جمعہ، 30 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ماحولیاتی تحفظ کی آڑ میں کارخانے بند کرانا غلط ہے،وزیراعلیٰ پنجاب

مصنف:

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب کو ڈیجیٹل دور میں شامل کرانے کے لئے اختراعی اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ دنیا میں مضبوط صنعتیں جدید ٹیکنالوجی سے انقلابی شکل اختیار کررہی ہیں۔پنجاب کا ملکی معیشت میں اہم کردار ہے،قومی ڈی جی پی میں حصہ نمایاں ہے۔ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور جدید تعلیم سے اہم ہنگ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔صنعتوں کو ماحول دوست بنانے کیلئے نگرانی بھی بہت ضروری ہے،ماحولیاتی تحفظ کی آڑ میں کارخانے بند کرانا غلط ہے۔پیوٹ کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ چیکنگ ضروری کریں، پلانٹ بند کر نا حل نہیں، مزدور کی دیہاڑی نہیں لگتی۔ میرا دل نہیں چاہتا کہ کسی کا کاروبار بند کروں،لیکن معیار پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ پنجاب میں 1200 سے زائد اسٹارٹ اپ چل رہے ہیں۔ 50 مشترکہ سہولتوں کو یکجا کر دیا گیا ہے،انڈسٹریل کلسٹر بنارہے ہیں۔سرمایہ کاری کو لانے کیلئے سب سے پہلے ماحول کو محفوظ بنانا ہے۔ سکل ڈویلپمنٹ کے تمام شعبوں کو ایک ہی چھت تلے لے آ ئے ہیں۔ پنجاب کی 36 ملین کی ورک فورس ہے، ہر انڈسٹری سکلڈ لیبر کی ڈیمانڈ کرتی ہے۔ پنجاب کو چار لاکھ سکلڈ ورکرز دیئے ہیں، چھ لاکھ مزید بھی دیں گے۔ سکلڈ نا ہونے کی وجہ سے بیرون ملک جانے والوں کو اچھی جاب نہیں۔ پنجاب میں فارماسیوٹیکل انڈسٹری تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ پیوٹ کے ذریعے کاروباراور سرمایہ کاری کیلئے ساز گار ماحول فراہم کررہے ہیں۔آسان کاروبار سکیم میں تقریباً 200 ارب روپے کے لون جار ی کرچکے ہیں۔ای بزنس کے ذریعے دو لاکھ سے زیادہ لوگ این او سی اور دیگر اجازت نامے حاصل کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بے یقینی،بے امنی اور روز باروز جہاں احتجاج ہو وہاں کاروبار کیسے ہوگا۔وزراء سے کہتی ہوں کہ پروٹوکول اور سکیورٹی کم سے کم رکھیں۔ ڈالا کلچراور قبضہ مافیا کا پنجاب سے خاتمہ کر دیا، سالوں پرانے قبضہ ختم کررہے ہیں۔ راستے ریڑھیوں کیلئے نہیں ہوتے، گزرنے کیلئے ہوتے ہیں، ریڑھیوں کیلئے الگ جگہیں بنائی گئیں ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ کوئی بزنس کرنا چاہتا ہے، بالکل نہیں پوچھنا چاہتی ہوں، سرمایہ کہاں سے آیا۔ پنجاب میں نیا ٹیکس نہیں بلکہ ٹیکس نیٹ بڑھانے پر توجہ دی، پنجاب کا ریونیو 200 ارب سے ایک کھرب تک پہنچ رہا ہے۔ پیوٹ شروع کرنے سے پہلے ہر محکمہ سے سرخ فیتہ ختم کرنے کا عہد لیا۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں سے درخواست کرتی ہوں کہ بزنس فنانس فراہم کرنے کیلئے ضوابط کو آسان بنائیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں رشوت لینے والے ملازمین کو سرکاری محکموں سے فارغ کیا جارہا ہے۔ ہر پیسہ والے کوچور سمجھنا غلط ہے۔ فیفا اور بڑے ادارے سرٹیفکیشن نہ ہونے کی وجہ سے سپورٹس گڈز نہیں لے رہے۔کٹلری پنجاب میں بنتی ہے، گلیزنگ، میٹریل ٹیسٹنگ لیب کیلئے چائنہ بھیجنا پڑتا ہے۔ پنکھے یہاں بنتے ہیں،فین کی آواز ٹیسٹنگ کیلئے چائنہ جاتا ہے۔ سپیشل اکنامک زون اور انڈسٹریل سٹیٹ رئیل سٹیٹ کا بزنس بن کر رہ گیا۔ انڈسٹریل سٹیٹ اور اکنامک زون میں 80 ہزار سے 2 لاکھ ماہانہ لیز پرانڈسٹری کیلئے زمین دیں گے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ جہاں روزانہ احتجاج اور توڑ پھوڑ ہورہی ہوں، وہاں محنت کش کیسے کام کرے گا۔ پچھلے 20سال میں تین ہزاور ٹریکٹر دیئے گئے اس سال 45 ہزار ٹریکٹرکا ہدف پورا کریں گے۔ جب نوجوان سکلز اور ہنر سیکھ کر بیرون ملک جائیں گے تو عزت بھی زیادہ ملے اور اور پیسہ بھی۔پیداوار بڑھانے کیلئے جدید ترین ایگریکلچر مشینری پنجاب لارہے ہیں۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے سرمایہ کاروں کی مالی معاونت کررہے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ عوام میری فیملی ہیں، آپ کے خوراک کی ذمہ داری بھی میری ہے۔ کوئی بھی ملک خود کو بدلتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ کیے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ پنجاب میں لائیو سٹاک اور زراعت کیلئے بہت بڑا بجٹ مختص ہے۔ کسانوں کو سبسڈی پر ٹریکٹرز اور سپرسیڈرز فراہم کیے جارہے ہیں۔ کھانے کے کاروبار کرنے والے ناقض کھانا نہ دیں۔کسی کا بزنس کا بند کرنے کا شوق نہیں، لوگوں کو صاف ستھرا ماحول اور صحت بخش غذاکی فراہمی ہدف ہے