Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

انسانی حقوق،ریاست سے معاشرے تک،تحریر: طاہر محمود

نقطہ نظر
tahir mahmood

انسانی حقوق کا تعلق صرف قانون کی کتابوں، عدالتوں کے فیصلوں یا عالمی دنوں کی تقریبات سے نہیں۔ انسانی حقوق دراصل انسان کی زندگی، عزت، آزادی اور وقار کا دوسرا نام ہیں۔ ایک انسان جب اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو وہ صرف سانس لینے کا حق لے کر نہیں آتا، بلکہ اسے عزت کے ساتھ جینے، تعلیم حاصل کرنے، علاج کروانے، اپنی رائے کا اظہار کرنے، انصاف پانے اور خوف سے آزاد زندگی گزارنے کا حق بھی حاصل ہوتا ہے۔


پاکستان کا آئین بھی شہریوں کے بنیادی حقوق کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ آئین کے تحت زندگی اور آزادی کا تحفظ، قانون کے سامنے مساوات، انسانی عزت و حرمت، نقل و حرکت، اجتماع، اظہارِ رائے، مذہبی آزادی، تعلیم اور دیگر بنیادی حقوق کے لیے اصول اور ضمانتیں موجود ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ جو حقوق کتاب میں درج ہیں، وہ ہماری عملی زندگی میں کس حد تک نظر آتے ہیں؟


یہ سوال حکومت سے بھی ہے، اداروں سے بھی اور ہم سب سے بھی۔


انسانی حقوق کا سب سے بڑا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب ہمارے سامنے کوئی کمزور، غریب، بے سہارا یا بے آواز شخص کھڑا ہو۔ طاقتور کے حق میں آواز بلند کرنا آسان ہے، مگر جس شخص کے پاس نہ دولت ہو، نہ اثر و رسوخ اور نہ سفارش، اس کے حق کے لیے کھڑا ہونا حقیقی کردار کی علامت ہے۔


ایک مزدور صبح سے شام تک محنت کرتا ہے تو اسے اس کی محنت کا جائز معاوضہ ملنا چاہیے۔ ایک بچہ تعلیم سے محروم ہے تو اس کے لیے تعلیم کے دروازے کھلنے چاہئیں۔ ایک مریض علاج کا محتاج ہے تو اس کی بیماری کو اس کی مالی حیثیت سے نہیں تولا جانا چاہیے۔ ایک بزرگ کو سہارا چاہیے تو اسے بوجھ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ایک عام شہری کسی ادارے کے دروازے پر اپنا مسئلہ لے کر آئے تو اسے عزت اور توجہ ملنی چاہیے۔


یہی انسانی حقوق کی عملی تصویر ہے۔


ہم اکثر ریاست سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں، جو ہمارا حق بھی ہے، مگر ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو بھی یاد رکھنا ہوگا۔ جس معاشرے میں ہر شخص صرف اپنا حق مانگے اور دوسرے کے حق کو نظر انداز کردے، وہاں حقوق کا تصور ادھورا رہ جاتا ہے۔


ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آزادی ذمہ داری کے بغیر مکمل نہیں ہوتی، اختیار احتساب کے بغیر محفوظ نہیں رہتا اور حق دوسروں کے حق کے احترام کے بغیر خوبصورت نہیں رہتا۔


سوشل میڈیا کے اس دور میں انسانی حقوق کا ایک نیا پہلو بھی ہمارے سامنے آیا ہے۔ کسی کی عزت اچھال دینا، بغیر تحقیق الزام لگا دینا، ذاتی زندگی کو مجروح کرنا یا اختلافِ رائے کو دشمنی میں تبدیل کر دینا بھی معاشرتی رویوں کے انحطاط کی علامت ہے۔ اظہارِ رائے ہمارا حق ہے، مگر کسی دوسرے انسان کی عزت اور وقار بھی اتنا ہی اہم ہے۔


ایک مہذب معاشرے میں اختلاف دشمنی نہیں بنتا۔ سوال بغاوت نہیں ہوتا اور تنقید توہین نہیں ہوتی۔ ہمیں ایک دوسرے کو سننے، سمجھنے اور اختلاف کے باوجود احترام برقرار رکھنے کا سلیقہ پیدا کرنا ہوگا۔


انسانی حقوق کا تعلق صرف انسان اور ریاست کے درمیان نہیں؛ یہ انسان اور انسان کے درمیان تعلق کا بھی امتحان ہیں۔


اگر ہم اپنے گھر میں ملازم سے عزت سے پیش نہیں آتے، دفتر میں ماتحت کی تذلیل کرتے ہیں، بازار میں کمزور کو دھتکارتے ہیں، کسی غریب کو حقیر سمجھتے ہیں یا کسی مجبور کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو پھر انسانی حقوق پر ہماری بڑی بڑی تقریریں بے معنی ہو جاتی ہیں۔


حقیقی تبدیلی قانون سے ضرور آتی ہے، مگر قانون کے ساتھ کردار بھی چاہیے۔ عدالت انصاف دے سکتی ہے، مگر معاشرے کو انصاف پسند بنانا ہمارے اجتماعی رویوں کی ذمہ داری ہے۔ ریاست تحفظ دے سکتی ہے، مگر انسانیت کی حفاظت ہمارے اپنے کردار سے ہوتی ہے۔


ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ کامیاب انسان وہ نہیں جو صرف اپنے لیے راستہ بنائے، بلکہ وہ ہے جو دوسروں کے لیے بھی راستے آسان کرے۔ عزت وہ نہیں جو مانگی جائے، بلکہ وہ ہے جو کردار سے کمائی جائے۔ اور عظمت وہ نہیں جو عہدے سے ملے، بلکہ وہ ہے جو کسی کمزور انسان کے کام آکر حاصل ہو۔


آج ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانی حقوق کو صرف تقریروں کا موضوع نہ بنایا جائے بلکہ زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ ہم اپنے گھروں سے آغاز کریں، اپنے رویے بدلیں، دوسروں کی عزت کریں، حق دار کو اس کا حق دیں، ظلم کے سامنے خاموش نہ رہیں اور اختلاف کے باوجود انسانیت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔


کیونکہ ایک معاشرہ اس وقت عظیم نہیں بنتا جب اس کے پاس دولت، طاقت اور وسائل کی کثرت ہو؛ وہ اس وقت عظیم بنتا ہے جب اس کا کمزور ترین انسان بھی خود کو محفوظ، محترم اور باوقار محسوس کرے۔


اور شاید انسانی حقوق کا سب سے خوبصورت مفہوم یہی ہے کہ:


انسان کو اس کے عہدے سے پہلے انسان سمجھا جائے،

اس کی دولت سے پہلے اس کی عزت دیکھی جائے،

اور اس کی طاقت سے پہلے اس کے حق کو تسلیم کیا جائے۔


اگر ہم یہ اصول اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنا لیں تو شاید ہمیں ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھنے میں کامیابی مل جائے جہاں قانون صرف کتابوں میں نہیں، رویوں میں بھی زندہ ہو؛ جہاں انصاف صرف عدالتوں میں نہیں، دلوں میں بھی موجود ہو؛ اور جہاں انسان کی سب سے بڑی پہچان اس کا انسان ہونا ہو۔


یہی انسانی حقوق ہیں، یہی انسانیت ہے اور یہی ایک باوقار معاشرے کی بنیاد