Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خواتین کی سست طرزِ زندگی اور جسمانی مسائل ،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم

نقطہ نظر
dr nazia nadeem

جدید معاشرت نے جہاں خواتین کی زندگی میں سہولیات، ٹیکنالوجی اور سائنسی ایجادات کے دروازے کھولے ہیں، وہیں ان کے طرزِ زندگی کو ایک خطرناک حد تک بے حرکت اور سست بنا دیا ہے۔ آج کی خاتون خواہ وہ دفتری امور انجام دینے والی پیشہ ور کارکن ہو، گھر سے بیٹھ کر آن لائن کام کرنے والی ہو یا گھریلو ذمہ داریوں کو جدید برقی آلات کے ذریعے نمٹانے والی گھریلو خاتون، ان کی جسمانی سرگرمیوں کا دائرہ کار شدید محدود ہو چکا ہے۔ گھنٹوں ایک ہی جگہ بیٹھے رہنا، اسکرینوں پر نظریں جمائے رکھنا اور فطری جسمانی حرکات سے دوری خواتین کے ڈھانچے، جوڑوں اور دورانِ خون کے نظام کو خاموشی سے دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ جسمانی ساخت اور ہارمونل نظام کے لحاظ سے خواتین مردوں کے مقابلے میں جسمانی دباؤ اور غذائی کمی کا زیادہ جلد اثر لیتی ہیں، اس لیے سست روی ان کے پٹھوں اور ہڈیوں پر زیادہ تیزی سے اور گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ ان مسائل کا باریک بینی سے جائزہ لینا اور ان کے مستقل علاج و تدارک کی عملی راہیں تلاش کرنا آج کے دور میں خواتین کی صحت کا سب سے اہم تقاضا بن چکا ہے۔

دفاتر میں کمپیوٹر کے سامنے مسلسل کئی گھنٹے بیٹھ کر کام کرنے والی اور گھروں میں موبائل اسکرین پر جھکی رہنے والی خواتین سب سے زیادہ گردن، کندھوں اور بالائی کمر کے شدید کھنچاؤ اور درد کا شکار ہوتی ہیں۔ بیٹھنے کے اس غیر متوازن اور غلط زاویے کو "پور پوسچر" کہا جاتا ہے۔ جب گردن کو قدرتی زاویے سے آگے جھکایا جاتا ہے تو سر کا وزن ریڑھ کی ہڈی کے مہروں پر چار گنا تک بڑھ جاتا ہے۔ اس دباؤ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کندھوں اور گردن کے پٹھے ہر وقت تنے رہتے ہیں، گردن کے مہروں کا درمیانی فاصلہ سکڑنے لگتا ہے اور یہ درد رفتہ رفتہ بازوؤں، کہنیوں اور انگلیوں تک لہروں کی صورت میں پھیلنے لگتا ہے۔ اس کا شکار خواتین اکثر شام ڈھلتے ہی آدھے سر کے درد، چکر آنے اور آنکھوں کے پیچھے بھاری پن کی شکایت کرتی ہیں۔ اس تکلیف کا تدارک کسی وقتی پین کلر دوا میں نہیں بلکہ روزمرہ عادات کی درستگی میں ہے۔ خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنی اسکرین کو آنکھوں کی سطح کے بالکل برابر رکھیں تاکہ گردن کو نیچے نہ جھکانا پڑے۔ بیٹھنے کے دوران کرسی کے پیچھے کمر کے نچلے حصے کو سہارا دینے کے لیے ایک چھوٹا تکیہ رکھا جائے اور دونوں پاؤں زمین پر ہموار جمے رہیں۔ سب سے اہم تدبیر یہ ہے کہ ہر پینتالیس منٹ کے بعد لازمی طور پر دو منٹ کا وقفہ لیا جائے، جس میں گردن کو دائیں بائیں اور اوپر نیچے نرمی سے گھمایا جائے اور کندھوں کو گول چکر میں حرکت دی جائے۔ یہ معمولی اسٹریچنگ پٹھوں کی سختی کو دور کر کے خون کی روانی کو بحال رکھتی ہے۔

