خلع یافتہ عورت کی زندگی،تحریر: ماہ جبین اظہر
نقطہ نظر
شادی دو انسانوں کے درمیان ایک مقدس رشتہ ہے، جس کی بنیاد محبت، اعتماد، ذہنی ہم آہنگی اور باہمی احترام پر رکھی جاتی ہے۔ ایک عورت جب اپنا گھر بار، والدین اور بچپن کی یادیں چھوڑ کر نئے گھر میں قدم رکھتی ہے تو اپنے ساتھ بے شمار خواب اور امیدیں بھی لے کر آتی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اس کا شوہر اس کا محافظ، ساتھی اور ہم راز بنے، لیکن جب ازدواجی زندگی میں اسے مسلسل ناانصافی، بے اعتنائی اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑے تو بعض اوقات حالات اسے خلع جیسے مشکل فیصلے تک لے آتے ہیں۔
خلع کا فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ایک عورت برسوں اپنے رشتے کو بچانے کی کوشش کرتی ہے، اپنی ذات کو پسِ پشت ڈالتی ہے، بہت سی تلخ باتیں خاموشی سے برداشت کرتی ہے اور اس امید پر زندگی گزارتی رہتی ہے کہ شاید آنے والا کل بہتر ہو۔ وہ اپنے والدین کی عزت، بچوں کے مستقبل اور معاشرتی رویّوں کے خوف سے اپنی تکلیف چھپاتی رہتی ہے۔ لیکن جب تمام کوششیں بے سود ثابت ہوں اور اس کے لیے اس رشتے میں رہنا دشوار ہو جائے تو وہ ایک ایسا قدم اٹھاتی ہے جس کے بعد اس کی زندگی کا ایک نیا اور اکثر کٹھن باب شروع ہوتا ہے۔
خلع کے بعد عورت کی زندگی بظاہر ایک بندھن سے آزاد ہو جاتی ہے، لیکن حقیقت میں اس کے سامنے مشکلات کا ایک نیا سلسلہ کھل جاتا ہے۔
جس عورت کو کل تک ایک گھر کی بہو کہا جاتا تھا، آج وہ خلع یافتہ کہلاتی ہے۔ اس کی شناخت بدل جاتی ہے، لوگوں کے رویّے تبدیل ہونے لگتے ہیں اور اس کی زندگی دوسروں کی گفتگو کا موضوع بن جاتی ہے۔ جو لوگ کبھی اس کے گھر آنے پر خوشی کا اظہار کرتے تھے، وہی اب اس کے فیصلے کے اسباب جاننے کے لیے بے چین دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی اس سے سوال کرتا ہے کہ آخر اس نے گھر کیوں توڑا، کوئی اسے سمجھوتا نہ کرنے کا طعنہ دیتا ہے اور کوئی اس کے کردار پر ایسے سوالات اٹھاتا ہے جن کا جواب دینا بھی اس کی عزتِ نفس کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ معاشرہ اکثر عورت کے فیصلے کا جائزہ تو لیتا ہے، لیکن ان حالات کو جاننے کی کوشش نہیں کرتا جنہوں نے اسے یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔ لوگ یہ تو پوچھتے ہیں کہ اس نے اپنا گھر کیوں چھوڑا، مگر یہ نہیں پوچھتے کہ اس گھر میں اس کے ساتھ کیا گزرتی رہی۔ وہ یہ تو جاننا چاہتے ہیں کہ عورت نے کتنی کوشش کی، لیکن مرد کی ذمہ داریوں اور اس کے رویّے پر سوال اٹھانے سے گریز کرتے ہیں۔
اور پھر جب یہ عورت اپنا سامان سمیٹ کر والدین کے گھر واپس آتی ہے تو اس کے لیے ایک اور آزمائش شروع ہو جاتی ہے۔
وہی گھر جہاں کبھی اس کی آمد پر خوشیاں منائی جاتی تھیں، جہاں وہ اپنی مرضی سے اٹھتی بیٹھتی، ہنستی بولتی اور اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ زندگی کے خوب صورت لمحات گزارتی تھی، اب اسے اس گھر میں بھی اپنے وجود کی وضاحت دینا پڑتی ہے۔ وہ گھر جو کبھی اس کی پناہ گاہ تھا، وہاں بھی اسے اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے محتاط رہنا پڑتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ بہت سے والدین اپنی بیٹی کو خلع کے بعد بھی پہلے جیسی محبت، عزت اور تحفظ دیتے ہیں۔ وہ اس کے دکھ کو سمجھتے ہیں، اسے سہارا دیتے ہیں اور اس کے لیے زندگی دوبارہ شروع کرنے کے راستے تلاش کرتے ہیں۔ ایسے والدین قابلِ تحسین ہیں، جو اپنی بیٹی کو اس کی ازدواجی حیثیت کے بجائے ایک انسان اور اپنی اولاد سمجھتے ہیں۔
