جمعہ، 30 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خاموشی چھوڑ جاتے ہیں، تحریر:ماہ نور کنول

نقطہ نظر

کچھ لوگ زندگی سے نہیں جاتے، انسان کے اندر ایک خاموشی چھوڑ جاتے ہیں۔

زندگی عجیب استاد ہے۔

یہ سبق پہلے نہیں بتاتی، پہلے امتحان لیتی ہے۔ کبھی بچپن کے دنوں میں کوئی کمی انسان کو اندر سے مضبوط بناتی ہے، کبھی وقت ایسے لوگوں سے ملاتا ہے جو چند لمحوں کے لیے آتے ہیں مگر برسوں کے لیے یاد رہ جاتے ہیں اور کبھی کوئی ایسا چلا جاتا ہے جس کے بعد انسان کو اپنے ہی اندر ایک نئی دنیا تلاش کرنا پڑتی ہے۔ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ کامیابی زندگی کا آخری جواب ہے۔ انسان کچھ حاصل کر لے، اپنا نام بنا لے، اپنے خواب پورے کر لے تو شاید دل مطمئن ہو جائے گا مگر پھر ایک دن معلوم ہوتا ہے کہ کچھ خلا ایسے ہوتے ہیں جنھیں کامیابیاں بھی نہیں بھر سکتیں اور شاید یہی زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے۔ہمیں چیزوں کی قدر سکھائی جاتی ہے مگر لوگوں کی قدر وقت پر کرنا نہیں سکھایا جاتا۔ ہم کسی کے ہوتے ہوئے اس کی موجودگی کو معمول سمجھ لیتے ہیں، اس کی آواز، اس کی فکر، اس کی چھوٹی چھوٹی باتیں، اس کا انتظار، اس کی دعائیں سب کچھ روزمرہ کا حصہ لگتا ہے۔ پھر اچانک ایک دن وہ شخص سامنے نہیں ہوتا اور انسان کو احساس ہوتا ہے کہ جسے معمول سمجھا تھا، وہ دراصل زندگی کی سب سے قیمتی نعمت تھا۔ کسی نے خوب کہا ہے: کچھ لوگ بچھڑ کر بھی کہاں بچھڑتے ہیں۔ وہ یاد بن کر عمر بھر ساتھ رہتے ہیں لیکن یہاں ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کسی کی جدائی کو اپنی زندگی کا اختتام سمجھ لینا محبت نہیں، اپنے آپ پر ظلم ہے۔ جانے والے واپس نہیں آتے مگر ان سے ملنے والی محبت، نصیحت، یادیں اور اچھائیاں ہمارے اندر زندہ رہ سکتی ہیں۔ کسی کے جانے کے بعد اگر ہم خود بھی اندر سے ختم ہو جائیں تو اس محبت کا مقصد بھی کہیں کھو جاتا ہے۔ زندگی ہمیں بار بار یہ سکھاتی ہے کہ انسان کو لوگوں سے محبت ضرور کرنی چاہیے مگر اپنی پوری دنیا کسی ایک انسان کے گرد نہیں بنا دینی چاہیے کیوں کہ دنیا میں کوئی بھی شخص ہمیشہ رہنے کے وعدے کے ساتھ نہیں آتا۔ ہم سب مسافر ہیں۔ کسی کا سفر پہلے ختم ہو جاتا ہے، کسی کا بعد میں۔ اسی لیے جو لوگ ہمارے پاس ہیں، ان سے نرم لہجے میں بات کریں۔ ناراضی کو ہمیشہ کے لیے نہ کھینچیں۔معافی مانگنے میں دیر نہ کریں۔ کسی کی خاموشی کو غرور سمجھنے سے پہلے ایک بار پوچھ لیں کہ شاید وہ اندر سے تھکا ہوا ہو۔ کسی کے مسکرانے کو اس کی خوشی کا ثبوت نہ سمجھیں؛ بعض چہرے اپنے آنسوؤں کے ساتھ بھی مسکرانا سیکھ لیتے ہیں اور سب سے بڑھ کر، کسی کی قدر اس کے جانے کے بعد نہیں، اس کے ہوتے ہوئے کریں۔ زندگی کا ایک اور تلخ سبق یہ ہے کہ ہر شخص ہمارے درد کو سمجھنے کے قابل نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ ہمارے آنسو دیکھ کر بھی سوال کرتے ہیں کہ آخر اتنا کیوں رو رہے ہیں؟ کچھ لوگ غم کو بھی حساب کی طرح تولتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو ہماری خاموشی میں چھپی پوری چیخ سن لیتے ہیں۔ اس لیے ہر دکھ ہر شخص کو بتانا ضروری نہیں مگر اپنے دکھ کو اندر اتنا بھی نہ دفن کریں کہ وہ انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دے۔ کبھی قلم اٹھا لینا چاہیے۔ کبھی دعا کر لینی چاہیے۔ کبھی خاموش بیٹھ کر اپنے دل کو سن لینا چاہیے کیوں کہ انسان دوسروں سے چھپ سکتا ہے، اپنے آپ سے نہیں۔ بچپن کی کچھ محرومیاں ہوں، جوانی کی کچھ ٹھوکریں ہوں، راستے کی ناکامیاں ہوں یا کامیابیوں کے درمیان چھپی تھکن یہ سب انسان کو بدلتی ہیں۔اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان کتنا آگے نکل گیا؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ اتنا کچھ سہہ کر بھی اس کے دل میں انسانیت باقی رہی یا نہیں اگر دکھ نے ہمیں دوسروں کے دکھ کو سمجھنا سکھا دیا تو دکھ بےکار نہیں گیا۔محرومی نے اگر ہمیں دوسروں کو دینے کا ہنر سکھا دیا تو محرومی بےمعنی نہیں رہی۔جدائی نے اگر ہمیں موجود لوگوں کی قدر سکھا دی تو جدائی صرف زخم نہیں رہی، ایک سبق بھی بن گئی

