پیر، 26 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ماں کی گود سے خوف کی دہلیز تک،تحریر:شمسہ رانی

نقطہ نظر
shamsa rani

کچھ واقعات محض خبریں نہیں ہوتے، وہ ہمارے اجتماعی شعور کے ماتھے پر ایسے سوال ثبت کر جاتے ہیں جن سے نظریں چرانا آسان نہیں ہوتا۔ کچھ چیخیں فضا میں تحلیل نہیں ہوتیں، بلکہ دلوں کے اندر اتر کر انسانیت کے دعووں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتی ہیں۔ صادق آباد کے چار سالہ سبحان کے ساتھ پیش آنے والا مبینہ تشدد بھی ایک ایسا ہی دل خراش واقعہ ہے، جس نے محبت، رشتوں اور انسانی احساسات کے بارے میں بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔

سبحان کی عمر ابھی اتنی نہیں کہ وہ دنیا کے رویّوں کو سمجھ سکے۔ وہ تو اس عمر میں ہے جہاں ایک کھلونا مل جانے پر چہرہ خوشی سے روشن ہو جاتا ہے، جہاں معمولی سی چوٹ پر بچہ ماں کی طرف دوڑتا ہے اور جہاں خوف کی ہر کیفیت کا علاج اسے ماں کے سینے سے لگ کر ملتا ہے۔ مگر جب اسی عمر کے بچے کے لیے گھر کی فضا خوف ناک ہو جائے، جب تحفظ کی علامت سمجھے جانے والے ہاتھ ہی اذیت کا سبب بن جائیں، تو یہ صرف ایک بچے کی تکلیف نہیں رہتی، پورے معاشرے کے اخلاقی وجود پر ایک گہرا سوال بن جاتی ہے۔

آخر ہم نے اپنے گھروں کو محبت کی پناہ گاہ بنانے کے بجائے بعض اوقات خوف کے مراکز کیوں بننے دیا ہے؟

ماں کا رشتہ انسانی زندگی کے لطیف ترین رشتوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس رشتے کے ساتھ بے شمار دعائیں، قربانیاں، امیدیں اور جذبات وابستہ ہیں۔ ماں کی ممتا کو لفظوں میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں، کیونکہ اس کی وسعت کو محسوس تو کیا جا سکتا ہے، مگر کسی ایک تعریف میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ محض ماں کہلانا کسی انسان کو ہر عمل سے بالاتر نہیں کر دیتا۔ ہر رشتے کی عظمت اسی وقت برقرار رہتی ہے جب اس کے ساتھ وابستہ ذمہ داریوں کو بھی پورا کیا جائے۔

بچے کی پرورش صرف اسے کھانا کھلانے، کپڑے پہنانے اور چھت فراہم کرنے کا نام نہیں۔ اس کی شخصیت کو خوف سے محفوظ رکھنا، اس کے جذبات کا احترام کرنا، اس کی کمزوری کو سمجھنا اور اسے محبت کے ذریعے زندگی کا شعور دینا بھی تربیت کا بنیادی حصہ ہے۔ ایک بچہ اپنے جذبات بیان کرنے کے لیے ہمیشہ مناسب الفاظ نہیں رکھتا۔ کبھی اس کا رونا اس کی بے بسی کی زبان ہوتا ہے، کبھی اس کی خاموشی کسی خوف کی علامت اور کبھی اس کی ضد اس کی کسی ایسی ضرورت کا اظہار ہوتی ہے جسے وہ خود بھی سمجھ نہیں پاتا۔ ایسے میں بڑوں کی ذمہ داری اسے سزا دینا نہیں، بلکہ اس کے احساسات کو سمجھنا ہے۔

افسوس کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی بچوں کو بعض اوقات مکمل انسان کے بجائے بڑوں کی ملکیت سمجھا جاتا ہے۔ ان کی رائے، ان کے احساسات اور ان کے بنیادی حقوق کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ بچہ ہماری زندگی کا حصہ ضرور ہے، مگر وہ اپنی الگ شخصیت، اپنی معصوم خواہشات اور اپنے بنیادی انسانی حقوق کے ساتھ اس دنیا میں آیا ہے۔ اس کی پرورش پر ہمارا اختیار ہمیں اس کی تذلیل یا اس پر تشدد کا حق نہیں دیتا۔

