خاموشی ہمیشہ بے بسی نہیں ہوتی،تحریر: طاہر محمود
نقطہ نظر
زندگی انسان کو بہت سے سبق کتابوں سے نہیں بلکہ حالات سے سکھاتی ہے۔ انہی سبقوں میں ایک اہم سبق خاموشی بھی ہے۔ بظاہر خاموشی چند لمحوں کا سکوت ہے، مگر اس کے اندر صبر، شعور، احساس اور کردار کی ایک پوری دنیا آباد ہوتی ہے۔ انسان جب زندگی کے تجربات سے گزرتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ ہر بات کا جواب دینا، ہر الزام کی وضاحت کرنا اور ہر شخص کو اپنی سچائی کا یقین دلانا ضروری نہیں۔
زندگی میں ایسے مواقع ضرور آتے ہیں جب انسان کو غلط سمجھا جاتا ہے، اس کی نیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں یا اس کے خلوص کو کم تر جانا جاتا ہے۔ ایسے وقت میں انسان چاہے تو الفاظ کے ذریعے خود کو درست ثابت کرتا رہے، مگر بعض اوقات خاموشی زیادہ باوقار جواب بن جاتی ہے۔ جس انسان کا دامن صاف اور ضمیر مطمئن ہو، اسے ہر شخص کے سامنے اپنی سچائی ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کردار ایک ایسی زبان ہے جسے وقت گزرنے کے ساتھ سب سے زیادہ سنا جاتا ہے۔
یہی مقام خودی کا بھی ہے۔ خودی صرف اپنی ذات پر فخر کا نام نہیں، بلکہ اپنی حقیقت کو پہچاننے، اپنے مقام کا شعور رکھنے اور اپنے کردار کو دوسروں کے رویوں کا محتاج نہ بنانے کا نام ہے۔ جب انسان خود کو پہچان لیتا ہے تو اسے ہر محفل میں اپنی اہمیت ثابت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی قدر لوگوں کی وقتی رائے سے نہیں بلکہ اس کے کردار، اصول اور باطن کی مضبوطی سے متعین ہوتی ہے۔
خودی انسان کو انا نہیں، توازن سکھاتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ عزتِ نفس کو بچانا اور تکبر میں فرق ہے، خاموشی اور بزدلی میں فرق ہے، جبکہ معافی اور اپنی توہین قبول کرنے میں بھی واضح فرق ہے۔ خوددار انسان دوسروں کی عزت کرتا ہے، مگر اپنی عزت کا سودا نہیں کرتا۔
خاموشی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان ناانصافی کے سامنے سر جھکا دے یا حق کی آواز دبا دے۔ جہاں کسی کے حق کی بات ہو، کسی کمزور پر ظلم ہو یا سچ کے لیے کھڑا ہونا ضروری ہو، وہاں خاموش رہنا بھی درست نہیں۔ اصل دانائی یہ سمجھنے میں ہے کہ کہاں آواز اٹھانا کردار ہے اور کہاں خاموش رہنا وقار۔
ہم اکثر دوسروں کے رویوں کا جواب دیتے دیتے اپنا سکون کھو بیٹھتے ہیں۔ کسی کی تلخی ہمیں تلخ، کسی کی بے وفائی ہمیں بے وفا اور کسی کی بدگمانی ہمیں بدگمان بنا دیتی ہے۔ حالانکہ مضبوط کردار وہ ہے جو دوسروں کی خامیوں کو اپنے اندر جگہ نہ دے۔ انسان کی اصل طاقت یہ نہیں کہ وہ ہر بات کا جواب دے سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ جواب دینے کی قدرت رکھتے ہوئے بھی اپنے وقار کو مقدم رکھے۔
زندگی میں کچھ تعلقات ایسے بھی ہوتے ہیں جہاں بار بار وضاحتیں اور بحثیں رشتوں کو بہتر بنانے کے بجائے مزید الجھا دیتی ہیں۔ ایسے مواقع پر خاموشی شکست نہیں، بلکہ اپنے باطن کو غیر ضروری شور سے محفوظ رکھنے کا نام ہے۔ ہر شخص کو منانا، ہر غلط فہمی دور کرنا اور ہر تعلق کو ہر قیمت پر بچانا ضروری نہیں۔
خاموشی تب کمزوری نہیں رہتی جب اس کے پیچھے صبر ہو؛
تب وقار بن جاتی ہے جب اس کے ساتھ خودداری ہو؛
اور تب طاقت بن جاتی ہے جب انسان کے ساتھ سچ کھڑا ہو۔
اس لیے زندگی میں ہر شور کا حصہ بننے کے بجائے کبھی اپنے اندر اتر کر دیکھیے۔ اپنے ضمیر سے سوال کیجیے کہ آپ کون ہیں، آپ کے اصول کیا ہیں اور آپ اپنی ذات کے ساتھ کتنے سچے ہیں۔ اگر اندر سے جواب مطمئن ہو تو دنیا کے ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں۔
وقت گزر جاتا ہے، لوگ بدل جاتے ہیں، رائے بدل جاتی ہے اور حالات بھی اپنا رنگ بدل لیتے ہیں، مگر انسان کا کردار اس کے ساتھ چلتا ہے۔ یہی کردار اس کی اصل پہچان بنتا ہے اور یہی خودی اسے ہجوم میں بھی اپنی شناخت برقرار رکھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
آخرکار زندگی ہمیں یہ سکھا دیتی ہے کہ ہر جنگ جیتنے کے لیے لڑنا ضروری نہیں۔
کبھی اپنے اندر کے شور کو خاموش کر دینا ہی سب سے بڑی فتح ہوتی ہے۔
اور جب انسان اپنی ذات کو پہچان لیتا ہے تو اسے دنیا کے سامنے خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں رہتی—
پھر اس کی خاموشی بھی ایک مکمل تعارف ہوتی ہے،
اس کا کردار ایک کھلی کتاب،
اور اس کا ضمیر اس کی سب سے بڑی گواہی۔
یہی خودی ہے؛ خود کو پہچاننا، اپنے اصولوں پر قائم رہنا اور اتنا بلند ہو جانا کہ دنیا کی ہر آواز آپ کے باطن کا سکون نہ چھین سکے۔





