Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کسی کے ہجر میں یہ محو۔یاسں لگتی ہیں ،شاعرہ،شبنم مرزا

نقطہ نظر

کسی کے ہجر میں یہ محو۔یاسں لگتی ہیں

گزرتے سال کی شامیں اداس لگتی ہیں


مرے طواف میں مصروف ہیں کئی دن سے

یہ ساعتیں تو مری غم شناس لگتی ہیں


کہ اب تو دل کی گھٹن کا کوئی علاج نہیں

کہ اب تو دھڑکنیں صحرا کی پیاس لگتی ہیں


میں جب بھی دیکھتی ہوں غور سے نہ جانے کیوں

چمن میں کلیاں سبھی بے لباس لگتی ہیں


تمھارے قرب میں گزریں تھی جس قدر گھڑیاں

وہ اب بھی دل کے کہیں آ س پاس لگتی ہیں


یہ کیسا خوف سا پھیلا ہے ہر طرف شبنم

کہ دن ہیں سہمے سے راتیں اداس لگتی ہیں. شبنم مرزا لاھور