علمائے اہلسنت کی سیکرٹری اوقاف کا خطیب داتادربا پر بے بنیاد الزامات اور پروپیگنڈے کی شدید مذمت

تحریک حقوق علما اکرام پاکستان،ادارہ منہاج اہلسنت پاکستان،جماعت رضائے حبیب کبریاء لاہور،ادارہ افکار صوفیاء پاکستان،تنظیم المساجد اہلسنت مرید کے کی جانب سے داتا دربار مسجد کے خطیب ڈاکٹر مفتی محمد رمضان سیالوی پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی شدید مذمت کی گئی ہے-
علمائے اکرام کی جانب سے جاری مذمتی بیان میں سیکرٹری محکمہ اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹی کی جانب سے علمائے اہلسنت کے خلاف مہم کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے-
تحریک حقوق علما اکرام پاکستان نے اپنے مذمتی بیان میں اہلسنت علماء کے ساتھ مبینہ جانبدارانہ روپے پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہا کہ سیکرٹری اوقاف احسان بھٹی ہوش کے ناخن لو اور علماء اہلسنت کئ خلاف مہم کو فورا ختم کرو ،ظلم کے یہ ضابطے ہم نہیں مانتے-
ادارہ منہاج اہلسنت پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹی کا اہلسنت کے ممتاز عالم دین کے ساتھ ناروا سلوک اہلسنت و جماعت کے ساتھ زیادتی کا منہ بولتا ثبوت ہے،محکمہ اوقاف کی رونقیں اہلسنت کے ساتھ ہیں،اور اسی مسلک کے علماٰ بالخصوص ڈاکٹر مفتی محمد رمضان سیالوی صاحب پر یہ جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی پر زور مذمت کرتے ہیں اور الزامات واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں-
جماعت رضائے حبیب کبریاء لاہور نے بھی مذمتی بیان جاری کیا کہا کہ اہلسنت علماء کے ساتھ مبینہ جانبدارانہ روپہ قابل تشویش ہے، سیکر ٹر ی اوقاف کےمبینہ جانبدارانہ رویےبالخصوص دااتا دربار خطیب ڈاکٹر مفتی محمد رمضان سیالوی کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر اہل سنت کے حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے،اسی طرح ،ادارہ افکار صوفیاء پاکستان اور تنظیم المساجد اہلسنت مرید کے نے بھی مذمتی بیان میں تشویش کا اظہار کیا-
ناروے سے محمد طاہر عزیز باروی نے بھی سیکرٹری اوقف کے اس اقدام کی پرزور مذمت کی انہوں نے فیس بک پر ایک تفسیلی پوسٹ شئیر کی انہوں نے لکھا کہ منیر نیازی مرحوم کا ایک مصرع ہے کہ ’’منیرؔ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے‘‘۔ وطن عزیز پر تو آسیب کا سایہ ہے ہی مگر اس سے کہیں زیادہ اس سائے کا شکار ہمارے افسرانِ بالا ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ تمام محکموں کے سربراہان اور افسرانِ شاہی اسی سائے میں یوں خوابِ خرگوش کے مزے لے لے کر مسند نشیں ہیں کہ انہیں لگتا ہی نہیں یہ سب عارضی ہے اور بہت جلد اس پر کوئی اور اسی طرح براجمان ہوگا جس طرح ہم ہیں۔ اگر کسی کو نہیں یقین تو اسی کمرے کی کسی دیوار پر آویزاں ایک بورڈ پر ایک نظر ڈالیے، وہ اس حقیقت کو سمجھنے میں بہت معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
