معرکۂ حق اور ہماری ذمہ داریاں،تحریر:ایس اے شازم
نقطہ نظر
دنیا کی تاریخ پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو ایک حقیقت ہمیشہ نمایاں دکھائی دیتی ہے کہ حق اور باطل کی جنگ کبھی ختم نہیں ہوئی۔ وقت بدلتا رہا، کردار بدلتے رہے، طریقے بدلتے رہے، مگر معرکۂ حق ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں جاری رہا۔ کبھی یہ جنگ میدانوں میں لڑی گئی، کبھی عدالتوں میں، کبھی قلم سے، اور کبھی ضمیر کے اندر۔ یہی وہ معرکہ ہے جو انسان کے کردار کا اصل امتحان بنتا ہے۔
قرآن مجید ہمیں بار بار یہ سبق دیتا ہے کہ سچائی کا راستہ مشکل ضرور ہوتا ہے مگر انجام کے اعتبار سے ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔ باطل وقتی طور پر طاقتور دکھائی دے سکتا ہے، اس کے پاس دولت، اختیار اور شور ہو سکتا ہے، مگر اس کی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔ حق خاموش ضرور ہوتا ہے مگر مضبوط ہوتا ہے، کیونکہ اس کی بنیاد انصاف، دیانت اور سچائی پر قائم ہوتی ہے۔
آج اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو محسوس ہوگا کہ معرکۂ حق صرف بڑی بڑی جنگوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ ایک ملازم جب رشوت لینے سے انکار کرتا ہے تو وہ معرکۂ حق لڑ رہا ہوتا ہے۔ ایک صحافی جب سچ لکھنے کی ہمت کرتا ہے تو وہ اس معرکے کا سپاہی ہوتا ہے۔ ایک استاد جب ایمانداری سے نئی نسل کی تربیت کرتا ہے تو وہ بھی حق کی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں حق کا ساتھ دینے والے کم اور تماشائی زیادہ ہو گئے ہیں۔ لوگ ظلم دیکھتے ہیں مگر خاموش رہتے ہیں۔ جھوٹ سنتے ہیں مگر مصلحت کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔ ناانصافی پر دل تو دکھتا ہے مگر زبان خاموش رہتی ہے۔ یہی خاموشی رفتہ رفتہ باطل کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ یاد رکھیے، ظلم صرف ظالم کے ہاتھوں نہیں بڑھتا بلکہ خاموش لوگوں کی بے حسی سے بھی پروان چڑھتا ہے۔
تاریخ میں جتنے بھی بڑے معرکے ہوئے، ان میں کامیابی ہمیشہ ان لوگوں کو ملی جنہوں نے حق کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا۔ واقعۂ کربلا اس کی عظیم مثال ہے۔ یہ صرف ایک جنگ نہیں تھی بلکہ حق، صبر اور اصولوں کی بقا کی جنگ تھی۔ وہاں تعداد کم تھی مگر حوصلے بلند تھے۔ طاقت کم تھی مگر سچائی موجود تھی۔ یہی وجہ ہے کہ صدیاں گزر جانے کے باوجود حق کا نام آج بھی زندہ ہے جبکہ ظلم اپنے انجام کو پہنچ چکا۔
معرکۂ حق ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ سچائی کا راستہ قربانی مانگتا ہے۔ جو لوگ آسانی، مفاد اور وقتی فائدے کی خاطر اصول چھوڑ دیتے ہیں، وہ وقتی طور پر کامیاب نظر آ سکتے ہیں مگر تاریخ میں عزت ہمیشہ اصولوں پر قائم رہنے والوں کو ملتی ہے۔ کردار کی اصل پہچان یہی ہے کہ انسان مشکل وقت میں کس طرف کھڑا ہوتا ہے۔
آج ہماری سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو حق اور باطل میں فرق کرنا سکھائیں۔ اگر بچوں کی تربیت صرف ڈگری، نوکری اور کامیابی تک محدود رہی اور انہیں سچائی، دیانت اور انصاف کا شعور نہ دیا گیا تو معاشرہ ظاہری ترقی کے باوجود اندر سے کھوکھلا ہو جائے گا۔ ایک مضبوط قوم وہی ہوتی ہے جس کے نوجوان حق کے لیے کھڑے ہونا جانتے ہوں۔
معرکۂ حق صرف تقریروں یا نعروں سے نہیں جیتا جا سکتا۔ اس کے لیے عمل درکار ہے۔ ہمیں اپنے گھروں، اداروں اور معاشرتی رویوں میں انصاف کو جگہ دینی ہوگی۔ اگر ہم چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی سچائی اختیار کر لیں تو یہی چھوٹے قدم مل کر بڑے انقلاب کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
آخر میں، یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ حق کا راستہ اگرچہ کٹھن ہے مگر یہی راستہ انسان کو عزت، سکون اور کامیابی دیتا ہے۔ باطل وقتی شور تو پیدا کر سکتا ہے مگر ہمیشہ باقی نہیں رہ سکتا۔ وقت آخرکار حق کے حق میں فیصلہ سناتا ہے۔
لہٰذا، ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اس معرکے میں خاموش تماشائی بنیں گے یا حق کے سپاہی۔ کیونکہ آنے والا وقت ہمارے اعمال کی گواہی ضرور دے گا۔
مزید پڑھیں




