جمعہ، 16 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

دستِ نگار کا خیر مقدم،تحریر:ایم زیڈ کنول

نقطہ نظر

خیبر پختونخوا کا محکمہ صحت برسوں سے ایک ایسے خیمہ ہسپتال کی مانند ہے جو پہاڑوں کے بیچ لگا تو ہے، مگر اس کے اپنے ہی ستون ہل رہے ہیں۔ کبھی دہشت گردی کی گولیوں سے چھلنی بدن، کبھی سیلاب کی بے رحم موجوں میں بہتے بنیادی مراکزِ صحت، اور کبھی وسائل کی کمی کا دائمی بخار۔ ایسے میں جب خبر آئی کہ وفاق کی جانب سے گورنر کے زیرِ نگرانی بننے والی 11 رکنی مشاورتی کونسل میں محکمہ صحت کی ذمہ داری لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نگار جوہر خان کے سپرد کی گئی ہے تو اسے بہت خوش آئند خیال کیا گیا۔ کیونکہ پاکستان کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل ، فوج کی سابق سرجن جنرل، ہلالِ امتیاز اور تمغہ امتیاز کی حامل طبیب نگار جوہر محض ایک نام نہیں، ایک داستان ہے۔ پنج پیر صوابی کی وہ بچی جس نے باپ اور شوہر دونوں کا جنازہ جوانی میں اٹھایا، مگر ہمت کا جنازہ نہیں اٹھنے دیا۔ وہ پہلی خاتون جو تھری سٹار تک پہنچی، وہ سرجن جنرل جس کے ہاتھوں میں سیاچن کی برف میں زخمی سپاہی کی جان بھی محفوظ رہی اور راولپنڈی کے آپریشن تھیٹر میں جنرل کی بیٹی کی بھی۔ آج اس ہاتھ میں خیبر کی نبض دے دی گئی ہے۔

جو زخم کو سینا جانتا ہے۔

جنہوں نے جنگ کے محاذ پر لہو بہتے دیکھا بھی ہے اور آپریشن تھیٹر کی ٹھنڈی روشنی میں زندگی کو لوٹتے بھی دیکھا ہے۔ ان کا تجربہ ہسپتالوں کے انتظام، طبی سہولیات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کا ہے۔ گویا ایک سرجن کو اب ایک پورے صوبے کے جسم کی سرجری سونپی گئی ہے۔

خیبر پختونخوا کا محکمہ صحت کا نظام گولی، بارود اور سیلاب کا مارا ہوا نظام ہے۔ یہاں بی ایچ یو کی دیواروں پر آج بھی گولیوں کے نشان ہیں۔ ایک عام بیوروکریٹ کے لیے یہ صرف ایک ADP سکیم ہے، ایک فوجی سرجن کے لیے یہ ایک فیلڈ ہسپتال ہے۔ اسے معلوم ہے کہ جب خون بہہ رہا ہو تو میٹنگ نہیں، مرہم چاہیے۔ اس کا ڈسپلن وہی ہے جو جنگ میں کام آتا ہے - فیصلہ، فوری فیصلہ۔

نگار جوہر نسخہ نہیں، نظام دینا جانتی ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے صحت کو عمارت سمجھ لیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نئی بلڈنگ بنا دی تو شفا آ جائے گی۔ نگار جوہر نے زندگی بھر عمارتیں نہیں، نظام بنائے ہیں۔ سی ایم ایچ جیسا ادارہ اینٹوں سے نہیں، ایس او پیز سے چلتا ہے۔ خیبر کو آج سب سے زیادہ انہی ایس او پیز کی ضرورت ہے کہ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کیسے موجود رہے، اور مفت دوا کیسے مفت رہے؟

یہ تقرری اس صوبے کے لیے سب سے بڑا مرہم ہے جہاں آج بھی زچگی کے دوران شرح اموات سب سے زیادہ ہے، جہاں لیڈی ڈاکٹر کی کمی کو غیرت کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔ جب صوابی کی ایک بیٹی، تین ستارے کندھے پر سجائے، کسی ضم شدہ ضلع کی ڈسپنسری میں جائے گی تو وہ صرف معائنہ نہیں کرے گی، وہ ہزاروں بچیوں کو یہ پیغام دے گی کہ سفید کوٹ بھی وردی جتنا ہی باوقار ہے۔