’’محکمہ مذہبی امور‘‘ کو اس چیز کا زیادہ پاس ہونا چاہیے کہ ہمارے مذہب کی تعلیمات کا خلاصہ بھی یہی ہے۔ مگر برا ہو غلط فہمیوں اور خوشا مدی ٹولے کا، یہ دماغ کا قبلہ درست ہونے ہی نہیں دیتے طویل عرصے بعد محکمہ اوقاف و مذہبی امور کے متعلق عوام الناس اور خاص کر مذہبی حلقوں میں ایک اچھی رائے قائم ہونے لگی تھی، فردِ واحد کا تسلط کسی انداز میں ٹوٹنے لگا تھا، مگر شاید یہ غلط فہمی تھی یا بھولا پن۔ انداز بدلا نہ طریقِ کار، بس نشانہ بدلا اور نشانے باز۔
سیکریٹری اوقاف جناب ڈاکٹر احسان احمد بھٹہ جب سے اس عہدے پر آئے تو لاریب انہوں نے ایک نئے انداز میں کام کرنے کی ایک تحریک پیدا کی، جس سے ان کے وقار میں اضافہ ہوا۔ ابتدائی طور پر رائے ان کے متعلق یہ تھی کہ بہت کام کے آدمی ہیں۔ اپنے کام سے غرض رکھتے ہیں اور گروپ بندی کا تو بالکل مزاج نہیں۔
مگر کچھ ہی عرصے میں وہ بھی شاید اسی رنگ میں رنگے گئے اور انہوں نے اپنے پیش رو کی تمام باقیات اور ان کے معتمدین کو ٹھکانے لگانے کا سوچا۔ کرپشن سے پاک محکمے کا نعرہ بہت مفید ثابت ہوا، مگر انہوں نے کنویں سے پانی کے ڈول نکالنے پر اپنا سارا زورِ بازو صرف کر دیا، اصل چیز کی طرف ان کی توجہ نہیں گئی یا شاید وہ کام ان کے بس میں نہیں۔ اگر تو افسرانِ بالا پر ان کا بس نہیں چلا تو پھر یہ نعرہ ہی بے کار ہے کہ صرف ’’ماڑے اور غریب‘‘ یا آپ کے ماتحت شریف النفس ہی اگر رگڑے میں آنے ہیں تو پھر یہ بات بالکل درست ہے کہ وہ بھی تب ایسے ہی مجبور تھے جیسے اب آپ کے ماتحت مجبور ہیں اور کل کوئی اور مجبور ہوگا۔ اور اسی طرح کل آپ کسی افسر کے سامنے ’’قرآن مجید‘‘ رکھ کے اپنی بے گناہی ثابت کر رہے ہوں گے۔
گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر سابق خطیب جامع مسجد دربار حضرت داتا گنج بخش، علامہ مفتی محمد رمضان سیالوی صاحب کا معاملہ زیرِ گردش ہے جتنے منہ اتنی باتیں، ہر انسان کا اپنا تبصرہ ہے اور ہر ایک کا اپنا الزام۔ یہ سب محکمہ اوقاف کے ان کے متعلق حالیہ فیصلے اور بیانیے کی وجہ سے ہے۔ ایک شریف النفس اور امانت دار انسان کے لیے بہت بڑی آزمائش ہے اور کسی کی عزتِ نفس کو اچھالنے والی بات ہے، جو کسی ذی شعور کو زیب نہیں دیتی، مگر کیا کریں، ہم لوگ تو امن و آشتی میں اخلاقیات کو پرکاہ کی حیثیت نہیں دیتے، کجا یہ کہ مخالفت میں وہ سامنے رہیں۔
ایسا قطعاً نہیں کہ میں جناب مفتی رمضان صاحب کو معصوم عن الخطا سمجھتا ہوں یا وہ کسی بشری کمزوری سے متصف نہیں، مگر ایسا بھی نہیں کہ ایک محکمانہ کارروائی پر انہیں بددیانت، خیانت کرنے والا اور مالی بدعنوانیوں میں ملوث کے طور پر معاشرے میں پیش کیا جائے۔
میری ذاتی رائے میں مفتی رمضان صاحب قبلہ سے اہلِ سنت کو کئی امور میں تحفظات رہے، مگر ان کا موقف سنا جائے تو انسان کو بات سمجھنے میں مشکل پیش نہیں آتی کہ سرکاری مناصب اور ذمہ داریاں انسان کو کئی مواقع پر خاموش کروا دیتی ہیں یا کچھ ایسے معاملات وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں جن کو باہر رہنے والے افراد شاید اس طرح سمجھ نہیں پاتے۔
