خاموش سسکیاں اور ہمارا مرتا ہوا ضمیر،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ
نقطہ نظر
اشعار برائے آغاز
عدلِ انساں سے نہ مایوس ہو اے چشمِ تر
دیکھ رہا ہے سب وہ مالک، عرش ہے جس کا گھر
جس دن اٹھے گی وہ لاٹھی بے آوازِ خداوندی
کوئی بھیڑیے کا روپ دھارے بچے گا نہ بشر
معاشرہ افراد کے باہمی ربط، احساسِ تحفظ اور اخلاقی اقدار کے مجموعے کا نام ہوتا ہے۔ لیکن جب اسی معاشرے کی بنیادوں کو کوئی ناسور اندر ہی اندر چاٹنے لگے، تو اس کا شیرازہ بکھرنے میں دیر نہیں لگتی۔ آج ہمارے معاشرے میں انسان کی عزتِ نفس بری طرح مجروح ہو چکی ہے اور ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے۔ موجودہ دور میں ہمیں جس سب سے ہولناک اور سنگین بحران کا سامنا ہے، وہ "جنسی استحصال" ہے۔ یہ ایک ایسا تاریک سچ ہے جس پر بات کرتے ہوئے اکثر ہماری زبانیں لڑکھڑا جاتی ہیں اور قلم کانپنے لگتے ہیں۔ جنسی استحصال محض ایک جسمانی جرم نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کی روح، اس کی خوداری اور اس کے جینے کے حق پر ایک مہلک وار ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ اب یہ ظلم اتنا عام ہو چکا ہے کہ لوگ اس کے عادی ہوتے جا رہے ہیں اور ہماری حساسیت ختم ہو چکی ہے۔
دن بدن ان درندے نما بھیڑیوں اور آدم خوروں کی بوچھاڑ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ان آدم خور جانوروں کو کوئی پکڑنے والا کیوں نہیں ہے؟ ہم فخر سے خود کو "اسلامی جمہوریہ پاکستان" کہتے ہیں، جہاں اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق جان، مال اور عزت کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہونا چاہیے تھا۔ مگر اسی پاک دھرتی پر روز ایسے گھناؤنے واقعات سرزد ہو رہے ہیں کہ انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ آخر کیوں؟ آخر کب تک معصوم بچوں کو ہوس اور زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہے گا؟ اس ظلم کے خلاف کوئی سخت قانون کیوں نہیں نافذ کرتا؟ کیا اس ملک کے اربابِ اختیار اور معاشرے کے عام لوگوں کا ضمیر زندہ ہے یا ہمیشہ کے لیے مر چکا ہے؟
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جب بھی جنسی استحصال کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے، تو مروجہ رویہ انصاف کی فراہمی کے بجائے مظلوم کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے۔ "مظلوم کو ہی قصوروار ٹھہرانا" ہماری وہ اخلاقی پستی ہے جو مجرم کے حوصلے مزید بلند کر دیتی ہے۔ ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ استحصال کا شکار ہونے والا شخص کسی عمر یا جنس کا محتاج نہیں ہوتا۔ معصوم بچے، اسکول و کالج کی طالبات، اور اپنے گھروں کا چولہا جلانے کے لیے باہر نکلنے والی محنت کش خواتین؛ سبھی اس درندگی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ جب ہم مظلوم کے کپڑوں، اس کے باہر نکلنے کے وقت یا اس کے اندازِ گفتگو پر سوال اٹھاتے ہیں، تو دراصل ہم اس درندے کو تحفظ فراہم کر رہے ہوتے ہیں جس نے قانون اور انسانیت دونوں کی دھجیاں اڑائی ہوتی ہیں۔