لیکن ہر عورت اتنی خوش قسمت نہیں ہوتی۔
بعض گھروں میں بیٹی کی واپسی کو قبول تو کر لیا جاتا ہے، مگر اس کے ساتھ برتاؤ ایسا ہونے لگتا ہے جیسے وہ اپنے ساتھ کوئی مسئلہ یا بوجھ لے آئی ہو۔ اسے بار بار احساس دلایا جاتا ہے کہ اس کا گھر نہیں بس سکا، اس نے نباہ نہیں کیا یا اس کے فیصلے نے خاندان کی عزت کو نقصان پہنچایا ہے۔ کبھی والدین کی پریشانی کے نام پر، کبھی رشتے داروں کے طعنوں کے خوف سے اور کبھی معاشی مجبوریوں کی آڑ میں اس کی ذات کو مسلسل دباؤ میں رکھا جاتا ہے۔
اسے یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اب اسے ہر بات برداشت کرنی ہوگی، ہر خواہش قربان کرنی ہوگی اور ہر معاملے میں دوسروں کی سہولت کو اپنی ضرورت پر ترجیح دینی ہوگی، کیونکہ وہ واپس آ چکی ہے۔
کچھ گھروں میں اس کے لیے الگ جگہ نکالنا مشکل سمجھا جاتا ہے، کہیں اس کی ضروریات کو اضافی بوجھ تصور کیا جاتا ہے اور کہیں اس کی معمولی سی بات بھی ناگواری کا سبب بن جاتی ہے۔ اگر وہ اپنے لیے کوئی چیز مانگ لے تو اسے اپنی حیثیت یاد دلائی جاتی ہے۔ اگر وہ اپنی رائے کا اظہار کرے تو اسے یہ احساس کروایا جاتا ہے کہ اب اسے پہلے کی طرح آزادی حاصل نہیں۔ اگر وہ کسی بات پر ناراض ہو جائے تو اسے کہا جاتا ہے کہ تمہارے حالات پہلے ہی ایسے ہیں، اس لیے تمہیں خاموش رہنا چاہیے۔
یوں ایک عورت، جو اپنے شوہر کے گھر میں اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرتی رہی، والدین کے گھر میں بھی اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرنے لگتی ہے۔
کبھی کبھی تو اس کی حالت ایک غیر شادی شدہ لڑکی سے بھی زیادہ مشکل ہو جاتی ہے۔ ایک غیر شادی شدہ لڑکی کے لیے والدین کے گھر میں زندگی گزارنے کے کچھ فطری حقوق اور سہولتیں موجود ہوتی ہیں، لیکن خلع یافتہ عورت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی خواہشات محدود کر لے، اپنی ضروریات کم کر دے اور دوسروں کے سامنے اپنے دکھ کا اظہار بھی نہ کرے۔ اسے بار بار اس کے ماضی کی یاد دہانی کروائی جاتی ہے، گویا اس کی ازدواجی زندگی کا اختتام اس کی تمام خوشیوں اور حقوق کے خاتمے کا اعلان ہو۔
وہ سوچتی ہے کہ آخر اس کا قصور کیا ہے؟ کیا اس نے صرف اس لیے اپنی عزت اور سکون کی خاطر ایک مشکل فیصلہ کیا کہ اب اسے زندگی بھر اپنے وجود کی قیمت ادا کرنا ہوگی؟
سب سے زیادہ تکلیف دہ صورتِ حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب عورت خلع کے بعد اپنے ساتھ ایک یا دو بچوں کو بھی لے کر والدین کے گھر واپس آتی ہے۔
اس وقت اس کی مشکلات صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رہتیں۔ اس کے سامنے اپنے بچوں کا مستقبل، ان کی تعلیم، تربیت، خوراک، لباس، علاج اور جذباتی ضروریات کے سوالات بھی کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ خود تو کئی دکھ سہہ لیتی ہے، لیکن اپنے بچوں کی آنکھوں میں اٹھنے والے سوالات کا جواب دیتے ہوئے اس کا دل مزید بوجھل ہو جاتا ہے۔
