کے باوجود عزت نہ ملے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ زندگی ہمیشہ ہماری خواہشات کے مطابق نہیں چلتی۔ بعض دعائیں قبولیت کی صورت میں سامنے آتی ہیں، بعض کا جواب وقت کے ساتھ سمجھ میں آتا ہے اور بعض خواہشیں شاید کبھی پوری نہیں ہوتیں۔ مگر کسی خواہش کا پورا نہ ہونا زندگی کے بےمعنی ہونے کی دلیل نہیں۔ کبھی کبھی ایک بند دروازہ ہمیں ایسے راستے کی طرف متوجہ کر دیتا ہے جس کا تصور بھی ہم نے نہیں کیا ہوتا۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر محرومی کے پیچھے کوئی خوش خبری چھپی ہو، لیکن یہ ضرور ممکن ہے کہ انسان اپنی محرومی کے باوجود اپنے اندر ایک نئی قوت، ایک نئی بصیرت اور ایک نیا مقصد پیدا کر لے۔ امید کا مطلب یہ نہیں کہ انسان حقیقت سے آنکھیں بند کر لے۔امید تو حقیقت کو دیکھتے ہوئے بھی آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھنے کا نام ہے۔ یہ وہ خاموش قوت ہے جو انسان کو شکست کے بعد دوبارہ اٹھنا سکھاتی ہے، تنہائی میں اپنے وجود کو سنبھالنا سکھاتی ہے، اور اندھیرے میں روشنی کے امکان پر یقین رکھنا سکھاتی ہے۔ زندگی کی خوبصورتی شاید اسی توازن میں ہے۔ دل میں نرمی ہو، مگر فیصلوں میں شعور بھی محبت میں خلوص ہو، مگر اپنی ذات کا احترام بھی خوابوں میں بلندی ہو، مگر قدموں میں حقیقت کی زمین بھی اور کامیابی کی خواہش ہو، مگر انسانیت کی قیمت پر نہیں۔
ہم سب ایک دن اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔ ہمارے عہدے، دولت، شہرت، اختیارات اور تعریفوں کے شور کو وقت آہستہ آہستہ خاموش کر دے گا۔ جو کچھ باقی رہ جائے گا، وہ ان لوگوں کے دلوں میں محفوظ ہماری یاد ہوگی جن کی زندگیوں کو ہم نے اپنے وجود سے چھوا تھا۔ کسی کے لیے ہم ایک تسلی بخش جملہ ہوں گے، کسی کے لیے مشکل وقت میں بڑھایا گیا ایک ہاتھ، کسی کے لیے ایک بےلوث دعا، اور کسی کے لیے وہ انسان جس نے اسے اس وقت عزت دی جب دنیا اسے حقیر سمجھ رہی تھی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کے اختتام پر لوگوں کی زبانوں پر اپنا نام سننا چاہیں گے یا ان کے دلوں میں اپنے لیے ایک اچھی یاد چھوڑنا چاہیں گے؟ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہماری کامیابیوں کے قصے بیان کریں یا یہ کہیں کہ اس شخص کے ساتھ رہ کر ہمیں انسانیت پر یقین آیا تھا؟ شاید اصل کامیابی اسی دوسرے جواب میں پوشیدہ ہے۔
اس لیے زندگی کو صرف گزارنے کی چیز نہ سمجھیں۔ اسے سمجھنے، سنوارنے اور دوسروں کے لیے آسان بنانے کی کوشش کیجیے۔ اپنے والدین کے ساتھ وقت گزاریے، اپنوں کی بات توجہ سے سنیے، کسی کی خاموشی کو بےحسی کا نام دینے سے پہلے اس کے حالات سمجھنے کی کوشش کیجیے، غلطی ہو جائے تو معذرت کرنے میں دیر نہ کیجیے اور جہاں ممکن ہو، کسی کے دل کا بوجھ ہلکا کر دیجیے۔ یہ چھوٹے چھوٹے اعمال بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں مگر انسانی زندگی کی اصل معنویت اکثر انہی میں جنم لیتی ہے۔
کیونکہ آخرکار زندگی کی عظمت اس میں نہیں کہ ہم نے کتنے سال جیے، بلکہ اس میں ہے کہ ان برسوں میں کتنے دلوں کو سکون دیا، کتنے انسانوں کی عزت کی، کتنی غلطیوں سے سیکھا، کتنی بار اپنے غرور پر قابو پایا، اور کتنی مرتبہ اپنے مفاد سے بلند ہو کر کسی دوسرے کے لیے آسانی پیدا کی۔
زندگی بہت مختصر ہے کہ اسے نفرت میں گزار دیا جائے، دل بہت قیمتی ہے کہ اسے انا کی نذر کر دیا جائے اور انسانیت بہت خوبصورت ہے کہ اسے مفاد کے ترازو میں تول لیا جائے۔
آئیے، ہم کامل انسان بننے کے ناممکن دعوے کے بجائے بہتر انسان بننے کی ممکن کوشش کریں۔ ہم ہر روز کسی نہ کسی غلطی سے سیکھیں، اپنے لہجے میں نرمی پیدا کریں، اپنے رویّوں میں انصاف لائیں اور اپنے دل میں اتنی گنجائش ضرور رکھیں کہ کسی دوسرے کے دکھ کو اس کی کمزوری نہیں، اس کی انسانیت سمجھ سکیں۔ شاید یہی زندگی کا سب سے خوب صورت فلسفہ ہے کہ ہم دنیا سے جاتے ہوئے اپنے پیچھے ایسی دولت چھوڑ جائیں جسے کوئی وارث تقسیم نہ کر سکے، کوئی چور چرا نہ سکے اور کوئی وقت مٹا نہ سکے۔ یعنی خلوص کی خوشبو، کردار کی روشنی اور محبت سے بھری ہوئی یادیں۔ کیونکہ انسان کی زندگی کا حقیقی حاصل وہ نہیں جو وہ اپنے لیے جمع کرتا ہے، بلکہ وہ ہے جو وہ دوسروں کے دلوں میں چھوڑ جاتا ہے
اور اگر ہماری موجودگی سے کسی ایک انسان کو بھی یہ احساس مل جائے کہ دنیا میں ابھی مہربانی باقی ہے، خلوص ابھی زندہ ہے اور انسان ہونا ابھی ایک خوب صورت اعزاز ہے، تو یقین جانیے، ہماری زندگی بےمعنی نہیں گزری۔ کبھی کبھی ایک اچھی زندگی کی سب سے بڑی گواہی کوئی تمغہ، کوئی منصب یا کوئی بلند عمارت نہیں ہوتی بلکہ کسی کی آنکھ میں چمکتا ہوا وہ آنسو ہوتا ہے جو ہماری جدائی میں نہیں، ہماری محبت اور خلوص کو یاد کرکے نکلتا ہے۔ زندگی کا سب سے بڑا فلسفہ شاید یہی ہے کہ ہم یہاں ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آئے مگر جب تک رہیں، کسی کے لیے دکھ کی وجہ نہیں، سکون کا سبب بن کر رہیں کیونکہ وقت گزر جاتا ہے، چہرے بدل جاتے ہیں، راستے جدا ہو جاتے ہیں، لیکن سچے خلوص سے چھوئے گئے دلوں میں انسان کی روشنی دیر تک باقی رہتی ہے۔
مزید پڑھیں





