معاشرے کی اصلاح کردار سے،تحریر: انجینئر علی رضوان چودھری
نقطہ نظر
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں اصلاحِ معاشرہ پر تقریریں بہت ہوتی ہیں، مشورے بہت دیے جاتے ہیں، دوسروں کی غلطیوں کی نشاندہی بڑے جوش و جذبے سے کی جاتی ہے، مگر جب اپنی باری آتی ہے تو اکثر ہم وہی اصول بھول جاتے ہیں جن کی تلقین دوسروں کو کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ ایماندار ہو، لوگ وعدے پورے کریں، نوجوان باکردار ہوں، والدین کا احترام ہو، قانون کی پاسداری ہو، جھوٹ اور دھوکہ ختم ہو، مگر سوال یہ ہے کہ اس تبدیلی کا آغاز ہم خود کب کریں گے؟
حقیقت یہ ہے کہ معاشرے صرف تقریروں سے نہیں بدلتے، معاشرے کردار سے بدلتے ہیں۔ ایک شخص کا اچھا کردار دوسرے کے لیے مثال بنتا ہے، ایک گھر کا اچھا ماحول پورے خاندان کو متاثر کرتا ہے، ایک ذمہ دار شہری اپنے اردگرد کے لوگوں کے رویوں پر اثر ڈالتا ہے اور یوں چھوٹی چھوٹی مثبت تبدیلیاں مل کر ایک بڑے معاشرتی انقلاب کی بنیاد رکھ سکتی ہیں۔
آج ہم سوشل میڈیا پر اصلاحی باتیں لکھتے ہیں، ویڈیوز شیئر کرتے ہیں، دوسروں کو نصیحتیں کرتے ہیں اور معاشرے کی خرابیوں پر تنقید کرتے ہیں۔ لیکن اگر ہماری عملی زندگی میں جھوٹ، بددیانتی، وعدہ خلافی، بدزبانی، عدم برداشت اور خود غرضی موجود ہو تو ہماری خوبصورت باتیں اپنا اثر کھو دیتی ہیں۔ انسان کی اصل پہچان اس کے الفاظ نہیں بلکہ اس کا کردار ہوتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کردار کوئی ایک دن میں بننے والی چیز نہیں۔ کردار ہماری روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے فیصلوں سے تشکیل پاتا ہے۔ ہم دکان پر گاہک کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں، ملازم سے کس لہجے میں بات کرتے ہیں، والدین کا احترام کس طرح کرتے ہیں، بچوں کے سامنے دوسروں کے بارے میں کیا گفتگو کرتے ہیں، سڑک پر ٹریفک قوانین کی پابندی کرتے ہیں یا نہیں، کسی ضرورت مند کی مدد کرتے ہیں یا اسے نظر انداز کر دیتے ہیں، یہ سب ہمارے کردار کا حصہ ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے جھوٹ نہ بولیں تو سب سے پہلے ہمیں اپنے معاملات میں سچائی اختیار کرنا ہوگی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ نوجوان بزرگوں کا احترام کریں تو ہمیں اپنے بڑوں کے ساتھ احترام کا رویہ اپنانا ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ لوگ قانون کی پابندی کریں تو ہمیں خود قانون کی پاسداری کرنا ہوگی۔ بچوں کو صرف نصیحتوں سے نہیں، اپنے عمل سے تربیت ملتی ہے۔
ہمارے معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں کے لیے معیار الگ اور اپنے لیے الگ رکھتے ہیں۔ اگر کوئی دوسرا غلطی کرے تو ہم اسے اخلاقی جرم قرار دیتے ہیں، لیکن جب وہی غلطی ہم سے ہو جائے تو اس کے لیے جواز تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہی دوہرا معیار معاشرتی اصلاح کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
ہمیں خود احتسابی کی عادت اپنانا ہوگی۔ ہر روز خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ آج میں نے کسی کے ساتھ ناانصافی تو نہیں کی کسی کا دل تو نہیں دکھایا؟ کسی کا حق تو نہیں مارا؟ کسی ضرورت مند کو نظر انداز تو نہیں کیا؟ اپنی ذمہ داری پوری کی یا نہیں؟ اگر ہم روزانہ اپنے کردار کا احتساب شروع کر دیں تو شاید دوسروں کی اصلاح کی ضرورت کم اور اپنی اصلاح کی ضرورت زیادہ محسوس ہونے لگے۔
