جولائی بارش کا مہینہ تھا ـجس میں سمجھ دار لوگ سفر ملتوی کر دیتے ہیں۔ گرمی، حبس اور بارش کی پیش گوئیاں۔ سب گھر والوں نے کہا، اس موسم میں کون تھر جاتا ہے؟ راستے خراب ہوں گے، گاڑی پھنسے گی۔ میرے دل میں ایک خواہش تھی۔ میں نے تھر کو ہمیشہ خشک، زرد اور پیاسا دیکھا تھا۔ میں اسے اس کے عاشق روپ میں دیکھنا چاہتی تھی، بارش کے بعد جب وہ ہرا بھرا ہو جاتا ہے۔ اس لیے میں نے ایک گرم چادر، ایک برساتی اور اپنی ڈائری بیگ میں رکھی اور حیدرآباد سے نکل پڑی۔ صبح سویرے میرپور خاص تک آسمان پر نیچے آئے ہوئے بادل تھے۔ ہوا میں مٹی کی سوندھی خوشبو تھی، جو بارش سے پہلے آتی ہے۔ ناشتے کے دوران پہلی بوند گری، پھر دوسری اور پھر جھڑی لگ گئی۔ ڈرائیور مسکرا کر بولا، باجی، تھر آپ کا استقبال بورڈ واؤکر کر رہا ہے۔ میرپور خاص سے عمرکوٹ اور چھاچرو تک کا راستہ بدل چکا تھا۔ تین دن کی بارش نے صحرا کا نقشہ بدل دیا تھا۔ ریت کے وہ ٹیلے، جو ہمیشہ بنجر لگتے تھے، ان پر ہلکی ہلکی ہری گھاس اگ آئی تھی۔ جگہ جگہ سفید اور جامنی جنگلی پھول کھلے تھے۔ بچے ننگے پاؤں کیچڑ میں دوڑ رہے تھے، ہنس رہے تھے۔ چھاچرو کے بعد اصل انجان راستہ شروع ہوا۔ وہ راستہ، جس کا نقشہ گوگل بھی نہیں دیتا۔ سڑک کبھی پکی، کبھی بالکل غائب۔ گاڑی کئی بار کیچڑ میں پھنسی، ہمیں اتر کر دھکا لگانا پڑا، مگر غصہ نہیں آیا۔ کیونکہ ہر بار سامنے ایک نیا منظر تھا۔ کہیں بارش کا پانی تالاب بنا ہوا تھا، جس میں بطخیں تیر رہی تھیں۔ شام سے پہلے ہم نگر پارکر پہنچے۔ سامنے کارونجھر پہاڑ کھڑا تھا، مگر وہ کارونجھر نہیں تھا، جس کا ذکر سنا تھا۔ وہ کالا، خشک پہاڑ آج مری کا منظر پیش کر رہا تھا۔ اس پر گھنے بادل جھکے ہوئے تھے، دھند اس کی چوٹیوں سے لپٹی تھی اور جگہ جگہ سے چھوٹے چھوٹے جھرنے بہہ رہے تھے۔ ٹھنڈی ہوا میں مجھے چادر اوڑھنی پڑی۔ ہوٹل والے نے کہا، میڈم، آج تو ہمارا کارونجھر مری بن گیا ہے، آپ کو کشمیر جانے کی ضرورت نہیں۔ اگلی صبح میں نگر پارکر کے چھوٹے سے بازار گئی۔ بارش کے بعد بازار میں رونق بڑھ گئی تھی۔ دکانوں میں سب سے نمایاں تھری ہینڈی کرافٹ تھا۔ رنگ برنگی رلیاں ٹنگی تھیں، سرخ، نیلے اور پیلے دھاگوں سے بنی ہوئی۔ دکاندار نے بتایا کہ ایک رلی بنانے میں ایک عورت کا پورا مہینہ لگتا ہے۔ ساتھ ہی شیشے کی کڑھائی والے کوچے، موتیوں کے ہار، کچھی ٹوپیاں اور اونٹ کی کھال سے بنی نرم جوتیاں۔ میں نے ایک جوتی ہاتھ میں لی، اتنی نرم جیسے کپڑے کی ہو۔ کھانے میں باجرے کی ڈھبری روٹی، مٹی کی مٹکی کی نمکین لسی اور گرم پکوڑے۔ ایک بزرگ نے مفت لسی پلا کر کہا، شہر کی بوتل میں یہ ذائقہ کہاں؟ نگر پارکر کو مندروں کا شہر بھی کہتے ہیں۔ میں سب سے پہلے بھوڈیسر گئی۔ ایک ہی احاطے میں مسجد اور جین مندر۔ سفید پتھروں سے بنا، باریک نقش و نگار والا، تقریباً پانچ سو سال پرانا۔ بارش میں اس کے پتھر چمک رہے تھے۔ پھر میں کارونجھر کے دامن میں موجود قدیم جین مندروں میں گئی۔ وہاں مکمل خاموشی تھی۔ نہ پجاری، نہ شور، صرف پتھر کی مورتیاں جن پر بارش کے قطرے تھے۔ یہاں ہندو اور مسلمان ایک ہی کنویں سے پانی بھرتے ہیں۔ کسی نے میری ذات نہیں پوچھی۔ پہاڑ پر چڑھتے ہوئے ہلکی پھوار شروع ہو گئی۔ ایک غار میں ایک چرواہا بانسری بجا رہا تھا۔ اس نے اپنی ڈھاٹکی زبان میں لوک گیت گایا، جو آج تک میرے کانوں میں ہے: *"کارونجھر تي ڪڪر آئيا، مورڙا مچائي ناچ، ٿرڙي برسات آئي، دلڙي ۾ ٿيو ساج۔"* اس کا مطلب ہے، کارونجھر پر بادل آئے ہیں، مور خوشی سے ناچ رہے ہیں، تھر میں برسات آئی ہے اور دل میں خوشی جاگ اٹھی ہے۔ اس گیت کے ساتھ نیچے وادی میں بادل تیر رہے تھے، مری جیسا منظر تھاـرات کو تاروں سے بھرا آسمان اور خوش گوار ہوا
تھر صرف صحرا نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی تہذیب بھی ہے یہ ہی سوچتے نیند کی وادی میں کھوگئی ۔
دوسرے دن اچھی یادوں کے ساتھ واپسی کا سفر بھی بہت یادگار رہا ـ
مزید پڑھیں