بچے بھی اس تبدیلی سے گزرتے ہیں۔ وہ ایک ایسے گھر سے نکل کر آتے ہیں جسے وہ اپنا گھر سمجھتے تھے۔ ان کے معمولات بدل جاتے ہیں، ان کے کھیلنے کی جگہ بدل جاتی ہے، ان کے آس پاس موجود لوگ بدل جاتے ہیں اور بعض اوقات انہیں یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ ان کی زندگی اچانک کیوں تبدیل ہو گئی ہے۔ وہ کبھی اپنے والد کو یاد کرتے ہیں، کبھی اپنے پرانے گھر کو اور کبھی ایسے سوالات پوچھ لیتے ہیں جن کا جواب ماں کے لیے آسان نہیں ہوتا۔
ایک ماں اپنے بچوں کو تسلی دیتی ہے، انہیں سینے سے لگاتی ہے اور یقین دلاتی ہے کہ سب ٹھیک ہو جائے گا، لیکن کون اس ماں کو تسلی دیتا ہے جو خود اندر سے ٹوٹ رہی ہوتی ہے؟
وہ رات کے اندھیرے میں اپنے بچوں کو سوتا دیکھ کر ان کے مستقبل کے بارے میں سوچتی ہے۔ اسے فکر ہوتی ہے کہ وہ انہیں کس طرح اچھی تعلیم دے گی، ان کی ضروریات کیسے پوری کرے گی اور انہیں معاشرتی طعنوں سے کیسے محفوظ رکھے گی۔ وہ نہیں چاہتی کہ اس کے بچے اپنے حالات کی وجہ سے احساسِ کمتری کا شکار ہوں۔ وہ چاہتی ہے کہ وہ بھی دوسرے بچوں کی طرح ہنسیں، کھیلیں، تعلیم حاصل کریں اور اپنے خواب پورے کریں۔
لیکن اگر والدین کے گھر میں ہی بچوں کو یہ احساس دلایا جانے لگے کہ وہ اضافی ذمہ داری ہیں تو ماں کی مشکلات کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔
بعض اوقات بچوں کی معمولی شرارت بھی گھر والوں کے لیے ناگواری کا باعث بن جاتی ہے۔ انہیں گھر میں زیادہ شور کرنے سے روکا جاتا ہے، چیزیں استعمال کرنے پر ٹوکا جاتا ہے اور کبھی ایسے الفاظ کہہ دیے جاتے ہیں جو ان کے معصوم ذہنوں پر گہرا اثر چھوڑ سکتے ہیں۔ ممکن ہے بڑوں کے لیے یہ چند لمحوں کی جھنجھلاہٹ ہو، لیکن بچے ان رویّوں کو اپنے بارے میں ایک رائے سمجھنے لگتے ہیں۔
ایسے حالات میں ماں کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو محبت اور اعتماد کے ساتھ پروان چڑھائے، جبکہ خود اسے وہی محبت اور اعتماد میسر نہ ہو جس کی اسے ضرورت ہے۔
وہ اپنے حصے کی خوشیاں بچوں کے نام کر دیتی ہے۔ اپنی ضرورت کی چیز خریدنے سے پہلے ان کی ضروریات کا سوچتی ہے۔ اپنے لیے نئے کپڑے لینے کے بجائے بچوں کی فیس ادا کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔ اگر اسے کوئی ملازمت مل جائے تو گھر اور کام کی ذمہ داریاں ساتھ لے کر چلتی ہے، اور اگر ملازمت نہ ملے تو معاشی محتاجی کا احساس اسے مزید پریشان کرتا ہے۔
کچھ عورتیں تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ملازمت نہیں کر پاتیں، کیونکہ ان کے پاس بچوں کو چھوڑنے کے لیے کوئی مناسب انتظام نہیں ہوتا۔ بعض کو ملازمت کی اجازت نہیں ملتی، بعض کو تجربے اور مواقع کی کمی کا سامنا ہوتا ہے اور بعض معاشرتی دباؤ کی وجہ سے اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کی کوشش بھی نہیں کر پاتیں۔ یوں ان کے لیے اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنا مزید دشوار ہو جاتا ہے۔
ایسے میں اگر خاندان انہیں سہارا دینے کے بجائے بار بار ان کی مجبوری کا احساس دلائے تو ان کی خود اعتمادی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
یہاں ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ والدین کے گھر واپس آنے والی بیٹی کوئی اجنبی نہیں ہوتی۔ وہ اسی گھر کی اولاد ہوتی ہے جس کے آنگن میں اس نے بچپن گزارا، جس کے کمروں میں اس کی یادیں آباد ہیں اور جس کے مکینوں کے ساتھ اس نے زندگی کے بے شمار لمحے گزارے ہیں۔ اس کی ازدواجی زندگی کا اختتام اسے اس گھر سے بے تعلق نہیں کر دیتا۔
