Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جاتے موسم کی بہار، گلا خراب اور بخار،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم

نقطہ نظر
dr nazia nadeem

یہ ستمبر اور اکتوبر کا درمیانی وقت، جب دن کی کڑی دھوپ میں تمازت کی ہلکی رمق باقی رہتی ہے اور رات کی ٹھنڈک پنکھے کی رفتار دھیمی کرنے پر مجبور کر دیتی ہے، طب و صحت کے اعتبار سے بے حد نازک مانا جاتا ہے۔ جاتی ہوئی گرمی اور آتی ہوئی خنکی کے اس ملاپ کو اگر "موسمِ تغیر" کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ یہ وہ درمیانی وقت ہے جب فضا میں ہوا کا دباؤ بدلتا ہے، درجہ حرارت کے تضادات نمایاں ہوتے ہیں اور انسان ذرا سی غفلت برتنے پر نزلہ، زکام، سر درد اور بخار کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔


آج کل تقریباً ہر گھر میں کوئی نہ کوئی فرد سر پکڑ کر بیٹھا نظر آتا ہے یا تھرما میٹر کی پٹی کے زیرِ اثر ہے۔ اس موسم کا سب سے عام عارضہ شدید یا ہلکا سر درد ہے، جو پیشانی، کنپٹیوں اور بعض اوقات آنکھوں کے پچھلے حصے پر دباؤ کی صورت محسوس ہوتا ہے۔ دراصل، جب ہم دن بھر کی حبس اور گرمی میں پسینے سے شرابور ہوتے ہیں اور فوری طور پر ائیر کنڈیشنڈ کمرے کی یخ بستہ ہوا یا تیز پنکھے کے نیچے بیٹھ جاتے ہیں، تو جسم کا اندرونی درجہ حرارت کنٹرول کرنے والا نظام اچانک صدمے سے دوچار ہو جاتا ہے۔ رگیں تیزی سے سکڑتی ہیں اور اعصابی تناؤ جنم لیتا ہے، جس کا پہلا اور فوری اظہار سر کے درد کی شکل میں ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بارشوں کے اختتام پر فضا میں معلق گرد و غبار، پولن اور ہوا میں نمی کا اتار چڑھاؤ سائنس کی نالیوں میں سوجن اور سوزش پیدا کر دیتا ہے، جسے سائنسائٹس کہتے ہیں، اور یہ بھی شدید سر درد کا باعث بنتا ہے۔


سر درد کے فوراً بعد بخار کی کیفیت حملہ آور ہوتی ہے، جسے عموماً "موسمی وائرل بخار" کہا جاتا ہے۔ اس رُت میں بیکٹیریا اور وائرس کے پھیلاؤ کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔ دن کے وقت پیاس کی شدت برقرار رہتی ہے اور اکثر لوگ باہر کی تپش سے آ کر فریز کا برف جیسا ٹھنڈا پانی پینے کی سنگین غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ حلق کی نازک جھلیوں پر اچانک برفیلے پانی کی ضرب پڑتی ہے تو گلے کی خراش، ٹانسلز اور بلغم کی شکایت سر اٹھاتی ہے، جو دیکھتے ہی دیکھتے جسم میں کپکپی اور تیز بخار کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس کے علاوہ جاتی گرمی اپنے ساتھ مچھروں کی کثیر افزائش کا تحفہ بھی لاتی ہے، جس کے نتیجے میں ملیریا اور ڈینگی جیسے امراض کا خطرہ سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔ اس موسم کی یہ نام نہاد "سوغاتیں" دراصل ہماری اپنی عادات، بے اعتدالی اور موسم کے تیور نہ سمجھنے کا خمیازہ ہوتی ہیں۔


طبی نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو اس موسم کی سوغاتوں میں پیٹ اور نظامِ ہاضمہ کے مسائل بھی پیش پیش ہیں۔ دن گرم ہونے کی وجہ سے ہم بدستور لیموں پانی، شربت اور سڑک کنارے ملنے والے کھلے مشروبات و کٹے ہوئے پھلوں کی طرف راغب رہتے ہیں، جبکہ ہوا میں نمی کی زیادتی کی بنا پر بیکٹیریا تیزی سے ان اشیاء کو خراب کر رہے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان دنوں معدے کی سوزش، پیچش، متلی اور قے کے مریضوں کی تعداد میں بھی یکایک اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ انسان سستی اور تھکن کے اس احساس میں مبتلا رہتا ہے جسے طب میں عام کمزوری یا عضلاتی درد کہا جاتا ہے، جس میں ہاتھ پاؤں ٹوٹتے ہیں اور جسم میں کسی کام کی سکت محسوس نہیں ہوتی۔