معاشرے کی تعمیر صرف حکومت، اداروں یا سیاسی قیادت کی ذمہ داری نہیں۔ ریاستی اداروں کی اپنی ذمہ داریاں ہیں، لیکن ایک شہری کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ ایک صاف ستھری گلی، ایک ذمہ دار دکاندار، ایک دیانت دار استاد، ایک فرض شناس ڈاکٹر، ایک محنتی مزدور، ایک ذمہ دار صحافی، ایک باکردار نوجوان اور ایک محبت کرنے والا والدین معاشرے کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ اختلافِ رائے زندگی کا حصہ ہے۔ آج معمولی اختلاف پر تعلقات ختم ہو جاتے ہیں، ایک دوسرے پر الزامات لگائے جاتے ہیں اور سوشل میڈیا پر کردار کشی شروع ہو جاتی ہے۔ اگر ہم معاشرے میں برداشت چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے رویوں میں برداشت پیدا کرنا ہوگی۔ کسی کی بات سے اختلاف کرنا آسان ہے، لیکن اختلاف کے باوجود احترام برقرار رکھنا اصل کردار ہے۔
اسی طرح ہمیں دوسروں کی کامیابی سے خوش ہونا سیکھنا ہوگا۔ حسد اور مقابلے کی اندھی دوڑ انسان کو اندر سے کمزور کر دیتی ہے۔ اگر ہمارے اردگرد کوئی شخص ترقی کرتا ہے تو ہمیں اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ کسی کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کے بجائے اگر ہم اس کے لیے آسانی پیدا کریں تو معاشرہ زیادہ مضبوط ہوگا۔
خدمتِ خلق بھی کردار کی ایک خوبصورت شکل ہے۔ کسی غریب کی مدد کرنا، کسی بیمار کے لیے خون کا انتظام کرنا، کسی طالب علم کی فیس میں تعاون کرنا، کسی بزرگ کو راستہ دینا، کسی پریشان شخص کی بات سن لینا—یہ بظاہر چھوٹے کام ہیں، مگر انہی چھوٹے اعمال سے انسانیت زندہ رہتی ہے۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ معاشرہ خراب ہوگیا ہے۔ لیکن معاشرہ کوئی الگ مخلوق نہیں؛ معاشرہ ہم سب سے مل کر بنتا ہے۔ اگر معاشرہ خراب ہے تو ہمیں یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ اس خرابی میں ہمارا اپنا حصہ کتنا ہے؟ ہم معاشرے کا حصہ بھی ہیں اور اس کی تشکیل کرنے والے بھی۔
اصلاح کا آغاز ہمیشہ فرد سے ہوتا ہے۔ ایک انسان خود کو بدلتا ہے تو اس کا گھر متاثر ہوتا ہے، گھر بدلتا ہے تو خاندان متاثر ہوتا ہے، خاندان بدلتے ہیں تو محلہ بدلتا ہے اور محلے بدلیں تو پورا معاشرہ تبدیل ہونے لگتا ہے۔ اسی لیے ہمیں بڑے دعووں کے بجائے چھوٹے عملی قدم اٹھانے ہوں گے۔
ہمیں وعدہ کرنا ہوگا کہ ہم جھوٹ سے بچیں گے، امانت میں خیانت نہیں کریں گے، کسی کا حق نہیں ماریں گے، والدین کا احترام کریں گے، بچوں سے محبت اور شفقت سے پیش آئیں گے، خواتین کا احترام کریں گے، قانون کی پابندی کریں گے، اختلاف میں شائستگی اختیار کریں گے اور ضرورت مند انسان کے لیے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔
آج ہمیں مزید لمبی تقریروں سے زیادہ عملی مثالوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے استاد چاہییں جو خود علم اور کردار کی مثال ہوں، ایسے تاجر چاہییں جو دیانت کو کاروبار کا اصول بنائیں، ایسے نوجوان چاہییں جو وقت اور صلاحیت کو مثبت کاموں میں استعمال کریں، ایسے والدین چاہییں جو بچوں کو صرف کامیابی نہیں بلکہ اچھا انسان بننے کی تعلیم دیں۔
یاد رکھنا چاہیے کہ الفاظ وقتی طور پر متاثر کر سکتے ہیں، مگر کردار دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔ ایک اچھی تقریر چند منٹ تک یاد رہ سکتی ہے، لیکن ایک اچھا کردار برسوں تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے۔
لہٰذا ہمیں معاشرے کی اصلاح کے لیے صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ لوگ بدل جائیں؛ ہمیں کہنا چاہیے کہ میں خود بدلنے کی کوشش کروں گا۔ ہمیں دوسروں سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ ہمیں تنقید سے پہلے اصلاح، شکایت سے پہلے ذمہ داری اور تقریر سے پہلے عمل کو ترجیح دینا ہوگی۔
اگر ہم واقعی ایک بہتر، پرامن، بااخلاق اور ذمہ دار معاشرہ چاہتے ہیں تو اس کا آغاز کسی بڑے جلسے، لمبی تقریر یا بڑے نعرے سے نہیں بلکہ ہمارے اپنے کردار سے ہوگا۔
کیونکہ معاشرے کی اصلاح تقریروں سے نہیں، کردار سے ہوتی ہے۔ اور کردار کی تبدیلی کا پہلا قدم ہمیشہ اپنے آپ سے شروع ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں





