Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کچھ جدائیاں ہمیں اللہ کے قریب کر دیتی ہیں،تحریر:ماہ جبین اظہر

نقطہ نظر
mah jabeen b

کچھ لوگ ہماری زندگی میں ایسے اترتے ہیں کہ پھر اُن سے بچھڑ جانے کے باوجود ہم اُن سے جدا نہیں ہو پاتے۔ وہ ہماری دسترس سے دُور ہو جاتے ہیں، ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں، مگر دل کے نہاں خانوں میں اُن کی موجودگی پہلے سے کہیں زیادہ گہری ہو جاتی ہے۔ ہم چاہ کر بھی اُن تک نہیں پہنچ سکتے، اُن سے مل نہیں سکتے، اُن کے سامنے بیٹھ کر اپنے دل کی بے چینی بیان نہیں کر سکتے۔ بس ایک بے نام سی بے قراری ہے جو دل میں ٹھہر جاتی ہے، ایک خاموش سی تڑپ ہے جو روح کے اندر کہیں مسلسل جاگتی رہتی ہے۔ ہم بظاہر زندگی کی تمام مصروفیات نبھا رہے ہوتے ہیں، لوگوں سے ملتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، مسکراتے ہیں، مگر ہمارے اندر کوئی گوشہ ایسا ضرور ہوتا ہے جہاں اُس شخص کی یاد خاموشی سے بسیرا کیے رہتی ہے۔

کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ وقت پلٹ جائے، وہ لمحہ دوبارہ ہماری زندگی میں اتر آئے جب فاصلے اتنے وسیع نہیں ہوئے تھے، جب ملاقات کی امید باقی تھی، جب کسی کی آواز سن لینے سے دل کو قرار آ جاتا تھا۔ مگر وقت کی اپنی ہی گردش ہے؛ وہ کسی کی آرزو پر نہیں ٹھہرتا، کسی کی فریاد پر پیچھے نہیں پلٹتا۔ ہم چاہ کر بھی گزرے ہوئے لمحوں کو اپنی مٹھی میں قید نہیں کر سکتے۔ بس یادوں کے چند چراغ ہیں جنہیں ہم اپنے دل کی دہلیز پر جلائے رکھتے ہیں، اس امید میں کہ شاید اُن کی روشنی میں کبھی اپنے اندر کی ویرانی کو سمجھ سکیں۔

اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب انسان اپنی تمام تر بے بسی کے ساتھ خود سے سوال کرتا ہے کہ آخر وہ کس در پر جائے، کس سے اپنے دل کا حال کہے، کس کے سامنے اپنی خاموشیوں کا مفہوم کھولے؟ دنیا کے سامنے تو ہم اپنے دکھ چھپا لیتے ہیں، اپنے چہرے پر اطمینان سجا لیتے ہیں، مگر دل کی گہرائیوں میں اترنے والی اداسی کو ہر کسی کے سامنے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ کچھ احساسات ایسے ہوتے ہیں جنہیں لفظوں کا لباس پہنایا جائے تو بھی اُن کی شدت کم نہیں ہوتی۔ کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جنہیں سمجھنے کے لیے سماعت نہیں، احساس درکار ہوتا ہے۔

شاید اسی مقام پر انسان کے اندر ایک نئی جستجو جنم لیتی ہے۔ وہ اپنے دل کی ساری تھکن لیے اللہ کے حضور جھک جاتا ہے۔ کبھی دعا کے لیے اٹھے ہوئے ہاتھوں میں اپنی محرومی رکھ دیتا ہے، کبھی سجدے میں پیشانی ٹیک کر اپنی بے قراری کا بوجھ ہلکا کرنے لگتا ہے۔ وہ باتیں جو کسی انسان سے نہیں کہہ سکتا، اپنے اللہ سے کہنے لگتا ہے۔ وہ آنسو جو کسی کی یاد میں آنکھوں تک آتے تھے، اب بارگاہِ الٰہی میں بہنے لگتے ہیں۔ اور یوں ایک ایسی قربت کا آغاز ہوتا ہے جس کا احساس پہلے کبھی اس شدت سے نہیں ہوا ہوتا۔

عجیب بات ہے نا! ہم کسی کو پانے کی خواہش میں اُس کی یاد سے بندھے رہتے ہیں، مگر یہی یاد ہمیں اُس ذات کے قریب لے جاتی ہے جس کے اختیار میں تمام فاصلے اور تمام قربتیں ہیں۔ ہم کسی انسان کی موجودگی کے طلب گار ہوتے ہیں، مگر رفتہ رفتہ اُس ہستی کی حضوری کا احساس ہمارے اندر اترنے لگتا ہے جو ہر حال میں ہمارے ساتھ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہماری خاموشی کو سمجھے، ہماری آنکھوں میں چھپے سوال پڑھ لے، ہمارے دل کی بے چینی کو محسوس کرے، مگر پھر یاد آتا ہے کہ اللہ تو وہ ہے جو ہمارے کہے بغیر بھی ہمارے دل کا حال جانتا ہے۔

یہ قربت یک دم حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے لیے دل کو اپنی انا کے حصار سے نکلنا پڑتا ہے، اپنی خواہشوں کے شور کو خاموش کرنا پڑتا ہے، اور یہ قبول کرنا پڑتا ہے کہ زندگی میں ہر چاہت کا مقدر وصال نہیں ہوتا۔ کچھ رشتے ہمارے ساتھ رہ کر ہمیں بدلتے ہیں اور کچھ فاصلے ہمیں اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتے ہیں۔ بعض اوقات جس محرومی کو ہم اپنی زندگی کا سب سے بڑا نقصان سمجھ رہے ہوتے ہیں، وہی ہمیں ایک ایسی حقیقت سے آشنا کر دیتی ہے جس کی طرف ہم نے کبھی پوری توجہ سے دیکھا ہی نہیں ہوتا۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ یاد مٹ جاتی ہے، محبت ختم ہو جاتی ہے یا جدائی کا احساس ہمیشہ کے لیے رخصت ہو جاتا ہے۔ نہیں! کچھ یادیں عمر بھر ہمارے ساتھ چلتی ہیں۔ کچھ نام دل کی دھڑکنوں میں محفوظ رہتے ہیں، کچھ چہرے نگاہوں سے دور ہو کر بھی خیالوں میں آباد رہتے ہیں۔ فرق صرف اتنا آتا ہے کہ پہلے اُن کی یاد ہمیں بے چین کرتی تھی، اب اسی یاد کے ساتھ ہمارے لبوں پر دعا بھی آ جاتی ہے۔ پہلے ہم اُن تک پہنچنے کی آرزو میں مضطرب رہتے تھے، اب اُنہیں یاد کرتے ہوئے اللہ سے اپنے دل کے سکون کی التجا کرنے لگتے ہیں۔

شاید یہی وہ مقام ہے جہاں جدائی محض محرومی نہیں رہتی، بلکہ روح کے سفر کا ایک وسیلہ بن جاتی ہے۔ جہاں آنسو صرف دکھ کی علامت نہیں رہتے، بلکہ دعا کی زبان بن جاتے ہیں۔ جہاں دل کسی انسان کی عدم موجودگی پر اداس تو ہوتا ہے، مگر اللہ کی قربت کے احساس سے بالکل تنہا نہیں رہتا۔

اب بھی کبھی اُس کی یاد دل کے کسی بند دریچے پر دستک دیتی ہے، اب بھی بعض لمحے ماضی کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں، اب بھی دل چاہتا ہے کہ کاش کچھ فاصلے مٹ سکتے، کچھ ملاقاتیں ممکن ہو سکتیں۔ مگر اب اس خواہش کے ساتھ ایک سکون بھی شامل ہے، ایک یقین بھی کہ جو بات کسی انسان تک نہیں پہنچ سکتی، وہ اللہ تک ضرور پہنچتی ہے۔ جو آنسو دنیا سے چھپائے جاتے ہیں، وہ بھی اُس کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں رہتے۔ اور جو دل اپنی بے بسی میں اُس کے سامنے جھک جاتا ہے، وہ رفتہ رفتہ اپنی محرومی کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے۔

شاید بعض جدائیوں کا راز یہی ہے کہ ہم کسی انسان کو پانے کے لیے بے قرار ہوتے ہیں، مگر اُس کی یاد ہمیں اپنے اللہ کے قریب کر دیتی ہے۔ ہم ایک ایسے وجود کی تلاش میں بھٹکتے ہیں جس تک ہماری رسائی ممکن نہیں ہوتی، مگر اسی تلاش کے دوران ہمیں اُس ذات کی قربت نصیب ہو جاتی ہے جس سے بڑھ کر کوئی سہارا نہیں۔

اور پھر دل دھیرے سے کہتا ہے:


وہ شخص میری دسترس میں نہ سہی، مگر اُس کی یاد نے مجھے اُس در پر لا کھڑا کیا ہے جہاں میں اپنے ہر دکھ کے ساتھ جا سکتی ہوں۔ جہاں میری خاموشی بھی سنی جاتی ہے، میری بے بسی بھی سمجھی جاتی ہے، اور میرے آنسوؤں کو لفظوں کا محتاج نہیں ہونا پڑتا۔

کبھی کبھی کسی کی جدائی ہمیں اُس ذات سے ملا دیتی ہے جس کی قربت میں دل کو وہ سکون ملتا ہے جس کی تلاش میں ہم عمر بھر بھٹکتے رہتے ہیں۔