ایک زمانہ تھا جب انسان کے پاس گھڑی نہیں ہوتی تھی مگر وقت بہت ہوتا تھا۔ آج ہر ہاتھ میں گھڑی ہر جیب میں موبائل اور ہر چہرے پر جلدی ہے۔ حیرت یہ ہے کہ ہم نے وقت بچانے کے لیے جتنی چیزیں ایجاد کیں اتنا ہی وقت ہمارے ہاتھوں سے نکلتا گیا۔ اب تو کسی سے خیریت دریافت کی جائے تو جواب ملتا ہے بہت مصروف ہوں۔ گویا مصروف ہونا زندگی کی سب سے بڑی کامیابی اور فرصت مل جانا کسی ناکامی کی علامت بن چکا ہے۔ کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ اگر مصروفیت کے بھی تمغے تقسیم ہونے لگیں تو ہمارے معاشرے کا شاید ہی کوئی فرد اس اعزاز سے محروم رہے۔
ہم ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکے ہیں جہاں انسان اپنی موجودگی ثابت کرنے کے لیے مسلسل کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی موبائل کی اسکرین روشن ہوتی ہے اور رات کو نیند آنے تک انگلیاں کسی نہ کسی خبر تصویر یا پیغام کے تعاقب میں رہتی ہیں۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کس نے کہاں کھانا کھایا کس نے کون سا لباس پہنا اور کس نے کس ملک کی سیر کی، لیکن اپنے گھر میں بیٹھے کسی خاموش شخص کی اداسی سے ہم بے خبر رہتے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ دنیا ہماری انگلیوں کی دسترس میں آ گئی ہے مگر اپنے ہی گھر کے لوگ ہماری توجہ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
آج انسان کی قدر بھی اس کی مصروفیات سے ناپی جانے لگی ہے۔ جو شخص ہر وقت بھاگتا نظر آئے اسے کامیاب سمجھا جاتا ہے اور جو چند لمحے بیٹھ کر سوچنے لگے اسے فارغ قرار دے دیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں فارغ ہونا تقریباً ایک سماجی الزام بن چکا ہے۔ کسی کو بتا دیجیے کہ آج آپ نے کچھ خاص نہیں کیا تو وہ اس انداز سے دیکھے گا جیسے آپ نے قومی ترقی کا راستہ روک دیا ہو۔ چنانچہ ہم نے اپنی زندگی میں ایسے بے شمار کام پیدا کر لیے ہیں جن کی ضرورت شاید ہمیں خود بھی معلوم نہیں۔ ہم مصروف رہنے کے لیے مصروف ہیں اور اس مصروفیت کو اپنی اہمیت کا ثبوت سمجھ بیٹھے ہیں۔
ترقی نے ہمیں سہولتیں ضرور دی ہیں مگر ان سہولتوں کے ساتھ ایک عجیب بے چینی بھی ہمارے حصے میں آئی ہے۔ پہلے خط لکھا جاتا تھا تو جواب آنے میں کئی دن لگتے تھے۔ اس انتظار میں ایک لطف ہوتا تھا۔ اب پیغام بھیجنے کے چند لمحے بعد جواب نہ آئے تو طرح طرح کے اندیشے جنم لینے لگتے ہیں۔ ہم نے رابطے کو اتنا تیز کر دیا ہے کہ انتظار کرنے کا حوصلہ کھو بیٹھے ہیں۔ پہلے فاصلے زیادہ تھے مگر تعلق میں ٹھہراؤ تھا۔ آج فاصلے سمٹ گئے ہیں مگر دلوں کے درمیان ایسی خاموشیاں پیدا ہو گئی ہیں جنہیں جدید ترین ٹیکنالوجی بھی ختم نہیں کر سکتی۔
ہماری معاشرتی زندگی بھی ایک عجیب مقابلے میں تبدیل ہو گئی ہے۔ خوشی منانے سے زیادہ ضروری اسے دکھانا ہو گیا ہے۔ کسی سے ملنے سے زیادہ اہم اس ملاقات کی تصویر بن گئی ہے۔ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم زندگی گزار نہیں رہے بلکہ اس کی روزانہ رپورٹ تیار کر رہے ہیں تاکہ دنیا کو یقین دلایا جا سکے کہ ہم بہت خوش ہیں۔ کسی تقریب میں جائیے تو کھانے سے پہلے تصویر، گفتگو سے پہلے ویڈیو اور رخصت ہونے سے پہلے سوشل میڈیا پر اظہارِ تشکر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ یوں تقریب میں موجود لوگوں سے زیادہ اہم وہ لوگ ہو جاتے ہیں جو وہاں موجود ہی نہیں ہوتے۔