تھوڑا سا اگر پس منظر میں جا کے دیکھا جائے تو حضرت مفتی رمضان صاحب کو اس مسند پر اپنی خدمات سرانجام دیتے ہوئے تقریباً دو عشرے ہونے کو ہیں۔ ایسے میں درجنوں افسرانِ بالا محکمے کی سربراہی کے لیے متعین ہوئے، لیکن کسی بھی سربراہ نے علماء کرام کے ساتھ ایسا رویہ نہ اپنایا جیسا اب کے دیکھا گیا۔ سارے سربراہان تو نااہل نہیں تھے نا؟
جب سے موجودہ سیکریٹری صاحب تشریف فرما ہوئے ہیں تو مفتی رمضان صاحب زیرِ عتاب ہیں۔ وجوہاتِ عتاب کو اگر دیکھا جائے تو وہ بالکل سطحی قسم کی ہیں۔ اس پر کسی کو کوئی مخلصانہ مشورہ تو دیا جا سکتا ہے، مگر ان وجوہات پر وہ بھی ازخود جواب طلبی کے نوٹسز محکمے کے دائرۂ کار میں بالکل نہیں آتے۔
بالفرض اسے اپنے فرائضِ منصبی کا حصہ سمجھ کر بھی کیا تو یہ انصاف کا تقاضا نہیں کہ اس شخص کو بددیانت یا کرپٹ قرار دے دیا جائے۔
اس سے قبل انہیں خطابت سے پہلے ’’ٹرانسفر‘‘ کیا گیا اور جامعہ ہجویریہ کی پرنسپل شپ سونپی گئی اور بعد میں انہیں معزول کر کے ان کی تنزلی کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے۔
پورے وثوق کے ساتھ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اس سارے معاملے پر بھی جن لوگوں نے محترم سیکریٹری صاحب کے کان بھرے، یہی وہ ’’مفاد پرست‘‘ ٹولہ ہے جو کبھی سابق سیکریٹری صاحب کو محکمے کا اور اپنا ’’ابا‘‘ قرار دیتا تھا۔ یہ ان کے قصائد ایسے گاتا تھا جیسے العیاذ باللہ نعتِ رسول پڑھی جا رہی ہو۔ تب بھی اس طبقے کا مقصد مفاد پرستی تھا اور اب بھی وہی ہے۔ یہ وہ ظالم طبقہ ہے جو اپنے مفادات کی بھینٹ کسی کی عزت یا منصب کو بآسانی چڑھا سکتا ہے اور اس کا ادراک موجودہ سیکریٹری صاحب کو کرنا ہوگا، ورنہ کل محترم سیکریٹری صاحب کے خلاف یہی وعدہ معاف گواہ ہوں گے۔
دوسرا، یہاں ایک اور بات بہت اہم معلوم ہوتی ہے کہ محکمے کا سربراہ اپنے کسی ماتحت سے ٹکر لے کے محکمے کی کوئی خدمت نہیں کر سکتا۔ اگر ایسا ہوتا تو جناب طاہر بخاری، مولانا عبدالخبیر آزاد کو ان کے منصب سے کب کے بالکل فارغ کر چکے ہوتے۔ ان کی مخالفت میں کیا کچھ نہ کیا گیا۔ مبشر لقمان سے پروگرام کروائے گئے، ان کی تمام اسناد کو جعلی قرار دیا گیا۔ ان پر الزامات لگائے گئے، مگر کچھ بھی نہ ہو سکا۔ اس لیے کہ ایک تو ’’امام کعبہ‘‘ کی سفارش، دوسرا دیوبندی حضرات ان کی پشت پر تھے، مگر بدقسمتی ہماری کہ ہم اہلِ سنت جلد اس کا ادراک نہیں کر پاتے۔
حضرت مفتی رمضان صاحب ایک باصلاحیت عالمِ دین، بہترین اور بالغ نظر مفتی، وسیع النظر مبلغ اور بہت باکمال حافظ و قاری ہیں۔ ان سے ہزاروں اختلافات بھی ہوں، لیکن ان کی خدماتِ دینیہ اور ان کے کردار کی عظمت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ حالات خدانخواستہ جس جانب اشارہ کر رہے ہیں، وہ مفتی رمضان صاحب تو محض ایک ظاہری علامت ہیں، اصل مقصد اہلِ سنت کے علماء کرام پر طبع آزمائی تو نہیں؟