اور اگر کامیابی نے ہمیں عاجزی سکھا دی تو وہ کامیابی واقعی کامیابی ہے۔ زندگی شاید ہم سے بہت کچھ لے جائے مگر ہر نقصان کے ساتھ ایک سوال بھی چھوڑ جاتی ہے: جو باقی ہے، کیا اب اس کی قدر کرو گے؟ اس سوال کا جواب الفاظ میں نہیں، ہمارے رویوں میں ہونا چاہیے۔ آج کسی اپنے کو فون کر لیجیے۔ کسی ناراض شخص سے بات کر لیجیے۔ کسی ضرورت مند کی مدد کر دیجیے۔ ماں باپ کے پاس چند لمحے بیٹھ جائیے اور اگر کوئی دل میں بہت عرصے سے بسا ہوا ہے تو اس کی موجودگی کو معمول نہ سمجھیے کیوں کہ زندگی کا سب سے بڑا المیہ موت نہیں، کبھی کبھی یہ ہوتا ہے کہ انسان کسی کی قدر تب سمجھتا ہے جب قدر کرنے کا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔ آخر میں بس اتنا یاد رکھنا چاہیے: رشتے سنبھالنے ہوں تو لہجہ سنبھالنا پڑتا ہے، دل بچانے ہوں تو انا چھوڑنی پڑتی ہے اور زندگی سمجھنی ہو تو گزرے ہوئے وقت سے سبق لینا پڑتا ہے۔ جو چلے گئے، ان کے لیے دعا کیجیے۔ جو ساتھ ہیں، ان کی قدر کیجیے اور جو کچھ زندگی نے سکھایا ہے، اسے صرف اپنے زخموں تک محدود نہ رکھیے۔ شاید کسی اور کے لیے آپ کا ایک لفظ وہ روشنی بن جائے، جس کی اسے بہت عرصے سے تلاش ہو۔ زندگی مختصر ہے؛ اسے پچھتاووں کی کتاب نہیں، اچھے رویوں کی داستان بنائیے۔