کہیں پہ دال پانی ہے، کہیں قصہ خوانی ہے،شاعر:ندیم یعقوب گوہر
نقطہ نظر
مصنف:
کچھ اشعار غزل کے انداز میں
(سیاسی اور معاشرتی پس منظر)
ندیم یعقوب گوہر
کہیں پہ دال پانی ہے، کہیں قصہ خوانی ہے
عجب یہ قوم خالص ہے، عجب اس کی کہانی ہے
ایوانِ بالا میں یہاں، پکتی ہیں کھچڑیاں
ووٹر ٹماٹر چاٹ ہے، یہ ریت پُرانی ہے
قربانی کے بکرے بنے، گلیوں میں یہ عوام
وہ ران چانپیں کھا گئے، جن کی یہ مہمانی ہے
سیخوں پہ بھنتی چیخ کا، سُنتا نہیں کوئی
بھاگتی ہوئی جمہوریت، بدحال و حیرانی ہے
دودھ اور پانی مل گئے، سب ایک ہو گیا
ملاوٹوں کے شہر میں، اخلاقِ انسانی ہے
راستے تو سب ہی گھپ ہوئے، منزل کا کیا پتا
چین کس کو آئے گا، جب رات طوفانی ہے
مزید پڑھیں





