لفظوں کو بھی تقویٰ چاہیے، تحریر: ام عبد القہار
نقطہ نظر
کسی کے موبائل پر ایک پیغام آیا، اس نے پڑھا، یقین کیا اور آگے بڑھا دیا۔ چند لمحوں میں ایک نام سوال بن گیا، ایک کردار مشکوک ٹھہرا اور ایک گھر کی عزت لوگوں کی گفتگو کا موضوع بن گئی۔ پھر معلوم ہوا کہ خبر غلط تھی۔ پیغام حذف کردیا گیا، مگر جن دلوں پر تہمت کے نقش ثبت ہوئے تھے، انہیں کون مٹاتا؟ بعض اوقات ہماری انگلی کی معمولی حرکت کسی دوسرے کی زندگی میں غیر معمولی تکلیف پیدا کردیتی ہے۔
ہم ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں بات پہنچانے کے ذرائع بڑھ گئے ہیں، مگر بات کی ذمہ داری کا احساس کمزور پڑتا دکھائی دیتا ہے۔ ہر شخص کے پاس اظہار کا وسیلہ ہے، لیکن ہر اظہار کے پیچھے تحقیق، انصاف اور خیرخواہی موجود نہیں۔ ہم بولنے کی آزادی چاہتے ہیں؛ اس آزادی کے ساتھ آنے والی جواب دہی پر کتنی نگاہ رکھتے ہیں؟
سورۃ الحجرات کی ابتدائی آیات انسان کو اسی جواب دہی کا شعور دیتی ہیں۔ ان میں اطاعت کا سلیقہ بھی ہے، گفتگو کا ادب بھی، دوسروں کے آرام کا احترام بھی اور خبر کی تحقیق کا حکم بھی۔ گویا ایک صالح معاشرے کی تعمیر انسان کی زبان، نیت اور طرزِ عمل کی اصلاح سے شروع ہوتی ہے۔
پہلی آیت میں فرمایا گیا: ﴿لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے آگے نہ بڑھو۔ اس ہدایت کے سامنے انسان کی پسند، خاندانی روایت اور ذاتی رائے اپنی اصل حیثیت میں آجاتی ہے۔ بندگی یہ تقاضا کرتی ہے کہ حکمِ الٰہی معلوم ہوجانے کے بعد اسے قبول کرنے کے لیے دل بھی آمادہ ہو۔
ہم میں سے کتنے لوگ دین کو سیکھنے کے لیے سنتے ہیں، اور کتنے اپنی پہلے سے قائم رائے کی تائید ڈھونڈتے ہیں؟ کبھی رواج اتنا عزیز ہوجاتا ہے کہ شرعی رہنمائی اجنبی محسوس ہوتی ہے۔ کبھی اپنی بات واپس لینا نفس پر اتنا بھاری پڑتا ہے کہ دلیل سامنے ہونے کے باوجود بحث جاری رہتی ہے۔ علم کا فیض اس دل میں اترتا ہے جو اپنی اصلاح کی گنجائش باقی رکھتا ہو۔
دوسری آیت نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں آواز اور اندازِ گفتگو کا ادب سکھاتی ہے۔ آپ ﷺ کی آواز سے آواز بلند کرنے کی ممانعت ہمیں مقامِ رسالت کی عظمت سمجھاتی ہے۔ محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا ہے کہ آپ کی تعلیمات کو سنجیدگی سے سنا جائے، سمجھا جائے اور زندگی کے فیصلوں میں ان کی پیروی کی جائے۔
اپنے روزمرہ تعلقات میں بھی ہمیں گفتگو کے اخلاق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ کتنی ہی مرتبہ بات درست ہوتی ہے، مگر اسے کہنے کا انداز دل دکھا دیتا ہے۔ کسی غلطی کی نشان دہی تنہائی میں بھی ہوسکتی تھی، لیکن ہم نے سب کے سامنے کردی۔ سمجھانے کے لیے نرم الفاظ میسر تھے، مگر ہم نے تحقیر کا راستہ اختیار کیا۔ اصلاح کی خواہش میں مخاطب کی عزت محفوظ رکھنا بھی ضروری ہے۔