اس سارے ہنگامے میں سب سے زیادہ نقصان گفتگو کا ہوا ہے۔ گھروں میں آوازیں موجود ہیں مگر باتیں کم ہو گئی ہیں۔ ایک ہی کمرے میں بیٹھے لوگ مختلف دنیاؤں میں مصروف ہیں۔ والدین بچوں کے مستقبل کے لیے دوڑ رہے ہیں اور بچے ان کے حال میں موجودگی کے منتظر ہیں۔ باپ سمجھتا ہے کہ وہ زیادہ کما کر اولاد کو خوشیاں دے رہا ہے۔ ماں گھر اور ذمہ داریوں کے درمیان اپنی خواہشات کو مسلسل مؤخر کرتی رہتی ہے۔ بچے سمجھتے ہیں کہ شاید بڑے ہونے کا مطلب ہی ایک دوسرے کے لیے وقت نہ ہونا ہے۔ پھر یہی بچے جوان ہو کر اسی طرزِ زندگی کو کامیابی کا نام دے دیتے ہیں۔ یوں مصروفیت ایک نسل سے دوسری نسل کو وراثت میں منتقل ہونے لگتی ہے۔
ہمارے بزرگوں کے پاس شاید آج جیسی سہولتیں نہیں تھیں مگر ان کے پاس بیٹھنے کا سلیقہ تھا۔ وہ کسی کی بات سنتے تو درمیان میں موبائل نہیں دیکھتے تھے۔ مہمان آتا تو اس کے سامنے وقت کی تنگی کا اشتہار نہیں لگایا جاتا تھا۔ شامیں صرف دن کے اختتام کا نام نہیں تھیں بلکہ ملاقاتوں، گفتگو اور باہمی تعلقات کا حصہ ہوتی تھیں۔ یقیناً ماضی بھی مسائل سے خالی نہیں تھا اور نہ ہر پرانی روایت مثالی تھی، لیکن اتنا ضرور ہے کہ زندگی کی رفتار نسبتاً سست ہونے کے باعث انسان کو اپنے اردگرد کے لوگوں پر توجہ دینے کے مواقع زیادہ میسر آتے تھے۔
اب صورتِ حال یہ ہے کہ کسی بیمار کی عیادت کے لیے جانا مشکل لگتا ہے مگر اس کی خیریت دریافت کرنے کے لیے ایک مختصر پیغام بھیج کر ہم اپنا فرض ادا سمجھ لیتے ہیں۔ کسی غم زدہ شخص کے پاس بیٹھنے کے بجائے چند رسمی جملے لکھ دیتے ہیں۔ رشتوں میں موجودگی کی جگہ اطلاع نے لے لی ہے۔ ہمیں یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ بعض دکھ الفاظ سے نہیں بلکہ کسی اپنے کے خاموشی سے پاس بیٹھنے سے ہلکے ہوتے ہیں۔ انسان کو ہمیشہ مشورے کی ضرورت نہیں ہوتی، کبھی اسے صرف ایک ایسا شخص چاہیے ہوتا ہے جو اس کی بات سن سکے۔
مصروفیت کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے جس پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ بعض اوقات انسان کام کی کثرت سے نہیں بلکہ اپنے اندر کے سوالوں سے بچنے کے لیے خود کو مصروف رکھتا ہے۔ تنہائی میں اسے اپنی ادھوری خواہشیں، ناکام فیصلے اور نظرانداز کیے ہوئے رشتے یاد آنے لگتے ہیں۔ اس لیے وہ خاموشی سے گھبراتا ہے اور کسی نئی سرگرمی میں پناہ تلاش کرتا ہے۔ شاید اسی لیے آج شور صرف بازاروں اور سڑکوں پر نہیں بلکہ ہمارے ذہنوں کے اندر بھی آباد ہو چکا ہے۔ ہم ہر لمحہ کچھ سننا، دیکھنا یا پڑھنا چاہتے ہیں تاکہ اپنے آپ سے ملاقات کی نوبت ہی نہ آئے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ مصروف رہنا غلط ہے۔ محنت، ذمہ داری اور ترقی انسانی زندگی کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔ ایک مزدور کی مصروفیت اس کے بچوں کی روٹی سے جڑی ہوتی ہے، ایک ماں کی مصروفیت پورے گھر کی ضرورتوں سے اور ایک طالب علم کی جدوجہد اس کے مستقبل سے۔ ان سب کو محض رفتار کم کرنے کا مشورہ دینا آسان ہے مگر ان کی مجبوریوں کو سمجھنا زیادہ ضروری ہے۔ اصل مسئلہ وہ غیر ضروری مصروفیت ہے جسے ہم نے اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیا ہے۔ وہ مصروفیت جو ہمیں اہم تو ظاہر کرتی ہے مگر اندر سے خالی چھوڑ دیتی ہے۔
ہم نے کامیابی کی تعریف بھی کچھ اس انداز سے مرتب کی ہے کہ اس میں سکون کے لیے جگہ کم رہ گئی ہے۔ اچھا گھر چاہیے، پھر اس سے بڑا گھر چاہیے۔ اچھی ملازمت چاہیے، پھر زیادہ تنخواہ اور بڑا عہدہ چاہیے۔ خواہشات کا یہ سلسلہ اپنی جگہ فطری ہے مگر جب ہر کامیابی اگلی خواہش کے سامنے چھوٹی پڑنے لگے تو انسان منزل پر پہنچ کر بھی مسافر رہتا ہے۔ وہ زندگی بھر آنے والے کل کے لیے انتظامات کرتا رہتا ہے اور آج اس کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ پھر ایک دن اسے احساس ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے لیے وہ اتنا مصروف رہا، ان کے ساتھ گزارنے کے لیے اس کے پاس یادیں ہی بہت کم ہیں۔
زندگی کی خوب صورتی ہمیشہ بڑی کامیابیوں میں نہیں ہوتی۔ کبھی کسی بزرگ کی بات تحمل سے سن لینا، کسی بچے کے بے ترتیب سوال کا جواب دینا، کسی دوست کے ساتھ بے مقصد بیٹھنا یا شام کے وقت چند لمحے اپنے آپ سے گفتگو کرنا بھی زندگی کا حصہ ہے۔ یہ وہ چھوٹی خوشیاں ہیں جنہیں حاصل کرنے کے لیے کسی بڑے عہدے، بھاری رقم یا غیر معمولی کامیابی کی ضرورت نہیں۔ صرف توجہ چاہیے، اور بدقسمتی سے آج توجہ ہی ہماری سب سے نایاب دولت بنتی جا رہی ہے۔
شاید ہمیں اپنی زندگی سے کام کم کرنے کے بجائے غیر ضروری شور کم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر پیغام کا فوری جواب دینا لازم نہیں، ہر تقریب میں موجود ہونا ضروری نہیں اور ہر کامیابی کو دنیا کے سامنے ثابت کرنا بھی زندگی کا تقاضا نہیں۔ کبھی اپنے لیے وقت نکالنا خود غرضی نہیں بلکہ اپنی ذات کے ساتھ انصاف ہوتا ہے۔ اسی طرح اپنوں کے لیے چند لمحے مخصوص کرنا کسی معمولی ذمہ داری کی ادائیگی نہیں بلکہ رشتوں کو زندہ رکھنے کا عمل ہے۔
مجھے اکثر خیال آتا ہے کہ اگر کبھی وقت خود انسان کے سامنے آ کر کھڑا ہو جائے اور پوچھے کہ تم نے مجھے کہاں خرچ کیا تو شاید ہمارے پاس مصروفیات کی ایک طویل فہرست ہوگی مگر زندگی کے چند یادگار لمحے گنوانا مشکل ہو جائے گا۔ ہم بتائیں گے کہ کتنی ملاقاتیں کیں، کتنے پیغامات بھیجے، کتنے منصوبے مکمل کیے اور کتنی منزلیں حاصل کیں۔ مگر جب سوال ہوگا کہ کتنے دلوں کو سکون دیا، کتنی محبتیں محسوس کیں اور کتنے لمحے حقیقتاً جیے تو ممکن ہے ہماری زبان خاموش ہو جائے۔
انسان نے دنیا کو تیز رفتار بنانے میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے، لیکن اب اسے یہ بھی سیکھنا ہوگا کہ اس رفتار میں اپنی انسانیت کیسے محفوظ رکھنی ہے۔ کیونکہ زندگی صرف سانسوں کے تسلسل کا نام نہیں، ان لمحوں کا نام بھی ہے جن میں انسان اپنے وجود اور اپنے رشتوں کو محسوس کرتا ہے۔
اصل المیہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس وقت کم ہے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی زندگی میں ہر چیز کے لیے وقت مقرر کر رکھا ہے، سوائے زندگی کے۔
مزید پڑھیں