مفتی صاحب کے مخالف حالیہ فیصلے کو دیکھا جائے تو اس میں کئی سقم موجود ہیں، جو بالکل ظاہر و باہر ہیں۔ اس کی سب سے بڑی دلیل تو ڈی جی اوقاف کی ایک پوسٹ کے کمنٹس میں پیش کیے گئے خیالات ہیں کہ ان سے کوئی جواب نہیں بن پایا اور انہوں نے بغیر سر پیر کے اڑانے کی کوشش کی ہے، جو کامیاب نہ ہو سکی۔
رہی بات فیصلے کی، اگر اس کو دیکھا جائے تو وہ بذاتِ خود محلِ نظر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی ’’کلرک‘‘ سے چھبیس لاکھ روپے لیے اور وہ کہاں خرچ ہوئے، اس کے ثبوت محکمے کو مہیا نہیں کیے گئے سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ شخص اس سے قبل بھی مالی کرپشن کے کئی اسکینڈلز کی زد میں ہے۔ اگر مفتی رمضان صاحب والا حساب کتاب اس شخص کے ذمہ واجب الادا ہے تو اس کا ذمہ دار خطیب داتا دربار کیسے؟
اور وہی شخص جس کے نام پر یہ سب چل رہا ہے، وہ اپنا تحریری بیان محکمے کو جمع کروا چکا ہے کہ میں نے مفتی محمد رمضان صاحب کو کوئی رقم نہیں دی اور نہ ہی محکمے کے پاس مفتی رمضان صاحب کے ہاتھ اس کی وصولی کا کوئی ثبوت موجود ہے۔
اس بابت سب سے اہم بات یہ بھی ہے کہ جن واؤچرز کی بنیاد پر مفتی صاحب پر فردِ جرم عائد کی گئی، ان واؤچرز پر حضرت داتا صاحب کے موجودہ خطیب اور اس وقت کے صوبائی خطیب، جناب مولانا مختار ندیم، ایگزیکٹو آفیسر مرکز معارفِ اولیاء جناب مشتاق احمد، جامعہ ہجویریہ کے اس وقت کے پرنسپل مولانا ریاض احمد چشتی اور مفتی محمد رمضان سیالوی صاحب کے دستخط موجود ہیں، اور اگر اس معاملے میں مالی بے ضابطگی موجود ہے تو باقی سب اپنے اپنے عہدوں پر ہیں، بلکہ ایک دو کو پہلے سے بڑے منصب سے نوازا گیا۔ اکیلا مفتی رمضان مجرم اور بددیانت کیسے؟
ایک بات اور جو اس وقت زبان زدِ عام ہے کہ مفتی صاحب نے غیر ملکی دورے بہت کیے، تو کیا محکمہ اس پر عوام الناس کو مطمئن کرے گا کہ خطیب داتا دربار اور خطیب بادشاہی مسجد جب سیم رولز پر ہیں تو خطیب شاہی مسجد کو یہ سب روا کیسے اور خطیب داتا دربار کے لیے یہ ناجائز کیوں؟ کیا یہ مذہبی منافرت اور اپنی مسلکی وابستگی کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے زمرے میں نہیں آئے گا؟
بالفرض محکمے کی بات سو فیصد درست مان لی جائے تو پھر بھی کیا مفتی صاحب سے اس پر جواب طلب کیا گیا؟ ان کو سنا گیا؟ ان کی جانب سے دیے گئے جوابات پر کوئی جرح کی گئی یا یہ ساری یک طرفہ کارروائی کر کے کسی کو خوش کیا گیا یا کسی کے مفاد کے لیے پورا محکمہ آلہ کار بن گیا؟
قریب دس سالوں سے ہم نے عرسِ پاک کی تقریبات کو بہت قریب سے دیکھا۔ طریقۂ کار یہ ہوتا ہے کہ ہر مہمان کو اسٹیج سے روانہ کرتے وقت معمولی سا کچھ اعزازیہ دیا جاتا ہے۔ اس پر باقاعدہ دستخط لیے جاتے ہیں اور وہ محکمے کے مالیات کی ذمہ داری ہوتی ہے، نہ کہ وہ خطیبِ مسجد کو دیے جاتے ہیں کہ آپ سب کو دیں اور پھر حساب کتاب جمع کروائیں۔
