انسانی شخصیت کے راز اور علم کی روشنی،تحریر: کلثوم افتخار
نقطہ نظر
قرآن مجید کا پہلا حکم اقرا یعنی پڑھ۔ علم کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ علم کی مثال روشنی کی طرح ہے۔ علم نور ہے۔ علم سے پہلے کی حالت اندھیرے کی ہوتی ہے۔ اگر آپ کسی کمرے میں اندھیرے میں ہوں تو آپ کو کچھ نظر نہیں آتااور جب کچھ نظر نہیں آتا تو پھر انسان جو کچھ کر رہا ہوتا ہے وہی کرتا رہتا ہے۔ اندھیرے میں غلط بھی غلط محسوس نہیں ہوتی۔ اور پھر ایک ایسا لمحہ آتا ہے کہ انسان نیند سے بیدار ہوتا ہے۔ آنکھوں میں روشنی چبھتی ہےتھوڑی بے آرامی محسوس ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ اب حقیقت کو تسلیم کرنے کےلئے اندھیرے سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ کیونکہ نیند میں انسان بہت آرام دہ حالت میں ہوتا ہے۔
جب روشنی آتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ کمرے میں بہت سارا کچرا ہے جو اندھیرے کی وجہ سے پہلے نظر نہیں آ رہا تھا۔ چیزیں اپنی جگہ پر نہیں ہوتیں۔ کتاب کی جگہ جوتا رکھا ہوتا ہے اور جوتے کی جگہ کتاب۔ جہاں خود بیٹھنا چاہیے وہاں بچے کو بٹھا دیا گیا ہے اور جہاں والدین کو بٹھانا چاہیے وہاں خود جا کر بیٹھ گئے ہیں۔یہی لمحہ شعور ہوتا ہے اور یہیں سے آگاہی کا شعور اور احساس سامنے آتا ہے تب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ چیزیں اپنی جگہ پر نہیں ہیں اور گڑبڑ بہت زیادہ ہے۔
علم آنے کے بعد کی کیفیت بھی بڑے ہی کمال کی ہوتی ہے ۔یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کو بیماری کا احساس تو ہو مگر یہ اندازہ نہ ہو کہ بیماری کون سی ہے اور کس ڈاکٹر کے پاس جانا ہے جتنا زیادہ علم ہوتا ہے روشنی اتنی تیز ہوتی ہے۔ اور جوں جوں روشنی تیز ہوتی ہے چیزیں زیادہ واضح نظر آتی ہیں۔
کبھی کبھی انسان پریشان ہو جاتا ہےسمجھ نہیں آتی کہ اتنی ساری خرابیوں کے ساتھ کیا کیا جائے۔یا اب ان خرابیوں سمیت ہی زندگی گزار دی جائے یا گزرنے دی جائے یہاں دو راستے ہوتے ہیں:کچھ لوگ فوراً آنکھیں بند کر لیتے ہیں یا لائٹ بند کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دوبارہ سکون کی کیفیت میں چلے جائیں۔ یعنی: مجھے نہ دکھاؤ کہ کمرے کا حال کیا ہے میں اسی نیند میں ٹھیک ہوں۔دوسرا راستہ یہ ہے کہ انسان اللّہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ میں کس حال میں زندگی گزار رہا تھا اور شکر کرتا ہے کہ روشنی آ گئی، علم آ گیا، اور مسائل نظر آنے لگے، اور پھر وہ ہمت کرتا ہے۔اور یہاں سے اصلاح کا عمل شروع ہو جاتا ہے ۔ سب سے پہلا کام کچرے کو باہر نکالنا ہوتا ہے۔
پھر دوسرا کام یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کچرا اتنا پیدا کیوں ہو رہا ہے اور آئندہ اسے بروقت تلف کیسے کیا جائے۔
اور بالآخر انسان کےلئے
علم کی روشنی میں چیزیں اپنی اپنی جگہ پر آنے لگتی ہیں جوتا جوتے کی جگہ
کتاب کتاب کی جگہ ۔ باپ باپ کی جگہ۔ اور اولاد اولاد کی جگہ ۔ پیسہ پیسے کی جگہ سب واپس اپنی اپنی اصل حالت میں آ جاتے ہیں
ایک طویل عرصہ ہم نے الٹی ترتیب میں زندگی گزاری ہوتی ہے مگر روشنی آنے کے بعد آہستہ آہستہ درست ترتیب بحال ہوتی ہے۔۔ اور زندگی بحال ہوتی جاتی ہے
اور یہیں سے بہترین شخصیت کی تربیت شروع ہو جاتی ہے اسی
روشنی کے زریعے سے جڑے رہنا اور علم کے سلسلے کو ختم نہ ہونے دینا ہی ہماری بنیادی ضرورت ہے. تاکہ ہم دوبارہ اندھیرے میں نہ کھو جائیں۔





