لائبہ کے خواب، انصاف کا سوال،تحریر: شمسہ رانی
نقطہ نظر
کچھ سانحات صرف ایک گھر کا چراغ نہیں بجھاتے، بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو کٹہرے میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ کچھ خبریں محض اخبارات کی سرخی نہیں ہوتیں، بلکہ ان کے پیچھے ایک ماں کی دعائیں، ایک باپ کی برسوں کی محنت، ایک خاندان کی قربانیاں اور مستقبل کے وہ خواب دفن ہوتے ہیں جنہیں حقیقت بنانے کے لیے عمر بھر کی کمائی داؤ پر لگا دی جاتی ہے۔ اسلام آباد کی طالبہ لائبہ کا واقعہ بھی ایسے ہی کئی سوالات چھوڑ گیا ہے، جن کے جواب محض تعزیتی بیانات سے نہیں، بلکہ شفاف تحقیقات اور مؤثر انصاف سے ملنے چاہییں۔
لائبہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی طالبہ تھی۔ اس نے تعلیم کے میدان میں گولڈ میڈل حاصل کیا اور امریکہ جا کر مزید تعلیم حاصل کرنے کا خواب دیکھا۔ یہ خواب صرف اس کی آنکھوں میں نہیں سجا تھا، بلکہ اس کے والدین کی امیدوں میں بھی سانس لیتا تھا۔ ایک ایسا باپ جو دودھ فروخت کرکے اپنے گھر کا چولہا جلاتا تھا، کرائے کے فلیٹ میں رہتا تھا اور بیٹی کے روشن مستقبل کے لیے اپنا پلاٹ تک فروخت کر چکا تھا۔ دوسری طرف ایک ماں تھی جس نے اپنی بیٹی کی تعلیم کی خاطر اپنے زیورات بینک میں رکھوا دیے۔ شاید اس ماں کے لیے وہ زیورات محض سونے کے ٹکڑے نہیں، بلکہ بیٹی کے مستقبل کی قیمت تھے۔ اسے کیا معلوم تھا کہ جن ہاتھوں میں وہ اپنی امیدیں سونپ رہی ہے، وہاں اس کے خوابوں کی حفاظت کی کوئی ضمانت نہیں!
اطلاعات کے مطابق لائبہ نے امریکہ جانے کے انتظامات کے سلسلے میں ایک ٹریول ایجنٹ کو پچاس لاکھ روپے ادا کیے، جبکہ پولیس کے مطابق اسے فراہم کی گئی سفری دستاویزات جعلی تھیں۔ بتایا گیا کہ وہ جمعے کے روز دوپہر تقریباً دو بجے اپنی والدہ کو بتا کر گھر سے نکلی کہ کچھ دیر میں واپس آ جائے گی، مگر پھر واپس نہ لوٹی۔ اہلِ خانہ نے تلاش شروع کی، موبائل فون کی لوکیشن معلوم کی اور اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین میں ایک درخت سے اس کی لاش ملنے کی اطلاع سامنے آئی۔
یہاں ایک بنیادی بات واضح رہنی چاہیے: لائبہ کی موت کے تمام حالات اور اس کی وجہ کا حتمی تعین تحقیقات سے ہی ہونا چاہیے۔ کسی فراڈ، ممکنہ دباؤ یا دوسرے واقعے کے ساتھ اس کی موت کا تعلق ثابت کرنے سے پہلے کسی نتیجے پر پہنچنا درست نہیں۔ پولیس اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ہر پہلو سے تفتیش کریں، شواہد محفوظ رکھیں اور حقائق عوام کے سامنے لائیں۔ اگر کسی نے دھوکا دیا، جعلی دستاویزات بنائیں یا کسی بھی طرح اسے نقصان پہنچانے میں کردار ادا کیا تو قانون کے مطابق اس کا احتساب ہونا چاہیے۔
مگر اس سانحے کا سب سے کرب ناک پہلو یہ ہے کہ ایک خاندان اپنی بیٹی سے محروم ہو گیا، جبکہ اس کے خوابوں کی تکمیل کے لیے کی گئی مالی قربانیاں بھی خطرے میں پڑ گئیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس باپ کے پاس اپنی بیٹی کے لیے انصاف مانگنے کی طاقت کہاں سے آئے گی جس نے اس کے مستقبل کے لیے اپنی جائیداد فروخت کر دی؟ وہ ماں کس دل سے اپنے زیورات کی یاد برداشت کرے گی جس نے انہیں بیٹی کی تعلیم کی خاطر گروی رکھا تھا؟ اور وہ گھرانہ کس طرح اپنے غم کے ساتھ مالی مشکلات کا بوجھ اٹھائے گا؟
یہاں معاملہ محض ایک ٹریول ایجنٹ یا جعلی ویزے تک محدود نہیں رہتا۔ ہمارے معاشرے میں آن لائن سرمایہ کاری کے نام پر فراڈ، جعلی ہاؤسنگ اسکیمیں، بیرونِ ملک ملازمتوں کے جھوٹے وعدے، جعلی اسکالرشپس، غیر قانونی بیٹنگ اور جوا ایپس، حج و عمرے کے نام پر دھوکا دہی اور مختلف کاروباری معاملات میں بددیانتی کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔ ہر شعبے میں تمام افراد کو مجرم قرار دینا درست نہیں، لیکن جہاں دھوکا دہی کے شواہد موجود ہوں وہاں محض رجسٹریشن، بڑے دفتر یا خوب صورت تشہیر کو دیانت داری کا سرٹیفکیٹ بھی نہیں سمجھنا چاہیے۔
