Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

وحشت اٹھائے آنکھ میں اک بے قرار یاد،شاعر:صفدر بھٹی

نقطہ نظر
safdar bhatti

وحشت اٹھائے آنکھ میں اک بے قرار یاد

شاید تجھے نہ یاد ہو زار و قطار یاد


سرما کی سرد رات میں سناٹا اوڑھ کر

نکلی تھی اک گلی سے اکیلی نزار یاد


پاؤں میں بیڑیاں تھیں وفاؤں کی استوار

گردن میں طوقِ ہجر زبس اشکبار یاد


بھٹکی نہیں خیال میں عرصے سے اک طویل

گلگوں لباس میں وہ نکھرتی بہار یاد


مائل بہ لطف ایک گھڑی اک ادائے شوخ

یعنی تمام عمر کا حاصل نگار یاد


رنگت کھلی کھلی سی تھی قامت بلائے جان

ساعد بھی ساق سینہ شکم زر نگار یاد


چہرہ فروغِ حسنِ فسوں کار سے فروز

نظروں میں جگنووں کا لیے تھی نکھار یاد


ان بن ہوئی جو میرے رقیبوں کے درمیان

رکھتی تھی جام سامنے میرے ہی یار یاد


شیشم شجر کے نام سے منسوب ایک چوک

پھرتی تھی واں اداس رہِ انتظار یاد


شاید اُسے بھی وقت میسر نہ اب رہے

شاید نہ اب مجھے بھی کرے سوگوار یاد


آنکھوں سے چھم چھما ہوۓ دجلہ فرات نیل

سینہ جریح کرنے لگی تیز دھار یاد


صفدر کہ بارِ طاق کریں خامہ اور بیاض

شاید فلک سے ہونے لگی آر پار یاد