بچے کی خاموشی اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ تکلیف میں نہیں، بلکہ بعض اوقات یہ اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ اسے اپنی تکلیف بیان کرنے کا محفوظ راستہ نہیں ملا۔

سبحان کے واقعے نے ایک مرتبہ پھر اس تلخ حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ گھریلو تشدد کو ہمیشہ گھر کی چار دیواری تک محدود مسئلہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک بند دروازے کے پیچھے ہونے والی زیادتی بھی اتنی ہی سنگین ہوتی ہے جتنی سب کے سامنے ہونے والی زیادتی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بند دروازوں کے پیچھے مظلوم کی آواز اکثر دیر سے باہر پہنچتی ہے۔

ہماری اجتماعی بے حسی بھی کسی حد تک ایسے المیوں کو بڑھنے کا موقع دیتی ہے۔ ہم اکثر کسی واقعے کی ویڈیو دیکھتے ہیں، چند لمحوں کے لیے افسوس کرتے ہیں، غصے کا اظہار کرتے ہیں اور پھر اگلی خبر کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جذبات کا طوفان اٹھتا ہے، مطالبات کیے جاتے ہیں، مذمت کے الفاظ لکھے جاتے ہیں، مگر چند دن بعد وہی معاشرہ معمول کی زندگی میں واپس لوٹ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری ذمہ داری صرف افسوس کرنے تک محدود ہے؟ کیا کسی معصوم کی اذیت ہمارے لیے محض ایک لمحاتی جذباتی تجربہ ہے؟

اگر ایسا ہے تو ہمیں اپنے رویّوں کا سنجیدہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

اطلاعات کے مطابق، سبحان کے واقعے پر پولیس نے کارروائی کی، بچے کو حفاظتی تحویل میں لیا اور مقدمے کے سلسلے میں پیش رفت ہوئی۔ تاہم ایسے معاملات میں ضروری ہے کہ تحقیقات شفاف ہوں، قانونی کارروائی ثبوتوں اور قانون کے مطابق آگے بڑھے اور کسی بھی ملزم کے بارے میں حتمی رائے عدالتی فیصلے کی روشنی میں قائم کی جائے۔ قانون کا تقاضا صرف جرم کی روک تھام نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی بھی ہے۔

لیکن انصاف کا دائرہ صرف سزا تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ سبحان جیسے بچوں کے لیے اصل انصاف یہ ہے کہ ان کی جسمانی صحت کے ساتھ ان کی ذہنی اور جذباتی بحالی کا بھی اہتمام کیا جائے۔ تشدد کے اثرات ہمیشہ جسم پر دکھائی نہیں دیتے۔ بعض زخم جلد بھر جاتے ہیں، مگر خوف، عدم تحفظ اور ٹوٹے ہوئے اعتماد کے اثرات طویل عرصے تک بچے کی شخصیت پر باقی رہ سکتے ہیں۔ اسے ایسی فضا درکار ہے جہاں محبت محض ایک لفظ نہ ہو، بلکہ روزمرہ زندگی کا تجربہ بن جائے؛ جہاں اسے کسی کے غصے سے بچنے کے لیے اپنے وجود کو سمیٹنا نہ پڑے؛ جہاں وہ دوبارہ اعتماد کرنا اور بے خوف مسکرانا سیکھ سکے۔

اس سلسلے میں ریاست، متعلقہ اداروں، تعلیمی مراکز، سماجی تنظیموں اور خاندانوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ والدین کی ذہنی تربیت، بچوں کے حقوق سے آگاہی، گھریلو تشدد کی بروقت نشاندہی اور متاثرہ بچوں کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کا مؤثر نظام وقت کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی بچہ تشدد کا شکار ہو تو اس کی مدد کرنا محض اخلاقی انتخاب نہیں، بلکہ ایک انسانی اور قانونی ذمہ داری بھی ہے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ معاشی پریشانیاں، ذہنی دباؤ، گھریلو تنازعات اور زندگی کی تلخیاں کسی انسان کے لیے مشکلات ضرور پیدا کر سکتی ہیں، مگر ان میں سے کوئی بھی چیز بچے پر تشدد کا جواز نہیں بن سکتی۔ مشکلات کا حل مدد، مکالمے، علاج اور ذمہ دارانہ رویّوں میں تلاش کیا جانا چاہیے، نہ کہ کسی کمزور وجود کو اپنی محرومیوں کی سزا دے کر۔