جسمانی سستی اور ناقص میٹابولزم خواتین میں یورک ایسڈ کی زیادتی اور جوڑوں کی سوزش یعنی نقرس (گاؤٹ) جیسے اذیت ناک امراض کو جنم دے رہے ہیں۔ ہمارے ہاں عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ یورک ایسڈ صرف مردوں کا مسئلہ ہے، حالانکہ ورزش کی کمی، پانی کا انتہائی کم استعمال اور پروٹین سے بھری غذاؤں کا بے تحاشا استعمال خواتین کو بھی تیزی سے اس بیماری کی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ جب جسم میں حرکت کی کمی سے ہاضمے اور اخراج کا عمل سست ہو جاتا ہے اور خوراک میں بڑا گوشت، چنے، دالیں، پالک اور بیکری کی تلی ہوئی اشیاء کثرت سے شامل ہوں تو گردے خون سے یورک ایسڈ کو بروقت خارج نہیں کر پاتے۔ یہ زہریلے مادے ننھے کرسٹلز بن کر پاؤں کے انگوٹھے کے جوڑ، ٹخنوں اور ایڑیوں میں جمنے لگتے ہیں۔ صبح بستر سے اٹھ کر پہلا قدم زمین پر رکھنا شدید درد ناک بن جاتا ہے اور انگوٹھے کا جوڑ سوج کر سرخ اور گرم ہو جاتا ہے۔ اس کا مکمل علاج غذا کے توازن اور جسمانی اخراج کو تیز کرنے میں مضمر ہے۔ خواتین کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر بڑا گوشت، دالیں اور تیز چائے بند کر کے اپنی روزمرہ خوراک میں پتوں والی تازہ سبزیاں، سلاد، ککڑی اور کھیرے کا اضافہ کریں۔ دن بھر میں کم از کم دس سے بارہ گلاس سادہ یا نیم گرم پانی پینا ایک لازمی فریضہ بنا لیا جائے تاکہ گردے ان کرسٹلز کو بہا کر باہر نکال سکیں۔ نہار منہ ایک گلاس نیم گرم پانی میں آدھا لیموں نچوڑ کر پینا یورک ایسڈ کو تحلیل کرنے میں قدرتی اکسییر کا درجہ رکھتا ہے، جبکہ ہر روز تیس منٹ کی تیز چہل قدمی میٹابولزم کو تیز کر کے جوڑوں کی سوزش کو قدرتی طور پر ختم کر دیتی ہے۔

سست طرزِ زندگی کا ایک اور انتہائی تکلیف دہ روپ عرق النسا (شیاٹیکا) اور پٹھوں کا اینٹھنا ہے۔ خواتین میں اس کی شروعات عموماً صوفے یا بیڈ پر ٹیڑھے ہو کر گھنٹوں بیٹھنے، کسی وزنی برتن یا بالٹی کو اچانک جھٹکے سے اٹھانے، یا باورچی خانے میں غیر متوازن پوزیشن میں جھک کر کام کرنے سے ہوتی ہے۔ جب ریڑھ کی ہڈی کے نچلے مہروں پر دباؤ آتا ہے تو وہاں موجود شیاٹک نرو دب جاتی ہے۔ یہ وہ بنیادی اعصاب ہے جو کمر سے نکل کر دونوں ٹانگوں کے پیچھے سے گزرتا ہوا انگلیوں تک جاتا ہے۔ اس کے دب جانے سے کمر کے نچلے حصے سے لے کر ایڑی تک ایک شدید ٹیسیں مارتا ہوا درد دوڑتا ہے، جیسے کسی نے رگ کو جکڑ لیا ہو۔ اس درد کی شدت کو جسم میں وٹامن بی بارہ اور وٹامن ڈی کی کمی مزید بڑھا دیتی ہے، کیونکہ چار دیواری کے اندر رہنے کی وجہ سے خواتین دھوپ سے محروم رہتی ہیں اور اعصاب غذائی قلت سے کمزور ہو جاتے ہیں۔ ٹانگوں میں سوئیاں چبھنا، پاؤں کا سن ہونا اور رات کو سوتے میں پنڈلیوں کا اچانک اینٹھ جانا اس اعصابی کمزوری کی واضح نشانیاں ہیں۔ اس کا علاج یہ ہے کہ کبھی بھی جھک کر وزن نہ اٹھایا جائے بلکہ گھٹنوں کو موڑ کر وزن کا بوجھ ٹانگوں پر ڈالا جائے۔ صبح کی ہلکی دھوپ میں روزانہ پندرہ سے بیس منٹ بیٹھنا وٹامن ڈی کی کمی کو پورا کرتا ہے۔ غذا میں دودھ، دہی، انڈے، مچھلی اور دیسی اشیاء شامل کی جائیں جو وٹامن بی بارہ کا بہترین منبع ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ روزانہ ہلکی اعصابی ورزشیں یعنی پیٹھ کے بل لیٹ کر گھٹنے کو سینے کی طرف کھینچنے والی اسٹریچنگ ریڑھ کی ہڈی کے دباؤ کو دور کرتی ہے اور اعصاب کو فوری راحت بخشتی ہے۔

