Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جنگ، بارود اور امن ،تحریر: سید ساجد علی شاہ

نقطہ نظر
sajid ali shah

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر جنگ، بارود اور بے یقینی کے حصار میں ہے۔ کبھی غزہ سے اٹھتا دھواں دنیا کو دکھائی دیتا ہے، کبھی ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور اب یمن سے اٹھنے والی آگ نے سعودی عرب کی سلامتی کو بھی براہِ راست متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ صرف چند ممالک کے درمیان تنازع نہیں بلکہ ایسا بحران بنتا جا رہا ہے جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت، توانائی، تجارت اور انسانی زندگی تک پہنچ سکتے ہیں۔ سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی نے اس بحران کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ 19 ستمبر 2026ء کو سعودی حکام کے مطابق حوثیوں نے ریاض کی طرف بیلسٹک میزائل داغا جسے سعودی دفاعی نظام نے روک لیا۔ اسی دوران حوثیوں کی جانب سے ریاض اور ینبع میں حساس اور تیل سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے بھی سامنے آئے، جبکہ سعودی قیادت والے اتحاد نے سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کی اطلاع دی۔ ان دعوؤں کے بعض حصوں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ یہ صورتحال اس لیے بھی تشویش ناک ہے کہ یمن میں کئی برس کی خونریزی کے بعد 2022ء میں جنگ بندی کے نتیجے میں نسبتاً سکون پیدا ہوا تھا، مگر 2026ء کے وسط سے لڑائی دوبارہ شدت اختیار کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق یمن کے مغربی ساحل اور دیگر محاذوں پر لڑائی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ باب المندب کے قریب حوثیوں کی پیش قدمی نے عالمی بحری تجارت کے لیے بھی خدشات بڑھا دیے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر یمن کے عوام کب تک جنگ کی قیمت ادا کرتے رہیں گے؟ ایک ایسا ملک جو پہلے ہی طویل خانہ جنگی، معاشی تباہی اور انسانی بحران کا شکار ہے، وہاں دوبارہ میزائلوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ عام انسان کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں 22 ملین سے زیادہ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے، جبکہ حالیہ کشیدگی کے بعد بے گھر ہونے والوں کی تعداد بھی تیزی سے بڑھی ہے۔ جنگ کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ فیصلے طاقتور لوگ کرتے ہیں مگر اس کا بوجھ کمزور لوگ اٹھاتے ہیں۔ میزائل بنانے والے شاید اپنے منصوبوں میں کامیابی یا ناکامی کا حساب رکھتے ہوں، لیکن جس گھر پر میزائل گرتا ہے وہاں کوئی حساب باقی نہیں رہتا۔ وہاں ایک ماں اپنے بچے کو تلاش کرتی ہے، ایک باپ اپنے خاندان کو محفوظ جگہ منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ایک بچہ یہ سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے کہ اس کے گھر کے آسمان پر جہاز کیوں گرج رہے ہیں۔ سعودی عرب کے لیے یہ صورتحال اپنی نوعیت کا بڑا سکیورٹی چیلنج ہے۔ ریاض پر میزائل حملے کی کوشش اور سعودی شہروں، توانائی کے مراکز اور دیگر تنصیبات کو لاحق خطرات نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھایا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ دوسری طرف حوثیوں کا مؤقف ہے کہ ان کی کارروائیاں سعودی حملوں اور خطے میں جاری وسیع تر جنگ کے جواب میں ہیں۔ ان کے دعووں کے مطابق سعودی تنصیبات اور دیگر اہداف کو نشانہ بنانا ان کی جوابی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ لیکن کسی بھی فریق کا مؤقف عام شہریوں کو نقصان پہنچانے یا شہری بنیادی ڈھانچے کو خطرے میں ڈالنے کے مسئلے کو ختم نہیں کرتا۔ جنگ میں سب سے اہم اصول یہی ہونا چاہیے کہ عام انسان کو نشانہ نہ بنایا جائے اور بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کیا جائے۔ اس پورے بحران میں باب المندب کی اہمیت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔ یہ بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والا اہم بحری راستہ ہے۔ اگر یہاں کشیدگی مسلسل بڑھتی ہے تو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی باب المندب کے قریب بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حوثیوں کی پیش قدمی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ یہاں سے بحران صرف یمن اور سعودی عرب تک محدود نہیں رہتا۔ جب سمندری راستے غیر محفوظ ہوتے ہیں تو جہاز رانی کے اخراجات بڑھتے ہیں، تیل اور دیگر توانائی کے ذرائع کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے اور دنیا کے مختلف ممالک میں مہنگائی کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ایک جنگ جو نقشے پر ہزاروں کلومیٹر دور دکھائی دیتی ہے، اس کے اثرات ایک عام پاکستانی، افریقی، ایشیائی یا یورپی گھرانے کے بجٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کا موجودہ بحران غزہ اور ایران کی صورتحال سے بھی الگ نہیں دیکھا جاسکتا۔ ایک محاذ پر فلسطینی عوام انسانی المیے سے گزر رہے ہیں، دوسرے طرف ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے اور یمن میں حوثیوں کی کارروائیاں ایک نئے محاذ کو جنم دے رہی ہیں۔ یوں ایک بحران دوسرے بحران سے جڑتا جا رہا ہے اور خطے میں امن کا راستہ مزید پیچیدہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر مسئلے کا جواب جنگ ہی ہے؟ اگر ایک میزائل کا جواب دوسرا میزائل ہو، ایک حملے کا جواب دوسرا حملہ اور ایک دھمکی کا جواب اس سے بڑی دھمکی ہو تو یہ سلسلہ کہاں جاکر رکے گا؟ جنگ شاید چند لمحوں میں شروع ہوجاتی ہے، لیکن اسے ختم کرنے میں نسلیں لگ سکتی ہیں۔ دنیا کی بڑی طاقتوں، علاقائی ممالک اور تمام فریقوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ کو مزید بارود نہیں بلکہ سیاسی حل کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب کی سلامتی بھی ضروری ہے، یمن کے عوام کا تحفظ بھی ضروری ہے، فلسطینیوں کے حقوق اور انسانی تحفظ بھی اہم ہیں اور خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی بھی۔ پائیدار امن اسی وقت ممکن ہوگا جب ان تمام پہلوؤں کو ایک ساتھ دیکھا جائے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ امن کمزوری کا نام نہیں۔ امن ایک ایسی طاقت ہے جو جنگ سے تباہ ہونے والی نسلوں کو دوبارہ زندگی دیتی ہے۔ مذاکرات میزائل سے زیادہ وقت لے سکتے ہیں، سفارت کاری بمباری سے زیادہ مشکل ہوسکتی ہے، لیکن انسانی جان بچانے کا راستہ ہمیشہ اسی طرف جاتا ہے۔ آج مشرقِ وسطیٰ کے آسمان پر بارود کے بادل ہیں، مگر دنیا کو انہی بادلوں کے درمیان امن کی کرن تلاش کرنا ہوگی۔ سعودی عرب ہو یا یمن، فلسطین ہو یا ایران، ہر جگہ عام انسان سکون چاہتا ہے۔ اسے اپنے بچے کے لیے اسکول، اپنے گھر کے لیے چھت، اپنے شہر کے لیے امن اور اپنے مستقبل کے لیے امید چاہیے۔ مشرقِ وسطیٰ کے حکمرانوں اور عالمی طاقتوں کے سامنے اصل امتحان یہی ہے کہ وہ تاریخ میں مزید جنگوں کے نام لکھوانا چاہتے ہیں یا امن کی ایسی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں جس پر آنے والی نسلیں زندگی تعمیر کرسکیں۔ کیونکہ جنگ جیتنے والا بھی آخرکار امن ہی چاہتا ہے، اور بارود کے بعد انسان کو بہرحال تعمیر ہی کرنی پڑتی ہے۔دنیا کو آج ایک اور جنگ کی نہیں، ایک ایسے امن کی ضرورت ہے جو میزائلوں کو خاموش اور انسانوں کو بولنے کا موقع دے۔