ایک مہذب معاشرے کی پہچان اس کی بلند عمارتیں، وسیع شاہراہیں یا ترقی کے دعوے نہیں ہوتے۔ اس کی اصل پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے سب سے کمزور فرد کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ اگر ایک معاشرہ اپنے بچوں کو خوف سے محفوظ نہیں رکھ سکتا تو اسے اپنی ترقی کے پیمانے دوبارہ متعین کرنے چاہییں۔ بچے قوم کا مستقبل ضرور ہیں، مگر وہ صرف مستقبل کی ضمانت نہیں؛ وہ آج کے زندہ انسان ہیں، جنہیں اسی لمحے محبت، عزت، تحفظ اور سکون کی ضرورت ہے۔

سبحان کے نام سے جڑا یہ درد ہمیں ایک بنیادی حقیقت یاد دلاتا ہے: بچوں کو دنیا میں لانا قدرت کا عمل ہے، مگر انہیں محفوظ، پُرامن اور محبت بھری زندگی دینا ہماری انسانی ذمہ داری ہے۔ کسی بچے کے لیے گھر وہ پہلی درس گاہ ہوتا ہے جہاں وہ اعتماد، تعلق اور محبت کا مفہوم سیکھتا ہے۔ اگر اسی گھر میں خوف اس کا پہلا استاد بن جائے تو پھر معاشرے کو سوچنا ہوگا کہ اس کی تربیت کی بنیاد کہاں کمزور پڑ گئی ہے۔

میں سوچتی ہوں کہ سبحان جیسے معصوم بچوں کے لیے سب سے بڑا تحفہ محض ہمدردی کے چند الفاظ نہیں، بلکہ ایسا ماحول ہے جہاں ان کے آنسوؤں کو اہمیت دی جائے، ان کی فریاد سنی جائے اور ان کے حقوق کی حفاظت کی جائے۔ ہمیں ایسا معاشرہ تعمیر کرنا ہے جہاں کسی بچے کو اپنے ہی گھر میں خوف کے ساتھ زندگی نہ گزارنی پڑے، جہاں رشتوں کی حرمت طاقت کے اظہار سے نہیں بلکہ محبت اور ذمہ داری سے قائم ہو۔

آئیے، اس واقعے کو چند روزہ بحث بننے کے بجائے ایک اجتماعی عہد میں تبدیل کریں۔ اپنے گھروں میں بچوں کے ساتھ نرمی اختیار کریں، ان کے احساسات کو سمجھیں، ان کی تکلیف کو معمولی نہ جانیں اور جہاں کسی بچے پر ظلم ہوتا دکھائی دے، وہاں خاموش تماشائی بننے کے بجائے محفوظ اور قانونی طریقے سے مدد کے لیے آگے بڑھیں۔

کیونکہ بچپن کوئی ایسی امانت نہیں جسے غصے کی نذر کر دیا جائے؛ یہ ایک نازک ذمہ داری ہے جس کی حفاظت ہم سب پر لازم ہے۔

اور آخر میں، میرے دل میں ایک ہی دعا ہے کہ سبحان کی زندگی سے خوف کے سائے دور ہوں، اسے شفقت کرنے والے ہاتھ، اعتماد دینے والے رشتے اور محبت سے بھرا مستقبل نصیب ہو۔ اس کی مسکراہٹ دوبارہ لوٹے اور اس کا بچپن کسی کے غصے، بے رحمی یا اختیار کی بھینٹ نہ چڑھے۔

یاد رکھیے، کسی بچے کو محفوظ رکھنا صرف اس کے والدین کا فرض نہیں، پوری انسانیت کا امتحان ہے۔ اس امتحان میں کامیابی اسی دن ممکن ہوگی جب ہم بچوں کے لیے محبت کے دعوے کرنے کے ساتھ ان کے تحفظ کے لیے عملی قدم بھی اٹھائیں گے۔