ہم دوست عینی شاہد ہیں کہ مفتی رمضان سیالوی صاحب شروع سے اپنا سائیڈ بزنس رکھتے ہیں اور اس میں وہ کروڑوں تک گئے۔ ایسا شخص جو خود کروڑوں کا مالک ہو، وہ محکمے کے چھبیس لاکھ روپے ہضم کر جائے گا؟
اسی طرح اس بات کو بھی پیشِ نظر رکھا جائے کہ آپ کو ہزارہا خدشات کیوں نہ ہوں، یہ ایک اصولی بات ہے کہ سرکاری طور پر ہر چیز کا ایک ریکارڈ ہوتا ہے۔ جب تک آپ کے پاس مکمل اور واضح ثبوت نہ ہوں تو آپ کسی پر مالی بدعنوانی کا الزام کیسے لگا سکتے ہیں؟محکمے کے چھبیس لاکھ روپے ہیں، وہ کب دیے گئے، اس کا کوئی ثبوت جب تک تحریری طور پر موجود نہ ہو، کسی شخص کو اس طرح نوکری سے برخاست اور اس طرح اس کی تنزلی کے احکامات کیسے جاری کیے جا سکتے ہیں؟
اسی لیے ہم سیکریٹری صاحب سے گزارش کرتے ہیں کہ اس تاثر کو زائل کیا جائے کہ یہ کارروائیاں اہلِ سنت کے خلاف نہیں یا کسی شخص کے پسند یا ناپسند ہونے کی بنیاد پر نہیں۔ اس فیصلے پر نظرِ ثانی کریں، اس سے ان کے وقار اور نیک نامی میں اضافہ ہوگا۔
اپنی تحریر کے اختتام پر ان نادان دوستوں کی خدمت میں ایک عرض ہے جو کل سے رقص کناں ہیں کہ یہ فیصلہ گویا داتا صاحب کی منظوری سے ہوا۔ الزامی طور پر ان سے سوال ہے کہ صرف یہ فیصلہ داتا صاحب کی منظوری ہے یا کسی کو مدینہ طیبہ سے باہر نکال دیا جائے تو کیا وہ فیصلہ بھی اسی طرح مکینِ گنبدِ خضریٰ کا فیصلہ سمجھا جائے گا؟-
ہم نے تب بھی کہا تھا کہ یہ انتظامی فیصلہ ہے، اسے قطعاً منشاءِ نبوت سے نہ جوڑا جائے۔ اب بھی یہی بات ہے۔ ہم آپ کے قائد کا کھلے دل سے احترام کرتے ہیں، مگر اس طرح کا بیانیہ پھر سوال پلٹ کے آئے گا تو شاید تکلیف کا باعث ہو،ا ہلِ سنت و جماعت کے اکابرین کو سیکر یٹری اوقاف کے ساتھ ایک ملاقات کرنی چاہیے اور ان سے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کا کہا جائے، ورنہ کل اور اس کا شکار ہوگا اور ہم سب تماشائی۔۔۔ تو کہیں کل ہم خود اس کی زد میں نہ ہوں-
صدر جمعیت علمائے پاکستان م ممبر مرکزی شوریٰ جے یو پی محم نعیم جاوید نوری نے بھی سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی پوسٹ شئیر کی جس میں انہوں نے سیکرٹری اوقف احسان بھٹی سے علمائے اہلسنت کے خلاف پروپیگنڈے اور بے بنیاد وارداتیں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا-
انہوں نے لکھا کہ مولانا،حافظ ،قاری ،پیرطریقت مفتی رمضان صاحب سیالوی نے داتا دربار اپنے 17سالا دور خطابت میں محکمہ اوقاف کے تقریبا 33 سیکرٹریز کے ساتھ کام کیاھے۔ سوال یہ ھے کہ اگر مفتی صاحب اس قابل نہ تھے تو کیا وہ تمام سیکرٹریز، ڈی جیزاوقاف اور دیگرمتعلقہ حکام سوئے ہوئے تھے؟ محکمہ اوقاف میں بہت سے علمائے اہلسنت کےتبادلوں کی صورت میں کھاڑ بچھاڑ اور دیگر بہت سی حرکتوں سے صاف نظر أرہا ھے کہ موجودہ سیکرٹری اوقاف احسان اللہ بھٹہ علما ئے اہلسنت کو بدنام اور تنگ کرنے کا ایجنڈا لیکر أیا ھے۔