خواتین کی سست روی اور روزمرہ کے کاموں میں مسلسل کھڑے رہنے یا کرسی پر پاؤں لٹکا کر گھنٹوں کام کرنے سے ٹانگوں کی رگیں بری طرح متاثر ہوتی ہیں، جس کا نتیجہ پیروں کی سوجن اور ویریکوز وینز کی صورت میں نکلتا ہے۔ جب کوئی خاتون باورچی خانے میں ماربل کے ٹھنڈے فرش پر بغیر جوتوں کے گھنٹوں کھڑی رہتی ہے یا دفتر میں مسلسل پیر نیچے لٹکائے رکھتی ہے تو ٹانگوں کے پٹھوں کا قدرتی پمپ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ خون کششِ ثقل کے باعث نیچے پاؤں میں جمع ہونے لگتا ہے اور رگوں کے اندر موجود باریک والوز کمزور ہو جاتے ہیں جو خون کو واپس دل کی طرف چڑھاتے ہیں۔ آہستہ آہستہ ٹانگوں اور ٹخنوں پر مستقل سوجن رہنے لگتی ہے، پنڈلیاں بھاری اور سخت ہو جاتی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جلد کی سطح پر نیلی اور جامنی رنگ کی سوجی ہوئی رگیں ابھر آتی ہیں جو چھونے سے بھی دکھتی ہیں۔ اس پریشان کن کیفیت سے بچاؤ اور اس کے تدریجی علاج کے لیے ضروری ہے کہ کام کے دوران مسلسل کھڑے رہنے کے بجائے درمیان میں بیٹھنے کا وقفہ نکالا جائے اور پاؤں کے تلووں کے نیچے نرم فوم یا چپل کا استعمال یقینی بنایا جائے۔ دفتری خواتین کو چاہیے کہ وہ بیٹھتے وقت پیروں کے نیچے ایک چھوٹا اسٹول رکھیں تاکہ ٹانگیں زمین سے کچھ اوپر رہیں۔ روزانہ شام کو یا رات کو سونے سے پہلے پندرہ منٹ کے لیے پیٹھ کے بل لیٹ کر اپنی ٹانگوں کو دیوار کے ساتھ اوپر اٹھا کر رکھنا رگوں کے دباؤ کو فوری طور پر ختم کرتا ہے اور خون کو واپس دل کی طرف بہنے میں مدد دیتا ہے۔ ہلکے زیتون کے تیل سے نیچے سے اوپر کی طرف، یعنی ٹخنوں سے گھٹنوں کی جانب، نرم ہاتھوں سے مساج کرنا دورانِ خون کی رکاٹوں کو کھولتا ہے اور سوجن کو تیزی سے زائل کرتا ہے۔

خواتین کی صحت پورے خاندان اور معاشرے کے استحکام کی ضامن ہے، مگر خواتین عموماً اپنی تمام توانائیاں دوسروں کی دیکھ بھال پر نچھاور کر کے اپنی جسمانی علامات کو نظر انداز کرتی چلی جاتی ہیں۔ یہ سمجھنا ناگزیر ہے کہ کمر اور جوڑوں کا درد، پیروں کی سوجن اور اعصابی کھنچاؤ محض عمر کا تقاضا یا تھکن نہیں ہیں، بلکہ یہ سست روی اور جمود کے خلاف جسم کی ایک خاموش چیخ ہیں۔ ان پیچیدہ امراض سے مکمل نجات کے لیے طرزِ زندگی کی شعوری بحالی سب سے پہلی شرط ہے۔ روزانہ صبح یا شام کے وقت کم از کم تیس سے چالیس منٹ اپنے جسم کی نذر کرنا، جس میں چہل قدمی، یوگا اور پٹھوں کا کھنچاؤ شامل ہو، زندگی میں نیا انقلاب لا سکتا ہے۔ خوراک میں فطری اعتدال، پانی کا وافر استعمال، اسکرین کے محفوظ اصول اور بیٹھنے اٹھنے کے زاویوں کی مستقل نگہداشت ہی وہ پائیدار اقدامات ہیں جو خواتین کو دواؤں کے سہارے سے آزاد کر کے ایک متحرک، پرتوان اور درد سے پاک باوقار زندگی عطا کر سکتے ہیں۔