خودکشی حرام مگر خودکشی تک پہنچانے والے کون؟ تحریر: ایس اے شازِم
نقطہ نظر
زندگی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے، مگر ہر انسان کی زندگی خوشیوں، آسائشوں اور کامیابیوں سے عبارت نہیں ہوتی۔ کچھ چہرے بظاہر مسکراتے رہتے ہیں، لیکن ان کے اندر دکھ، محرومیوں اور ناامیدی کی ایسی داستانیں پل رہی ہوتی ہیں جن سے دنیا بے خبر رہتی ہے۔ بعض اوقات انسان جسمانی طور پر زندہ ہوتا ہے مگر حالات کی سختیاں اس کی ذہنی اور جذباتی توانائی چھین لیتی ہیں۔ ایسے میں سوال یہ نہیں کہ خودکشی حرام کیوں ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ آخر انسان اس مقام تک پہنچتا کیوں ہے جہاں اسے زندگی کی تمام راہیں بند دکھائی دینے لگتی ہیں؟
اسلام میں خودکشی حرام ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا
ترجمہ: ’’اور اپنی جانوں کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر بڑا مہربان ہے۔‘‘ (سورۃ النساء: 29)
یہ حکم انسانی جان کی حرمت اور اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ تاہم، اس حکم کو بیان کرتے ہوئے ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ شدید ذہنی اذیت میں مبتلا انسان کو محض نصیحت نہیں، بلکہ ہمدردی، توجہ اور عملی مدد کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
آخر انسان زندگی سے مایوس کیوں ہوتا ہے؟
اس سوال کا جواب کسی ایک واقعے، ایک رشتے یا ایک ناکامی میں پوشیدہ نہیں۔ اس کے پیچھے کئی ایسے عوامل ہو سکتے ہیں جو رفتہ رفتہ انسان کی قوتِ برداشت کو متاثر کرتے ہیں۔
کبھی محبت میں ملنے والی بے وفائی انسان کے اعتماد کو توڑ دیتی ہے، کبھی اپنوں کے سخت الفاظ دل میں ایسے زخم چھوڑ جاتے ہیں جنہیں وقت بھی آسانی سے نہیں بھرتا۔ کبھی گھریلو ناچاقی، معاشی پریشانیاں، بے روزگاری اور معاشرتی دباؤ انسان کو بے بس محسوس کراتے ہیں۔ بعض اوقات ذہنی صحت کے مسائل بھی اس کیفیت کو شدید کر دیتے ہیں۔ جب ان مشکلات کے ساتھ تنہائی اور مدد کی کمی شامل ہو جائے تو انسان کے لیے امید کا دامن تھامے رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں کے دکھ کا اندازہ اکثر ان کے چہرے سے لگاتے ہیں۔ جو شخص ہنس کر بات کرتا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ وہ خوش ہے؛ جو خاموش رہتا ہے، ہم اسے مغرور قرار دے دیتے ہیں؛ اور جو اپنے مسائل بیان کرتا ہے، اسے کمزور یا ناشکرا کہہ کر خاموش کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر انسان کی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے اور ہر دکھ کی شدت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ایسے میں کیا صرف صبر کی تلقین کافی ہے؟ میرے خیال میں یقیناً نہیں۔ صبر اسلامی تعلیمات کا اہم حصہ ہے مگر صبر کا مفہوم یہ نہیں کہ انسان کو اس کی تکلیف کے ساتھ تنہا چھوڑ دیا جائے۔ کسی پریشان حال شخص سے یہ کہنا کہ ’’بس اللہ پر بھروسا رکھو‘‘ اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس کی بات سننا، اس کے مسائل سمجھنا، اسے ناانصافی سے بچانا اور ضرورت پڑنے پر ماہرِ نفسیات یا معالج تک پہنچانا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
ایسا ہی ایک واقعہ رواں ماہ میں اسلام آباد میں پیش آیا۔ گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی گریجویٹ تھیں اور انہوں نے بی ایس فزکس میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔ ان کا خواب امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی میں مزید تعلیم حاصل کرنا تھا۔ لائبہ کے اہلِ خانہ کے مطابق، ایک شخص نے امریکہ میں داخلے اور اسکالرشپ کا وعدہ کرکے ان سے لاکھوں روپے وصول کیے۔ مختلف رپورٹس میں رقم تقریباً 70 لاکھ سے 93 لاکھ روپے تک بتائی گئی ہے۔ ان کے والد نے تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے زمین کا پلاٹ فروخت کیا اور والدہ کے زیورات بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیے گئے۔
خاندان کے مطابق، داخلے اور اسکالرشپ کے لیے فراہم کردہ دستاویزات کی جانچ پر ان کے جعلی ہونے کا انکشاف ہوا۔ اس کے بعد لائبہ شدید ذہنی پریشانی میں مبتلا ہوئیں۔
اور اپنی ذہنی کیفیت کو ختم کرنے کے لیے انہیں واحد حل خودکشی میں نظر آیا۔ یہ واقعہ ہمارے ملک میں ہونے والے تعلیمی فراڈ کو منہ بولتا ثبوت ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ذہنی بیماری کوئی کردار کی کمزوری نہیں۔ جس طرح جسمانی بیماری میں علاج کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح ذہنی صحت کے مسائل میں بھی مناسب مدد اور علاج اہم ہیں۔ کسی شخص کی تکلیف کو محض کمزور ایمان قرار دینا اس کے دکھ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اگر ہم واقعی انسانی جان کی حرمت پر یقین رکھتے ہیں تو ہمیں اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرتی حلقوں میں ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں انسان خوف کے بغیر اپنی پریشانی بیان کر سکے۔ والدین کو بچوں کی بات سننی چاہیے، اساتذہ کو طلبہ کے رویّوں میں نمایاں تبدیلیوں پر توجہ دینی چاہیے، اور دوستوں کو ایک دوسرے کے دکھ کو مذاق میں اڑانے کے بجائے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
کسی کی زندگی بچانا صرف ایک فرد کی نہیں، پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ کبھی کسی کی بات سن لینا، اسے حقیر نہ سمجھنا اور بروقت مدد فراہم کرنا بھی امید کی ایک نئی راہ کھول سکتا ہے۔
آئیے، ہم ایسا معاشرہ بنائیں جہاں انسان کو مرنے کے بعد افسوس کا مستحق سمجھنے کے بجائے، جیتے جی محبت، عزت، تحفظ اور سہارا دیا جائے۔
مزید پڑھیں