اگر والدین کی معاشی حالت کمزور ہے تو بیٹی کو بھی ان کی مجبوری سمجھنی چاہیے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے مسلسل احساسِ جرم میں مبتلا رکھا جائے۔ اسی طرح خاندان کے دوسرے افراد کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق اس کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔ ہر مسئلے کا حل صرف مالی مدد نہیں ہوتا؛ بعض اوقات عزت سے کی گئی گفتگو، حوصلہ افزائی کے چند الفاظ اور اپنے پن کا احساس بھی انسان کو دوبارہ جینے کا حوصلہ دے دیتا ہے۔
خلع یافتہ عورت کے لیے ایک اور مشکل معاشرتی رویّوں کا سامنا کرنا ہے۔ اسے کبھی رشتے داروں کے سوالات برداشت کرنے پڑتے ہیں، کبھی محلے والوں کی سرگوشیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کبھی اپنے ہی جاننے والوں کی نگاہوں میں بدلتا ہوا رویّہ محسوس ہوتا ہے۔ بعض لوگ اس کے سامنے ہمدردی ظاہر کرتے ہیں، مگر پیٹھ پیچھے اس کی زندگی پر تبصرے کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اس کی ہر بات کو اس کی سابقہ ازدواجی زندگی سے جوڑ دیتے ہیں، گویا اس کی کوئی الگ شخصیت ہی نہیں۔
اگر وہ خوش دکھائی دے تو اس کی خوشی کے اسباب تلاش کیے جاتے ہیں۔ اگر وہ کسی تقریب میں شریک ہو تو اس کی موجودگی پر باتیں کی جاتی ہیں۔ اگر وہ دوبارہ شادی کے بارے میں سوچے تو اس کے فیصلے پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، اور اگر وہ اکیلے زندگی گزارنے کا فیصلہ کرے تو اسے مختلف اندیشوں سے ڈرایا جاتا ہے۔
آخر اسے اپنی زندگی کے ہر فیصلے کے لیے معاشرے سے اجازت کیوں لینی پڑتی ہے؟
کیا ایک عورت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے حالات کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرے؟ کیا وہ اپنے بچوں کی بہتر پرورش کرتے ہوئے ایک پُرسکون زندگی نہیں گزار سکتی؟ کیا اسے دوبارہ شادی کرنے یا نہ کرنے کے معاملے میں اپنی پسند، حالات اور اطمینان کو اہمیت دینے کا حق حاصل نہیں؟
یقیناً حاصل ہے۔
خلع یافتہ عورت کے بارے میں یہ تصور بھی درست نہیں کہ وہ ہمیشہ دکھی، کمزور یا بے سہارا ہی رہے گی۔ بہت سی خواتین مشکلات کے باوجود اپنی تعلیم مکمل کرتی ہیں، ملازمت اختیار کرتی ہیں، کاروبار شروع کرتی ہیں اور اپنے بچوں کو کامیاب انسان بنانے کے لیے مسلسل محنت کرتی ہیں۔ وہ اپنے حالات کو اپنی پوری شناخت نہیں بننے دیتیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں اور حوصلے کے ذریعے زندگی کو نئے سرے سے ترتیب دیتی ہیں۔
لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر عورت یکساں وسائل، مواقع اور خاندانی تعاون نہیں رکھتی۔ کسی ایک عورت کی کامیابی کو بنیاد بنا کر دوسری عورت کی مشکلات کو معمولی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر کوئی عورت اپنے حالات سے نکلنے میں وقت لے رہی ہے تو اسے کمزور سمجھنے کے بجائے اس کی مدد کی جانی چاہیے۔
ہمارے معاشرے میں خلع کے بعد عورت کے لیے قانونی، معاشی اور جذباتی معاونت کے راستے آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ اسے اپنے حقوق کے بارے میں درست معلومات ملنی چاہییں، بچوں کی کفالت اور دیگر متعلقہ معاملات میں قانونی رہنمائی حاصل ہونی چاہیے اور اسے ایسے مواقع فراہم کیے جانے چاہییں جن کے ذریعے وہ خود مختار زندگی گزار سکے۔