جنسی استحصال کی جڑیں ہمارے فرسودہ سماجی ڈھانچے اور تربیت کے فقدان میں پیوست ہیں۔ ہم اپنے بیٹوں کو ڈاکٹر، انجینئر اور کامیاب بزنس مین بننا تو سکھاتے ہیں، لیکن انہیں یہ سکھانا بھول جاتے ہیں کہ عورت اور بچوں کی عزت کیسے کرنی ہے اور کسی کی نفی کا احترام کیسے کرنا ہے۔ دوسری طرف، ہم اپنی بیٹیوں کو ہر حال میں "خاموش رہنے" اور "صبر کرنے" کی تلقین کرتے ہیں۔ یہی خاموشی مجرم کا سب سے بڑا ہتھیار بن جاتی ہے۔ جب ایک بچہ یا عورت اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر بات کرنے سے ڈرتی ہے کہ معاشرہ اسے ہی بدنام کر دے گا، تو وہ اندر ہی اندر مرنے لگتی ہے۔ وہ سسکیاں جو بند کمروں میں دم توڑ دیتی ہیں، وہ ہمارے پورے عدالتی اور سماجی نظام پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں۔
اس ناسور کے خاتمے کے لیے ہمیں فوری اور انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اپنے گھروں سے آغاز کرنا ہوگا۔ والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ ایک دوستانہ اور محفوظ ماحول قائم کرنا چاہیے تاکہ اگر ان کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے، تو وہ بلا جھجھک اپنے والدین کو بتا سکیں۔ بچوں کو "گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ" کی تعلیم دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، جسے شرم کی چادر میں چھپایا نہیں جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہمارے تعمیلی نصاب میں اخلاقیات اور انسانی حقوق کے تحفظ کو لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ نئی نسل میں شعور بیدار ہو۔
دوسرا اہم قدم قانونی نظام کی اصلاح اور اس پر سختی سے عملدرآمد ہے۔ ہمارے ملک میں قوانین تو موجود ہیں، لیکن انصاف کی فراہمی میں تاخیر اور طویل عدالتی کارروائیاں مظلوم کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔ جنسی استحصال کے مقدمات کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں ہونی چاہئیں، جہاں متاثرہ فرد کی شناخت کو خفیہ رکھ کر مجرموں کو ایسی عبرتناک اور سرِعام سزائیں دی جائیں کہ آئندہ کسی کو ایسی گھناؤنی حرکت کرنے کی جرات نہ ہو سکے۔ جب تک قانون کا خوف دلوں میں نہیں بیٹھے گا، تب تک سڑکوں، بازاروں اور اداروں میں درندے آزاد گھومتے رہیں گے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ ہم سب اپنی آنکھیں اور کان کھولیں اور اپنے سوئے ہوئے ضمیر کو جگائیں۔ خاموشی اب کوئی آپشن نہیں رہی، کیونکہ آج اگر کسی اور کا بچہ اس کا شکار ہوا ہے، تو کل ہمارا اپنا گھر بھی اس کی زد میں آ سکتا ہے۔ جنسی استحصال کے خلاف آواز اٹھانا کسی ایک فرد یا ادارے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہم سب کا مشترکہ اخلاقی فریضہ ہے۔
لیکن ان سب زمینی قوانین اور ناانصافیوں سے ہٹ کر، ان ظالموں کو ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ دنیا کا کوئی انسان انہیں دیکھے نہ دیکھے، اللہ دیکھ رہا ہے! اس کے معصوم فرشتوں نے ایک ایک ظلم، ایک ایک آنسو اور ایک ایک سسکی کو لکھ دیا ہے۔ دنیا کی عدالتیں شاید بک جائیں، قانون اندھا ہو جائے، مگر اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ اور یاد رکھیں، جس دن اس ربِ ذوالجلال کی لاٹھی چارج ہو گئی، اس دن انسانوں کے روپ میں چھپے ان درندے بھیڑیوں اور آدم خوروں میں سے کوئی ایک بھی نہیں بچے گا۔ اس کی پکڑ بہت سخت ہے، اور مظلوموں کی پکار عرشِ الٰہی کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ آئیے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، ہم بحیثیتِ معاشرہ اپنے کردار کو بدلیں، تاکہ ہم اس دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو ہو سکیں۔
مزید پڑھیں