نگار جوہر اسی مٹی کی بیٹی ہے۔ اس نے بچپن میں شاید اسی ٹوٹی ہوئی ڈسپنسری کو دیکھا ہوگا جسے آج وہ ٹھیک کرنے جا رہی ہے۔ اس کے ہاتھ میں وہ لوہے جیسا نظم ہے جو فوجی سرجن کے پاس ہوتا ہے اور وہ ممتا جیسی نرمی بھی جو ایک خاتون ڈاکٹر کے لہجے میں چھپی ہوتی ہے۔ وہ آئی سی یو میں فیصلہ کرنا جانتی ہے، جہاں تاخیر موت بن جاتی ہے۔ خیبر پختونخوا کے صحت کے نظام کو آج اسی فیصلہ کن قیادت کی ضرورت ہے، نہ کہ فائلوں میں دبی سمریوں کی۔

یہ تقرری ایک ایسے آئینی و سیاسی موسم میں ہوئی ہے جہاں وفاق اور صوبے کے درمیان بادل گہرے ہیں۔ گورنر ہاؤس کی یہ مشاورتی کونسل بظاہر انتظامی سہارا ہے، مگر اسے بہت سے حلقے وفاق کی بالادستی کی علامت بھی سمجھتے ہیں۔ ایسے میں صحت جیسا خالصتاً عوامی اور صوبائی موضوع، کیا فوجی نظم سے چلے گا یا عوامی نبض سے؟ ایک جنرل کا حکم تو پلک جھپکتے میں مانا جاتا ہے، مگر ایک لیڈی ہیلتھ ورکر کی شکایت، ایک دور افتادہ گاؤں کے ڈاکٹر کا تبادلہ، ایک ٹھیکیدار کی کرپشن - یہ محاذ توپوں سے نہیں، تحمل سے جیتے جاتے ہیں۔

میرے نزدیک، اس تقرری کو نہ تو فرشتہ بنانا چاہیے نہ سیاسی چال۔ اسے ایک تجربے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

خیبر کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں شفا ہمیشہ شمشیر کے ساتھ چلی ہے۔ حکیم اجمل خان سے لے کر باچا خان کے رضاکاروں تک، یہاں مرہم وہی رکھ سکا ہے جو زخم کو پہچانتا ہو۔ نگار جوہر نے زخم دیکھے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ اس نظام کے زخموں کو بھی ویسے ہی سی سکتی ہیں جیسے وہ سرحد پر زخمی جوان کو سیتی تھیں؟

اگر وہ پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کو سی ایم ایچ جیسا فعال، ضم شدہ اضلاع کے کلینکس کو فیلڈ ہسپتال جتنا متحرک، اور ایک عام مریضہ کو وہی عزت دے سکیں جو ایک جنرل کی بیٹی کو ملتی ہے، تو یہ وردی سے برقعے تک، اور برقعے سے سفید کوٹ تک کا سفر ہوگا۔

خیبر کو آج دوا سے زیادہ اعتبار کی ضرورت ہے۔ اور اعتبار کسی نوٹیفکیشن سے نہیں، دستِ شفا سے آتا ہے۔

یہ کالم خوشامد کے لیے نہیں، سوال کے لیے ہے۔

جنرل صاحبہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ فوجی ہسپتال اور سول ہسپتال میں فرق ہے۔ وہاں حکم چلتا ہے، یہاں منت کرنی پڑتی ہے۔ وہاں وسائل کی کمی نہیں ہوتی، یہاں بجٹ ہی سب سے بڑا زخم ہے۔ وفاق کی بنائی ہوئی یہ 11 رکنی کونسل اگر عوام کو یہ لگے کہ یہ پشاور پر اسلام آباد کی چھاؤنی ہے، تو بہترین نیت بھی مزاحمت میں بدل جائے گی۔ نگار جوہر کو خود کو اس تاثر سے آزاد کرانا ہوگا۔ اسے گورنر ہاؤس کی نہیں، گاؤں کی مشیر بننا ہوگا۔

خیبر کو آج کسی مسیحا کی نہیں، کسی منتظم کی ضرورت ہے۔ کسی ایسی منتظم کی جو آپریشن تھیٹر کی طرح محکمہ صحت کو بھی جراثیم سے پاک کر دے۔ کرپشن کے جراثیم سے، سفارش کے جراثیم سے، اور سب سے بڑھ کر بے حسی کے جراثیم سے۔

اگر نگار جوہر خان لیڈی ریڈنگ کے ایک وارڈ کو بھی سی ایم ایچ جیسا بنا دیں، اگر وہ ایک بی ایچ یو میں بھی ڈاکٹر کی حاضری کو یقینی بنا دیں، تو یہ تقرری کامیاب ہے۔ کیونکہ شفا بڑے اعلانوں سے نہیں، چھوٹی نبضوں کو درست کرنے سے آتی ہے۔

خیبر نے بہت جرنیل دیکھے ہیں جو بندوق تھامے آئے۔ پہلی بار ایک جرنیل آیا ہے جو سٹیتھوسکوپ تھامے آئی ہے۔ فرق صرف ہتھیار کا نہیں، نیت کا ہے۔