قصوروالے دیکھتے رہ گئے، وزیراعلیٰ پنجاب کا دورہ نہ ہوسکا

وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز نے 21 اکتوبر 2026 کو قصور شہر کے مختلف مقامات کا دورہ کرنا تھا لیکن نہ ہو سکا،
شہریوں کے مطابق دورے کا اعلان ہوتے ہی برسوں سے التوا کا شکار کاموں میں اچانک ایسی تیزی آئی کہ دیکھتے ہی دیکھتے شہر کے کئی مقامات کی حالت بدلنے لگی،راتوں رات عرصہ دراز سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار کھیم کرن روڈ پر جیسے تیسے کارپٹنگ کر دی گئی کام کی رفتار دیکھ کر خوشی بھی ہوئی اور یہ سوال بھی ذہن میں آیا کہ اگر یہی رفتار پہلے دکھائی جاتی تو شہریوں کو برسوں اذیت کیوں برداشت کرنا پڑتی؟
شہریوں کے مطابق شہباز روڈ کی دیواروں پر رنگ برنگا پینٹ کیا جا رہا ہے، روہی نالے کی ٹوٹی ہوئی دیوار تعمیر کرکے پلستر کر دی گئی، سٹیل باغ کے قریب ڈی ایچ کیو ہسپتال کے سامنے چوک کی سوکھی گرین بیلٹ میں امپورٹڈ گھاس کے کارپٹ بچھا دیے گئے، سڑکوں کے کناروں پر نئے پودے لگائے جا رہے ہیں، دیواروں اور سڑکوں کے اطراف رنگ و روغن جاری ہے، جبکہ کچہری چوک میں پرانے پٹرول پمپ کی جگہ جہاں پہلے ملبہ پڑا تھا، وہاں بھی اچانک ٹف ٹائلیں لگ گئی ہیں۔ سڑکوں کو سرف سے دھونے کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے
شہر کی خوبصورتی یقیناً اچھی بات ہے، سڑکوں کی مرمت بھی ضروری ہے اور گرین بیلٹس کی بحالی بھی خوش آئند ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا شہری سہولتوں کی فراہمی بھی کسی اعلیٰ سطح کے دورے کی محتاج ہو گئی ہے؟اگر یہ کام چند دنوں میں ہو سکتے ہیں تو پھر برسوں سے ان پر توجہ کیوں نہیں دی گئی؟ کیا عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے کسی بڑے عہدے دار کی آمد کا اعلان ضروری ہے؟ کیا شہریوں کی مشکلات اس وقت تک اہمیت نہیں رکھتیں جب تک کسی وی آئی پی کا گزر ان راستوں سے نہ ہو،قصور شہر ہی نہیں، ضلع کے مختلف علاقوں میں کئی سڑکیں برسوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ دیہی علاقوں میں ایسے راستے بھی موجود ہیں جہاں چند میٹر کی تعمیر لوگوں کی روزمرہ زندگی آسان بنا سکتی ہے، کسانوں کی آمدورفت بہتر ہو سکتی ہے اور حادثات کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر دھوپ سڑی کے مقام پر دریائی کنارے کچے راستے کے ایک مختصر حصے کی تعمیر کے لیے کسان طویل عرصے سے مطالبات کرتے آ رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق وہاں حادثات بھی پیش آ چکے ہیں، مگر ایسے کاموں کے لیے فنڈز اور توجہ کی کمی کا سامنا رہتا ہے
یہی وہ تضاد ہے جو شہریوں کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ ایک طرف عوام برسوں سے بنیادی سہولتوں کے لیے درخواستیں دیتے رہتے ہیں، دوسری طرف دورے کا شیڈول سامنے آتے ہی مخصوص مقامات پر کاموں کی رفتار غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ وزیراعلیٰ کے دورے سے پہلے کام کیوں ہو رہے ہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ یہ کام پہلے کیوں نہیں ہوئے
کیا ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات عوام کی ضروریات کے مطابق طے ہوتی ہیں یا ان راستوں اور مقامات کو پہلے چنا جاتا ہے جہاں سے کسی اہم شخصیت نے گزرنا ہو؟ اگر انتظامیہ چند دنوں میں مشینری، عملہ، پودے، تعمیراتی سامان اور دیگر وسائل مہیا کر سکتی ہے تو عام دنوں میں یہی فعالیت کیوں نظر نہیں آتی؟
ایک اور اہم پہلو بھی نظرانداز نہیں ہونا چاہیے۔ سڑک پر کارپٹ بچھا دینا کافی نہیں، اس کے معیار اور پائیداری کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح خوبصورتی کے لیے لگائی گئی گھاس، پودوں اور ٹف ٹائلوں کی دیکھ بھال کا مستقل انتظام ہونا چاہیے، ورنہ چند ہفتوں بعد یہی مقامات دوبارہ اپنی پرانی حالت میں دکھائی دے سکتے ہیں
عوام کو صرف خوبصورت دیواریں، صاف سڑکیں اور سرسبز چوک ہی نہیں چاہییں؛ انہیں محفوظ راستے، معیاری تعمیرات، نکاسی آب، صحت و تعلیم کی بہتر سہولتیں اور روزمرہ مسائل کا مستقل حل بھی درکار ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا دورہ قصور شہر کے لیے بہتری کا موقع بن سکتا ہے، بشرطیکہ یہ بہتری چند مخصوص مقامات تک محدود نہ رہے۔ بہتر یہی ہوگا کہ دورے کے بعد بھی ترقیاتی کاموں کی یہی رفتار برقرار رکھی جائے، ضلع کے دور دراز علاقوں کے مسائل کا جائزہ لیا جائے اور ترجیحات کا تعین نمائشی خوبصورتی کے بجائے عوامی ضرورت اور زمینی حقائق کی بنیاد پر کیا جائے،آخر میں ضلعی انتظامیہ سے ایک سادہ سا سوال ہے کہ کیا قصور کے شہریوں کو اپنے شہر کی سڑکیں، صاف ستھرے چوک اور بہتر سہولتیں صرف وی آئی پی دوروں کے موقع پر ہی ملیں گی، یا یہ سب ان کا مستقل حق بھی سمجھا جائے گا؟عوام کو چند دنوں کی چمک دمک نہیں، ایسی ترقی چاہیے جو دورے کے بعد بھی قائم رہے
مزید پڑھیں



ٹرانس جینڈر مرد اور اہلیہ پہلے بچے کی آمد کے منتظر

