پاکستان کا متوسط طبقہ آج ایک خاموش مگر گہری معاشی اور نفسیاتی موت کا شکار ہے یہ موت اچانک نہیں آتی بلکہ آہستہ آہستہ معیاری زندگی کے خاتمے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے مہنگائی نے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے تعلیمی اخراجات ناقابلِ برداشت ہو چکے ہیں طبی سہولیات تک رسائی مشکل بن گئی ہے اور ماہانہ ضروریات پوری کرنا بھی ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے چند برس قبل تک جو خاندان مستحکم زندگی گزار رہے تھے آج وہ محض بنیادی ضروریات تک محدود ہو گئے ہیں متوسط طبقہ نہ تو غریب طبقے کے لیے مخصوص امدادی سکیمز کا حقدار سمجھا جاتا ہے اور نہ ہی اعلیٰ طبقے کی سہولیات تک اس کی رسائی ہے نتیجتاً یہ طبقہ سب سے زیادہ دباؤ کا شکار ہے اس کی خاموشی اس کی مجبوری ہے شکایت نہیں
کسی بھی مستحکم معاشرے میں متوسط طبقہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے یہی طبقہ ٹیکسوں کی صورت میں قومی خزانے میں حصہ ڈالتا ہے یہی تعلیم یافتہ افرادی قوت فراہم کرتا ہے اور یہی اداروں کو چلانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے تاہم موجودہ معاشی حالات نے اسی طبقے کو شدید ترین دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے کرایہ یوٹیلیٹی بلز اور بچوں کی تعلیم نے خاندانی بجٹ پر ایسا بوجھ ڈال دیا ہے کہ ذہنی صحت متاثر ہو رہی ہے اضطراب مایوسی اور ذہنی دباؤ متوسط گھرانوں میں عام ہوتا جا رہا ہے ظاہری مسکراہٹوں کے پیچھے ٹوٹے ہوئے افراد چھپے ہوتے ہیں یہ صورتحال نہ صرف انفرادی بلکہ قومی سطح پر تشویشناک ہے
اس بحران کی جڑیں متعدد عوامل میں پوشیدہ ہیں غیر مؤثر معاشی پالیسیاں بڑھتی ہوئی مہنگائی محدود روزگار کے مواقع اور متوسط طبقے کو نظرانداز کرنے والی ترجیحات نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے امدادی اقدامات عموماً نچلے طبقے تک محدود رہتے ہیں جبکہ متوسط طبقہ کسی واضح پالیسی کے بغیر درمیانی خلا میں کھو جاتا ہے نتیجتاً یہ طبقہ نہ تو سرکاری تعاون حاصل کر پاتا ہے اور نہ ہی اپنے محدود وسائل سے استحکام پیدا کر پاتا ہے آہستہ آہستہ اس کا معیارِ زندگی پست ہو رہا ہے اور بہت سے خاندان معاشی سیڑھی پر نیچے کی طرف منتقل ہو رہے ہیں
اس رجحان کو روکنے کے لیے واضح عملی اور پائیدار اقدامات ناگزیر ہیں حکومت کو متوسط طبقے کے لیے الگ سے جامع پالیسی مرتب کرنی چاہیے جس میں ٹیکس ریلیف یوٹیلیٹی بلز میں رعایت تعلیمی و طبی اخراجات پر مدد اور چھوٹے کاروباروں کے لیے آسان مالی سہولیات شامل ہوں مہنگائی پر قابو پانا سب سے ترجیحی ہدف ہونا چاہیے کیونکہ روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہی اس طبقے کے دباؤ کی بنیادی وجہ ہے ساتھ ہی معاشرتی سطح پر بھی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی تاکہ مایوسی کے بجائے استحکام اور باہمی تعاون کو فروغ دیا جا سکے
آخر میں یہ حقیقت تسلیم کرنا ضروری ہے کہ متوسط طبقے کو نظرانداز کرنا قومی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے اگر یہ طبقہ مزید کمزور پڑ گیا تو معاشی و سماجی توازن متاثر ہوئے بغیر نہیں رہے متوسط طبقہ خاموشی سے مر رہا ہے مگر اس کی خاموشی اب نظرانداز کرنے کے قابل نہیں رہی ضرورت اس امر کی ہے کہ اس طبقے کے مسائل کو تسلیم کیا جائے اور مؤثر پالیسی اقدامات کے ذریعے اسے سہارا دیا جائے قوم کی مستحکم ترقی تبھی ممکن ہے جب متوسط طبقہ باعزت پُراعتماد اور پائیدار زندگی گزارنے کے قابل ہو اب بھی موقع موجود ہے کہ اس خاموش بحران کو سنجیدگی سے لیا جائے
مزید پڑھیں





