غزل،وہ بے وفا تھا مگر غم شناس تھا اپنا،شاعرہ،ثوبیہ راجپور
نقطہ نظر
مصنف:
غزل
وہ بے وفا تھا مگر غم شناس تھا اپنا
اگرچہ جیسا بھی تھا ، پر لباس تھا اپنا
زمانہ دنگ ہے ہم پیاسے مر گئے کیسے
بھرا ہوا تو لبا لب گلاس تھا اپنا
ہماری خوئے انا پر سوال اٹھاتا یے
کبھی یہ رنگ زمانے کو راس تھا اپنا
کسی نے پوچھا محبت کا حال کیا ہے اب
تو مسکرا کے کہا بس قیاس تھا اپنا
عجب نہیں ہے کہ ہم خود نگل گئے خود کو
کہ اپنے آپ کی جانب نکاس تھا اپنا
ہمیں کسی نے بھی تفصیل سے نہیں دیکھا
پڑھا جو سب نے وہ بس اقتباس تھا اپنا
بری خبر کوئی ملنی ہی تھی ہمیں ثوبی
کہ آج صبح سے ہی دل اداس تھا اپنا