ان ناخوشگوار کیفیات سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ فقط ایک ہی ہے، اور وہ ہے احتیاط۔ دانائی کا تقاضا ہے کہ بدلتے موسم کے تیوروں کو پہچانا جائے اور اپنی طرزِ زندگی کو فوری طور پر نئی رُت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ سب سے پہلی احتیاط ٹھنڈے پانی کے بے دریغ استعمال کو ترک کرنا ہے۔ فریج کے پانی کے بجائے مٹکے کا پانی یا عام درجہ حرارت کا پانی پینا جسم کے لیے اکسیر ہے۔ اسی طرح نہانے کے معمولات پر بھی خاص توجہ درکار ہے۔ تیز دھوپ اور شدید پسینے کی حالت میں براہِ راست نل کے نیچے چلے جانا فالج، پٹھوں کے کھنچاؤ اور بخار کو کھلی دعوت دینے کے مترادف ہے۔ ہمیشہ پسینہ خشک ہونے دیں، جسم کو معمول کے درجۂ حرارت پر لائیں اور پھر غسل کریں۔


رات کو سوتے وقت کھلی چھتوں یا کھلی کھڑکیوں کے عین سامنے سونے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ فجر کے وقت چلنے والی ٹھنڈی ہوا سوئے ہوئے بے خبر جسم پر بہت برا اثر ڈالتی ہے۔ خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کو، جن کی قوتِ مدافعت نسبتاً کمزور ہوتی ہے، رات کے آخری پہر ہلکی چادر اوڑھنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ ائیر کنڈیشنر کا درجہ حرارت چھبیس ڈگری پر سیٹ کرنا اور پنکھے کو درمیانی رفتار پر رکھنا اس موسم کے لیے موزوں ترین حکمتِ عملی ہے۔ گھروں اور گلی محلوں میں بارش کے رکے ہوئے پانی اور گملوں میں جمع تالابوں کو خشک کرنا بے حد ضروری ہے تاکہ مچھروں کی افزائش کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور ڈینگی و ملیریا کی وبائی صورتحال سے محفوظ رہا جا سکے۔


اگر خدانخواستہ سر درد، نزلہ یا ہلکا بخار محسوس ہونے لگے تو فوری طور پر اینٹی بائیوٹکس یا بھاری ایلوپیتھک ادویات کی طرف لپکنے کے بجائے گھریلو تدابیر اور فطری غذاؤں کا سہارا لینا چاہیے۔ قدرت نے ہمارے کچن میں ایسے بے شمار اجزاء رکھے ہیں جو اس قسم کے موسمی عوارض میں شفا کا درجہ رکھتے ہیں۔ سر درد اور گلے کی خراش کے لیے دن میں دو مرتبہ بھاپ لینا بے حد فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ پانی میں پودینے کے چند پتے یا تھوڑی سی اجوائن ڈال کر لی جانے والی بھاپ بند سانس کی نالیوں کو کھولتی ہے اور کھوپڑی کے اندر جمی رطوبتوں کو خارج کر کے سر کے بھاری پن سے نجات دلاتی ہے۔


اسی طرح قہوے کا استعمال اس موسم کا بہترین تریاق ہے۔ ادرک، دار چینی اور لونگ کا ہلکا قہوہ جس میں چند قطرے شہد کے ملا لیے جائیں، جسم کے اندرونی درجہ حرارت کو متوازن رکھتا ہے، انفیکشن سے لڑنے کی قوت پیدا کرتا ہے اور پٹھوں کے درد کو تسکین بخشتا ہے۔ اگر خشک کھانسی اور گلے میں چبھن ہو تو نیم گرم پانی میں نمک ملا کر غرارے کرنا روایتی مگر بے حد تیر بہدف نسخہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمی پھل جیسے سیب، انار اور امرود کا استعمال وٹامن سی فراہم کرتا ہے جو وائرل حملوں کے خلاف ایک مضبوط ڈھال ثابت ہوتا ہے۔


غذائی پرہیز اس مرحلے پر نہایت اہم ہے۔ تلی ہوئی اشیاء، بازاری کھانے، کولڈ ڈرنکس اور ثقیل غذاؤں سے مکمل کنارہ کشی اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ بیمار اور سست جسم کو ہضم کرنے کے لیے زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ہلکی پتلی کھچڑی، دیسی مرغی یا سبزیوں کی یخنی اور گرم دودھ میں چٹکی بھر ہلدی کا استعمال نہ صرف نقاہت دور کرتا ہے بلکہ بخار کے بعد جسم کے ٹوٹنے کے احساس کو بھی زائل کرتا ہے۔ یخنی میں کالی مرچ کا ہلکا سا چھڑکاؤ بلغم اور سر کے بوجھ کو چھانٹنے میں لاجواب کام کرتا ہے۔


بدلتی رتیں قدرت کی خوبصورتی کا مظہر ہیں اور ان کا اپنا ایک الگ ہی لطف ہے۔ اگر ہم تھوڑی سی دانشمندی، عادات پر قابو اور جسمانی ضرورتوں کا خیال رکھیں، تو یہ جاتے ہوئے گرم دن اور آتی ہوئی پرسکون خنک راتیں بیماری کا روپ دھارنے کے بجائے روح اور جسم کے لیے تازگی کا سبب بن سکتی ہیں۔ صحت مندی کا راز کسی مہنگی دوا میں نہیں بلکہ فطرت کے اصولوں کو سمجھنے اور احتیاط کی سادہ راہ اپنانے میں پنہاں ہے۔