اتوار، 18 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

مولانا فضل الرحمان کو جلد احساس ہوگا ان کا فیصلہ ملک و قوم کے حق میں نہیں، رانا تنویر حسین


مریدکے: وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو جلد احساس ہوگا کہ ان کا فیصلہ ملک و قوم کے حق میں نہیں۔ اپنے آبائی حلقے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے درست کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی بہت پہلے نافذ کر دینی چاہیے تھی، اگر بروقت ایمرجنسی نافذ کر دی جاتی تو دہشتگردوں کی جانب سے اتنا نقصان نہ اٹھانا پڑتا۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 13 سال سے خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا، اگر 13 سال پہلے ہی صوبے میں ایمرجنسی نافذ کر دی جاتی تو آج حالات بہت بہتر ہوتے۔

وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی کی دو سالہ حکومت میں خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات کی تعداد 2700 سے بڑھ کر 9000 تک پہنچ گئی، جو انتہائی تشویشناک ہے، کہ گزشتہ دو سال کے دوران صوبے میں دہشتگردی کو جس طرح سپورٹ اور پروموٹ کیا گیا، وہ سب کے سامنے ہے۔

رانا تنویر حسین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے دہشتگردوں کو جیلوں سے چھڑا کر خیبرپختونخوا میں آباد کیا، جس کے نتائج آج سامنے آ رہے ہیں، صوبے میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں سے گورننس بہتر ہوئی، امن بحال ہوا اور عوام نے سکھ کا سانس لیا، کچھ لوگ اپنے ذاتی مفادات کے باعث خیبرپختونخوا میں امن قائم ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے۔

اُن کا کہنا تھا کہ جس طرح 2013 میں نواز شریف نے ملک سے دہشتگردی ختم کی تھی، اسی طرح اس مرتبہ بھی دہشتگردی کو جڑ سے ختم کریں گے۔ بانی پی ٹی آئی کے 2014 کے دھرنے کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ سول نافرمانی تھی، جس کے دوران پی ٹی وی اور سپریم کورٹ پر حملہ کیا گیا اور بجلی کے بل جلائے گئے۔

مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ وہ انتہائی قابل احترام ہیں، تاہم انہوں نے اپنی سوچ کے خلاف قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے اپنے گھر اور علاقے ڈیرہ غازی خان میں بھی دہشتگردی کے واقعات پیش آتے ہیں، اس لیے انہیں دہشتگردی کے خلاف حکومت کا ساتھ دینا چاہیے تھا، انہیں جلد احساس ہوگا کہ ان کا اٹھایا گیا قدم ملک و قوم کے حق میں نہیں۔

ملکی معیشت کے حوالے سے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ صرف سعودی عرب پر حملوں ہی نہیں بلکہ خلیجی جنگ کے بھی پاکستانی معیشت پر گہرے اور منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

رانا تنویر حسین کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستانی معیشت دن بدن ترقی کر رہی تھی، تاہم جنگی حالات کے باعث ترقی کی رفتار میں کچھ کمی آئی ہے، حکومت نے پٹرولیم مصنوعات اور گیس پر سبسڈی دے کر اب تک عوام کو ریلیف فراہم کیا ہے۔