مفتی رمضان سیالوی صاحب ایک سکہ بند عالم دین ہیں۔ ہزاروں شاگردوں کے استاذ گرامی اور پیر طریقت ہیں۔ سیکرٹری اوقاف اور مفتی صاحب کے حاسدین خدا کا خوف کریں۔ایک جید عالم دین کی یوں سرعام توہین وتضحیک کا سلسلہ فورا بند ہونا چاہیے۔ وزیراعلی پنجاب اور دیگر متعلقہ حکام مفتی صاحب کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا فورا نوٹس لیں۔ اگر محکمہ کو مفتی صاحب۔ سے کوئ شکایت ھے تو اسے محکمانہ قواعدوضوابط کے تحت حل کرنا چائیے۔ ناکہ یوں میڈیا وسوشل میڈیا ٹرائل شروع کردینا چاہیے۔۔ جمعیت علما ئے پاکستان مسلک محبت کے ایک جید حافظ وقاری اور عالم دین اور پیرطریقت کی یوں سر عام توہین وتضیحیک اور میڈیا وسوشل میڈیا ٹرائل کی بھرپور مذمت کرتی ھے۔
امام رازی فرماتے ہیں ایک عالم دین سے بہت سے علمی ودینی امور میں مسائل اور ذاتی حوالے سے بھی اختلاف ہوسکتا ھے۔ مگر عالم دین کے علمی وقار کابہرصورت احترام لازم ھے۔ ہم محکمہ اوقاف اور جناب مفتی محمد رمضان سیالوی صاحب کو پرانا جانتے ہیں ۔ ضرورت پڑی تو اس پہ تفیصلی لکھیں اور بولیں گے بھی۔ ناچیز نے گذشتہ روز اس حوالے سے قائد اہلسنت، مرکزی صدر جمیعت علما ئے پاکستان جناب صاحبزادہ ڈاکٹرابوالخیرمحمد زبیر صاحب سے بھی میٹنگ کی ھے۔ ہم لاہور میں جلد جمیعت علما ئے پاکستان کے خصوصی نمائندہ اجلاس کا اہتمام اور وزیراعلی پنجاب سے بھی میٹنگ ارینج کی کوشش کریں گے۔
سیکرٹری اوقاف احسان بھٹہ اور انکے چیلے چامٹے حضرت مولانا مفتی محمد رمضان صاحب سیالوی کے خلاف اپنی انتقامی کاروائیاں بلکہ وارتاتیں فورا بند کریں۔۔اور حاسدین بھی پوش کے ناخن لیں۔ اگر کسی کو حضرت مفتی صاحب سے کوئ شکایت نے تو ان سے مل کر دور کرلیں یا انکے خلاف حاسدین کے خلاف کوئ تھوس شواھد ہیں تو عدالت جائیں ۔ یوں سوشل میڈیا پہ ایک عالم ربانی کے خلاف بدتمیزی اور الزام تراشی کا سلسلہ بند کریں۔مسلک محبت سے متعلقہ اپنے بھولے سنی بادشاہوں سے گزارش ھے کہ ہر سنی سنائی گل تے ہن دھرنے سے پہلے دیکھ لیا کریں کہ ۔پیچھے کون ھے؟ یہ صرف حضرت مولانا مفتی رمضان سیالوی کا ہی مسئلہ نہیں کہیں پیچھے کوئی مسلکی حوالے سے متعصب افیسر یا مولوی صاحبان تو مزموم وارداتیں نہیں ڈال رھے۔ جب سے یہ سکریٹری اوقاف أیا ھے یہ صرف مفتی رمضان سیالوی صاحب کے پی خلاف نہیں بلکہ دیگر بہت سے علما ئے اہلسنت اور حضرت سیدنا داتا صاحب علیہ الرحمہ والرضوان کے مزار وأستانہ عالیہ اور جامع مسجد کے حوالے سے بھی بڑی سائنٹفک طریقے سے لوگوں کے دلوں میں نفرت اور بیزاری کا ماحول پیدا کیا جارہا ھے۔
أخری سوال کیا محکمہ اوقاف کے باقی تمام افسران اور ملازمین فرشتے اور دودھ کے دھلے ہیں ؟ کیا دیگر مسالک کے علما محکمہ اوقاف میں ملازمت نہیں کرتے۔ کیا وہ سارے رومی ور واشی ہیں؟ ایک صرف مفتی رمضان سیالوی صاحب ہی ہیں جو محکمے کو کھا گئے ہیں۔۔۔؟ اصل گل وچ ہور اے۔۔ ان شاءاللہ وہ گل جلد منظر پہ آجائے گی ان شاءاللہ۔۔
مزید پڑھیں

پوپ لیو میں پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میںاضافہ