گھر ہو یا تعلیمی ادارہ، اختیار رکھنے والے کو اپنے لہجے کا زیادہ احتساب کرنا چاہیے۔ بچے، طالبات اور ماتحت اپنی کمزور حیثیت کے باعث ہر تکلیف کا جواب نہیں دے سکتے۔ ان کی خاموشی کو رضامندی سمجھ لینا آسان ہے۔ اپنی بات منوانے کے بعد یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ سامنے والا سمجھ کر مطمئن ہوا ہے یا خوف کے باعث چپ ہوگیا ہے۔
تیسری آیت میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے آوازیں پست رکھنے والوں کے دلوں کی تقویٰ کے لیے آزمائش اور پاکیزگی کا ذکر ہے۔ یہ تعلق غور طلب ہے: آواز کا ادب دل کی کیفیت سے جڑا ہوا ہے۔ انسان کے باطن میں احترام ہو تو اس کے اظہار میں بھی وقار پیدا ہوتا ہے۔ اپنے لہجے کی نگرانی کرتے ہوئے ہمیں اپنی نیت کو بھی دیکھنا چاہیے۔
پھر حجروں کے باہر سے پکارنے والوں کا ذکر آتا ہے، اور انتظار کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہاں دوسروں کے وقت اور نجی زندگی کے احترام کا سبق بھی ملتا ہے۔ کسی سے تعلق، اس کی ہر گھڑی پر ہمارا حق قائم نہیں کردیتا۔ اسے آرام، عبادت، گھر اور اپنی ضروریات کے لیے وقت درکار ہوسکتا ہے۔
آج یہی ادب ہمارے فون اور پیغامات میں بھی مطلوب ہے۔ جواب میں تاخیر ہو تو فوراً بے رخی کا فیصلہ نہ کریں۔ بار بار کال کرنے سے پہلے ضرورت کی نوعیت دیکھیں۔ ہر شخص اپنی مصروفیت کی تفصیل بتانے کا پابند نہیں۔ محبت اور تعلق میں اتنی وسعت ہونی چاہیے کہ دوسرے کو سانس لینے کی جگہ مل سکے۔
چھٹی آیت خبر کے معاملے میں ٹھہرنے کا حکم دیتی ہے: ﴿فَتَبَيَّنُوا﴾، تحقیق کرلو۔ ساتھ ہی نتیجہ بتایا کہ کہیں نادانی میں کسی قوم کو نقصان نہ پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔ قرآن ہمیں فیصلے سے پہلے روکتا ہے، کیونکہ فیصلے کے بعد بعض نقصان واپس نہیں لیے جاسکتے۔
کسی طالبہ کی شکایت ہو، کسی معلمہ کے متعلق بات ہو یا خاندان کا تنازع، متعلقہ شخص کو سنے بغیر فیصلہ انصاف کو مجروح کرسکتا ہے۔ بھیجا گیا اسکرین شاٹ نامکمل ہوسکتا ہے، نقل کیا گیا جملہ اپنے سیاق سے الگ ہوسکتا ہے، اور شکایت کرنے والا صورتِ حال کو غلط سمجھا ہوسکتا ہے۔ تحقیق میں سب کی عزت محفوظ رہنی چاہیے۔
ہمیں اپنے لفظوں کے ساتھ یہ سوال باندھ لینا چاہیے: کیا یہ بات درست ہے؟ کیا مجھے اسے کہنے کا حق ہے؟ کیا میرا انداز مناسب ہے؟ کیا میں اس کے نتیجے کی ذمہ داری قبول کرسکتی ہوں؟ سورۃ الحجرات کی یہ ہدایات ہمارے گھروں اور اداروں میں اتر جائیں تو کتنے فیصلے منصفانہ اور کتنے تعلقات محفوظ ہوسکتے ہیں۔ ہمارے لفظ کسی کے لیے امان بھی بن سکتے ہیں۔ انہیں ادا کرنے سے پہلے اپنے دل میں تقویٰ کی نگہبانی ضروری ہے۔
مزید پڑھیں





