Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کردار کشی،تحریر: انجینیئر علی رضوان چودھری

نقطہ نظر
ali rizwan ch

ہم جس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں، وہاں کسی انسان کو شکست دینا مشکل نہیں، بس اس کے کردار پر انگلی اٹھانا کافی سمجھا جاتا ہے۔ جب کسی کے پاس کسی انسان کی قابلیت کا جواب نہ ہو، اس کی محنت کا مقابلہ نہ کر سکے، اس کی کامیابی کو روکنے کی طاقت نہ ہو تو پھر ایک خطرناک ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے، اور وہ ہتھیار ہے کردار کشی۔

ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ جب ہم کسی کےمیعار تک نہیں پہنچ پاتے، اس کے قریبی لوگوں کو اپنے ساتھ نہیں ملا پاتے، اس کی مقبولیت کم نہیں کر پاتے یا اس کی کامیابی کو برداشت نہیں کر پاتے تو ہم اس کے کردار پر حملہ شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے بارے میں ایسی باتیں پھیلائی جاتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مقصد صرف ایک ہوتا ہے کہ کسی طرح اس انسان کی عزت، ساکھ اور اعتماد کو مجروح کر دیا جائے۔

یہ ہماری اجتماعی سوچ کا ایک تلخ پہلو ہے کہ ہم کسی کی کامیابی پر تالیاں بجانے کے بجائے اس کی کامیابی کے پیچھے سازش تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کوئی شخص آگے بڑھ جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ آخر کیسے بڑھ گیا؟ کسی کو عزت مل جائے تو کہا جاتا ہے کہ ضرور کوئی راز ہوگا۔ کسی کو لوگ پسند کرنے لگیں تو اس کی شخصیت پر انگلیاں اٹھنا شروع ہو جاتی ہیں۔

آخر ہم اتنے بے چین کیوں ہیں؟

کیا کسی دوسرے کی کامیابی ہماری ناکامی ہے؟

کیا کسی دوسرے کی عزت ہماری بے عزتی ہے

کیا کسی دوسرے کا مقام ہمارے مقام کو کم کر دیتا ہے

یقیناً نہیں۔

اصل مسئلہ انسان کی کامیابی نہیں، بلکہ ہماری اپنی سوچ ہے۔

کردار کشی صرف الفاظ کا کھیل نہیں۔ یہ کسی انسان کی برسوں کی محنت کو چند جملوں میں مشکوک بنا دینے کا نام ہے۔ ایک جھوٹا الزام کسی کی عزت کو نقصان پہنچا سکتا ہے، ایک افواہ خاندانوں میں فاصلے پیدا کر سکتی ہے، ایک غلط بات دوستی ختم کر سکتی ہے اور ایک بے بنیاد الزام کسی انسان کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر سکتا ہے۔

مگر افسوس کہ ہم بولنے سے پہلے سوچتے نہیں۔

ہمیں کوئی بات سنائی دیتی ہے اور ہم اسے تحقیق کے بغیر آگے پہنچا دیتے ہیں۔ ہمیں کسی کے خلاف ایک الزام ملتا ہے تو ہم یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ حقیقت کیا ہے۔ ہمیں صرف اس لیے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ ہمارے پاس کسی کے خلاف بات کرنے کے لیے ایک نیا موضوع آ گیا ہے۔

سوشل میڈیا نے اس بیماری کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔

اب کسی کے بارے میں ایک جملہ لکھنے میں چند سیکنڈ لگتے ہیں اور وہ جملہ چند منٹوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ لکھنے والا شاید اپنی پوسٹ کے بعد اسے بھول جائے، لیکن جس شخص کے بارے میں وہ لکھا گیا ہو، وہ شاید اس کے اثرات برسوں تک برداشت کرتا رہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا کی آزادی کسی کی عزت پامال کرنے کا لائسنس نہیں۔

اختلاف ضرور کریں، تنقید ضرور کریں، مگر دلیل کے ساتھ۔ کسی کے نظریے سے اختلاف ہے تو نظریے پر بات کریں، کسی کی پالیسی سے اختلاف ہے تو پالیسی پر تنقید کریں، کسی کے عمل میں غلطی نظر آتی ہے تو ثبوت کے ساتھ نشاندہی کریں، مگر کسی کی ذاتی زندگی کو نشانہ بنانا، جھوٹے الزامات لگانا اور افواہیں پھیلانا کسی صورت دانش مندی نہیں۔

کردار کشی دراصل اس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان کے پاس دلیل ختم ہو جاتی ہے۔

جو شخص دلیل سے بات نہیں کر سکتا، وہ الزام لگاتا ہے۔

جو شخص مقابلہ نہیں کر سکتا، وہ سازش کرتا ہے۔

جو شخص کامیابی حاصل نہیں کر سکتا، وہ کامیاب انسان کو بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اور جو شخص اپنے کردار کو بہتر بنانے کی کوشش نہیں کرتا، وہ دوسروں کے کردار میں نقائص تلاش کرتا رہتا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ کسی کی عزت خراب کرنا آسان ہے، لیکن عزت بنانا انتہائی مشکل۔ ایک انسان کو اپنے کردار، محنت، اخلاق اور خدمت کے ذریعے لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں، مگر ایک جھوٹا الزام اس اعتماد کو لمحوں میں نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اسی لیے ہمیں اپنی زبان اور قلم دونوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔

ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اگر کل یہی بات ہمارے بارے میں کہی جائے تو ہمیں کیسا محسوس ہوگا؟ اگر ہماری اولاد ہمارے بارے میں وہی بات پڑھے جو ہم آج کسی دوسرے کے بارے میں لکھ رہے ہیں تو کیا ہمیں فخر ہوگا؟ اگر ہمارے دوست ہمارے الفاظ کا حساب مانگیں تو کیا ہم ہر الزام ثابت کر سکیں گے؟

اگر جواب نہیں ہے تو خاموشی بہتر ہے۔

زندگی میں ہر انسان کے ساتھ اختلاف ہو سکتا ہے۔ ہر شخص ہماری پسند کا نہیں ہو سکتا۔ ہر شخص ہماری رائے سے متفق نہیں ہو سکتا۔ مگر اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنا، دشمنی کو نفرت میں بدلنا اور نفرت کو کردار کشی تک لے جانا کسی مہذب معاشرے کی علامت نہیں۔

ہمیں اپنے بچوں کو بھی یہ سکھانا ہوگا کہ کسی کے بارے میں سنی سنائی بات آگے نہ پھیلائیں۔ کسی کے خلاف الزام سنیں تو پہلے تحقیق کریں۔ کسی کی کمزوری کا علم ہو تو اسے تماشہ نہ بنائیں۔ اور اگر کسی کی غلطی معلوم ہو تو اصلاح کی نیت رکھیں، انتقام کی نہیں۔

کیونکہ آج ہم جس انسان کے کردار پر بات کر رہے ہیں، کل ممکن ہے کوئی دوسرا ہمارے کردار پر بات کر رہا ہو۔

دنیا میں سب کچھ واپس آ سکتا ہے، مگر کسی انسان کی عزت پر لگنے والا داغ ہمیشہ آسانی سے نہیں مٹتا۔

اس لیے اگر کسی سے مقابلہ ہے تو اس کی کردار کشی نہ کریں، اپنے کردار کو بہتر بنائیں۔ اگر کسی سے آگے نکلنا ہے تو اس کی ٹانگ نہ کھینچیں، اپنی محنت بڑھائیں۔ اگر کسی کی شہرت آپ کو پریشان کرتی ہے تو اسے بدنام کرنے کے بجائے اپنی پہچان بنائیں۔

یاد رکھیں، دوسروں کو گرا کر کوئی شخص بلند نہیں ہوتا۔

بلندی ہمیشہ کردار سے ملتی ہے۔

اور وقت سب سے بڑا منصف ہے۔ آج جو لوگ دوسروں پر کیچڑ اچھال رہے ہیں، کل وہ خود اسی کیچڑ میں کھڑے نظر آ سکتے ہیں۔ اس لیے کسی کی عزت کو اپنا ہتھیار نہ بنائیں۔

اختلاف کریں، مگر تہذیب کے ساتھ۔

تنقید کریں، مگر دلیل کے ساتھ۔

مخالفت کریں، مگر اخلاق کے ساتھ۔

اور اگر کچھ نہیں کر سکتے تو خاموش رہیں۔

کیونکہ خاموشی کبھی کسی کا کردار نہیں گراتی، مگر غلط زبان اکثر بولنے والے کا اپنا کردار ضرور بے نقاب کر دیتی ہے۔

کردار کشی کسی دوسرے انسان کو چھوٹا کرنے کی کوشش نہیں، بلکہ کردار کشی کرنے والے کی اپنی تربیت، سوچ اور اخلاق کا آئینہ ہوتی ہے۔