یہاں ایک اور اہم سوال بھی ہے: کیا کسی کمپنی کی رجسٹریشن اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ ہر معاملے میں قانون کے مطابق کام کر رہی ہے؟ ہرگز نہیں۔ رجسٹرڈ ادارے بھی قانون کی خلاف ورزی کریں تو ان کا احتساب ہونا چاہیے۔ اسی طرح کوریئر اور کیش آن ڈیلیوری کے نظام میں اگر کسی صارف، دکاندار یا کاروباری شخص کو جعلی ڈیلیوری رپورٹ، بلاجواز تاخیر یا رقم روکنے کی شکایت ہو تو اس کی آزادانہ جانچ ہونی چاہیے۔ کسی پارسل پر فرضی کوششِ ترسیل درج کرنا یا وصول شدہ رقم غیر ضروری طور پر روکنا معمولی انتظامی غلطی نہیں، اگر یہ دانستہ اور ثابت شدہ عمل ہو تو یہ اعتماد اور کاروباری دیانت دونوں کے خلاف ہے۔ البتہ کسی ادارے کے بارے میں فیصلہ شواہد اور باقاعدہ تحقیقات کی بنیاد پر ہی ہونا چاہیے۔
سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ فراڈ کرنے والے اکثر لوگوں کی مجبوریوں اور خوابوں کو اپنا ہتھیار بناتے ہیں۔ کوئی غریب خاندان اپنے بچے کو بیرونِ ملک تعلیم دلانا چاہتا ہے، کوئی نوجوان روزگار کے لیے دربدر ہے، کوئی شخص برسوں کی جمع پونجی سے گھر خریدنے کا خواہش مند ہے، اور کوئی والدین اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کے لیے قرض تک لے لیتے ہیں۔ ایسے میں جب کوئی شخص اعتماد کے نام پر ان کی جمع پونجی لے کر غائب ہو جاتا ہے تو وہ صرف پیسے نہیں چھینتا، بلکہ ان کے برسوں کے اعتماد کو بھی زخمی کر دیتا ہے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ آخر دھوکا دینے والے کو ہمارے معاشرے میں اتنی گنجائش کیوں مل جاتی ہے؟ کیا محض چند اشتہارات، سوشل میڈیا کی مقبولیت، مذہبی الفاظ یا بیرونِ ملک ملازمت کے دعووں سے کسی کو معتبر سمجھ لیا جائے؟ کیا خوفِ خدا صرف تقریروں اور تحریروں میں باقی رہ گیا ہے؟ اسلام میں امانت، دیانت اور حقوق العباد کی اہمیت واضح ہے۔ کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا، جھوٹے وعدے کرکے اس کی رقم ہتھیانا اور پھر اسے انصاف کے لیے دربدر چھوڑ دینا صرف مالی بددیانتی نہیں، اخلاقی زوال کی بھی علامت ہے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ بیرونِ ملک تعلیم، ویزوں اور ملازمتوں کے نام پر کام کرنے والے ایجنٹس کی جانچ کا مؤثر نظام بنائیں۔ جعلی دستاویزات تیار کرنے والوں اور دھوکا دہی میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی ہو۔ شکایت کنندگان کو کم خرچ قانونی مدد فراہم کی جائے، تاکہ انصاف صرف ان لوگوں کا حق نہ بن جائے جو مہنگے وکیلوں کی فیس ادا کر سکتے ہیں۔ آن لائن کاروبار، کوریئر سروسز اور مالی لین دین کے نظام میں بھی شفاف شکایتی طریقۂ کار اور بروقت رقم کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔
لائبہ واپس نہیں آئے گی۔ اس کے والدین کی زندگی کے گزرے ہوئے سال بھی واپس نہیں لوٹیں گے۔ مگر کیا اس سانحے کے بعد بھی ہم خاموش رہیں؟ کیا ایک اور خاندان کے اجڑنے کا انتظار کریں؟ کیا ہر بار کسی کی موت یا تباہی کے بعد چند روزہ افسوس کے ساتھ اپنی ذمہ داری ختم سمجھ لیں؟
لائبہ کی موت کے حقائق سامنے لانا، اس کے والدین کو انصاف دلانا اور اگر مالی فراڈ ثابت ہو تو ان کی رقم کی واپسی کے لیے قانونی کوشش کرنا ریاست اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اس واقعے کو محض ایک افسوس ناک خبر سمجھ کر بھلا دینا ان تمام خاندانوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی جو اپنے بچوں کے خوابوں کی خاطر اپنی حیثیت سے بڑھ کر قربانیاں دیتے ہیں۔
یاد رکھیے، کسی غریب باپ کا فروخت کیا ہوا پلاٹ صرف زمین کا ٹکڑا نہیں ہوتا، کسی ماں کے گروی رکھے ہوئے زیورات محض سونا نہیں ہوتے، اور کسی طالبہ کا بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کا خواب صرف ذاتی خواہش نہیں ہوتا۔ ان سب کے پیچھے امید، محنت اور ایک بہتر زندگی کی آرزو ہوتی ہے۔
جب دھوکا دینے والے کے لیے قانون کمزور اور انصاف مانگنے والے کے لیے راستے دشوار ہو جائیں تو نقصان صرف ایک خاندان کا نہیں ہوتا، پورے معاشرے کے اعتماد کا ہوتا ہے۔ لائبہ کے لیے انصاف محض ایک فرد کا مقدمہ نہیں، بلکہ اس سوال کا جواب ہے کہ کیا اس ملک میں خواب دیکھنے والے محفوظ ہیں؟
مزید پڑھیں