سب سے بڑھ کر ہمیں اپنی زبان اور رویّوں کی اصلاح کرنا ہوگی۔ کسی عورت کے ماضی کو اس کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بند کرنا ہوگا۔ اس کے بچوں کو ان کے والدین کے اختلافات کی سزا نہیں دینی چاہیے اور نہ ہی ان کے سامنے ان کی ماں کی تذلیل کرنی چاہیے۔ بچے کسی بھی ازدواجی تنازعے کے ذمہ دار نہیں ہوتے؛ انہیں محبت، تحفظ اور ایسا ماحول درکار ہوتا ہے جہاں وہ خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔
اسلام ہمیں رشتوں میں انصاف، حسنِ سلوک اور حقوق کی ادائیگی کا درس دیتا ہے۔ نکاح ایک ذمہ دارانہ عہد ہے، لیکن اس عہد کو نبھانے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی انسان کی عزتِ نفس اور ذہنی سکون کو غیر اہم سمجھ لیا جائے۔ رشتوں کو بچانے کی کوشش یقیناً ہونی چاہیے، مگر اس کی ذمہ داری صرف عورت پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ اگر ایک رشتہ ختم ہو جائے تو اس کے بعد بھی دونوں فریقوں کے ساتھ انصاف اور احترام کا رویّہ برقرار رہنا چاہیے۔
میں یہ نہیں کہتی کہ ہر خلع یافتہ عورت کے حالات یکساں ہوتے ہیں یا ہر خاندان اپنی بیٹی کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے۔ بہت سے خاندان اپنی بیٹیوں کے لیے مضبوط سہارا بنتے ہیں، ان کے بچوں کو محبت دیتے ہیں اور انہیں دوبارہ زندگی شروع کرنے کا حوصلہ فراہم کرتے ہیں۔ ایسے گھر معاشرے کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔
لیکن ان گھروں کی حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی جہاں ایک بیٹی کی واپسی کو بوجھ سمجھا جاتا ہے، جہاں اسے اس کے ماضی کے طعنے دیے جاتے ہیں اور جہاں وہ اپنے ہی گھر میں اپنی جگہ تلاش کرتی رہتی ہے۔
ہمیں خود سے ایک سوال ضرور کرنا چاہیے: اگر ہماری بیٹی کسی وجہ سے خلع لے کر واپس آ جائے تو کیا ہم اسے اسی محبت سے گلے لگائیں گے جس محبت سے کبھی اسے رخصت کیا تھا؟ کیا ہم اس کے بچوں کو اپنے بچوں کی طرح اپنائیت دیں گے؟ کیا ہم اسے یہ یقین دلا سکیں گے کہ حالات خواہ کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، اس کے لیے ہمارے دروازے اور دل ہمیشہ کھلے ہیں؟
اگر ہم ایسا کر سکتے ہیں تو یقیناً ہم ایک بیٹی کو صرف چھت نہیں، بلکہ جینے کا حوصلہ بھی دے سکتے ہیں۔
خلع یافتہ عورت کو ترس کی نہیں، عزت کی ضرورت ہے؛ طعنوں کی نہیں، اعتماد کی ضرورت ہے؛ اور بار بار ماضی کی طرف دھکیلنے کے بجائے ایک ایسے موقع کی ضرورت ہے جہاں سے وہ اپنے مستقبل کی تعمیر شروع کر سکے۔
اس کی زندگی کا ایک باب ختم ہوا ہے، پوری کتاب نہیں۔ اس کے خواب اب بھی زندہ ہو سکتے ہیں، اس کی صلاحیتیں اب بھی کسی کام آ سکتی ہیں اور اس کے بچوں کا مستقبل اب بھی روشن ہو سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم اسے ایک ناکام رشتے کی علامت سمجھنے کے بجائے ایک مکمل انسان کے طور پر دیکھنا سیکھیں۔
یاد رکھیے، کسی عورت کی عزت اس بات سے طے نہیں ہوتی کہ وہ شادی شدہ ہے، غیر شادی شدہ ہے یا خلع یافتہ۔ اس کی عزت اس کی انسانیت، اس کے کردار اور اس کے بنیادی حقوق سے وابستہ ہے۔
ایک عورت جب سسرال سے نکل کر والدین کے گھر آتی ہے تو اسے دو گھروں کے درمیان معلق نہ کر دیجیے۔ اسے ایسا گھر دیجیے جہاں وہ خود کو بوجھ نہیں، بلکہ اپنوں کا حصہ محسوس کرے؛ جہاں اس کے بچوں کو محرومی نہیں، محبت ملے؛ اور جہاں اسے یہ ثابت نہ کرنا پڑے کہ وہ عزت کے قابل ہے۔
کیونکہ اسے عزت کے قابل ثابت ہونے کی ضرورت نہیں۔ وہ پہلے ہی عزت کے قابل ہے
مزید پڑھیں




