مہنگائی، محنت کش اور ہماری معاشرتی بے حسی،تحریر: سید علی جبران نقوی
نقطہ نظر
پاکستان میں منگائی بڑھی تو مجھے صرف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی فکر نہیں ہوئی، بلکہ ان لوگوں کے معاشی حالات بھی پریشان کرنے لگے جو اشیا فروخت کرنے کے بجائے اپنی محنت اور ہنر سے روزی کماتے ہیں۔ درزی، موچی، نائی، رکشہ ڈرائیور، جوتے پالش کرنے والے اور معمولی مرمت کا کام کرنے والے یہ لوگ ہماری روزمرہ زندگی کا اہم حصہ ہیں، مگر ان کی مشکلات اکثر ہماری نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔
میں نے سوچا کہ اگر کسی چیز کی مرمت ہو سکتی ہے تو نئی خریدنے کے بجائے اسے ٹھیک کروایا جائے، تاکہ کسی محنت کش کو روزگار مل سکے۔ اسی سوچ کے تحت میں نے رکشے میں سفر کیا، کپڑوں کی معمولی سلائی اور فٹنگ کروائی، جوتے مرمت کرائے اور پالش کرنے والوں سے بھی کام لیا۔ بطور صحافی، ان لوگوں سے گفتگو اور انٹرویوز کے ذریعے ان کے حالات جاننے اور ان کی آواز عوام، میڈیا اور متعلقہ حکام تک پہنچانے کی کوشش بھی کرتا رہا۔
ایک طرف یہ لوگ بتاتے تھے کہ مہنگائی نے ان کی زندگی مشکل بنا دی ہے، دکانوں کے کرائے، بجلی کے بل اور گھریلو اخراجات پورے نہیں ہوتے؛ دوسری طرف بعض مواقع پر ان کی طلب کردہ اجرت سن کر مجھے حیرت ہوتی تھی۔ ایک درزی نے معمولی سی جیب کی مرمت کے لیے 300 روپے مانگے، جوتوں کی پالش کے لیے 150 روپے بتائے گئے، رکشے کے ایک سفر کا کرایہ میری توقع سے کہیں زیادہ بتایا گیا، جبکہ ایک ہیئر ڈریسر نے بالوں کی کٹنگ کے 600 روپے طلب کیے۔
یہ میرے ذاتی تجربات ہیں، انہیں پورے شعبے کے ہر فرد پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ ہر کام کی قیمت کا انحصار وقت، مہارت، استعمال ہونے والے سامان، مقام اور کاروباری اخراجات پر بھی ہوتا ہے۔ تاہم سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک عام شہری محنت کش کی مدد کی نیت سے اس کے پاس جائے اور اسے مناسب قیمت کے بجائے غیر متوقع طور پر زیادہ اجرت بتائی جائے تو وہ دوبارہ وہاں کیوں آئے گا؟
میرا مقصد محنت کش کی حوصلہ شکنی نہیں، بلکہ اس کے روزگار کو پائیدار بنانا ہے۔
مہنگائی صرف دکاندار یا صارف کا مسئلہ نہیں؛ اس کا دباؤ خدمت فراہم کرنے والے پر بھی پڑتا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں، روپے کی قدر، درآمدی اخراجات، توانائی کے نرخ اور ملکی معاشی حالات قیمتوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ لیکن مہنگائی کو ہر اضافی قیمت کا غیر مشروط جواز بھی نہیں بنایا جا سکتا۔ مناسب منافع اور جائز اجرت ہر شخص کا حق ہے، مگر ناجائز وصولی، دھوکا دہی اور گاہک کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا درست نہیں۔
قرآنِ مجید، سورۃ النساء، آیت 29 میں باہمی رضامندی سے جائز تجارت اور ناحق طریقے سے دوسروں کا مال کھانے سے منع کیا گیا ہے۔ جامع ترمذی، حدیث 1210 میں تجارت کے ضمن میں تقویٰ، سچائی اور نیکی کی اہمیت بیان ہوئی ہے۔ اہلِ بیتؑ سے منقول اخلاقی تعلیمات کا بنیادی پیغام بھی دیانت، انصاف اور دوسروں کے حقوق کی پاسداری ہے۔ ان اصولوں کا تقاضا ہے کہ نہ محنت کش کا استحصال ہو اور نہ وہ اپنے گاہک کے ساتھ ناانصافی کرے۔
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 38 ریاست کو عوام کی معاشی فلاح، مناسب ذریعۂ معاش اور آمدنی کے تفاوت میں کمی کے لیے رہنما اصول فراہم کرتا ہے۔ اس لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ چھوٹے کاروبار کرنے والوں اور خود روزگار افراد کے لیے قابلِ رسائی مالی معاونت، ہنرمندی کی تربیت، سماجی تحفظ اور توانائی کے اخراجات میں ممکنہ سہولتوں پر توجہ دیں۔ ساتھ ہی صارفین کے حقوق کے تحفظ اور قیمتوں میں شفافیت کے لیے متعلقہ قوانین پر مؤثر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔
لیکن ذمہ داری صرف ریاست کی نہیں، عوام اور کاروباری افراد کی بھی ہے۔ خدمت فراہم کرنے والوں کو چاہیے کہ کام شروع کرنے سے پہلے مناسب اجرت واضح کریں، معیار کے مطابق قیمت لیں اور گاہک کو دھوکے یا جھوٹی قسموں سے متاثر نہ کریں۔ دوسری جانب صارفین بھی محنت کی قدر کریں، بلاوجہ معاوضہ کم نہ کروائیں اور کسی غریب کاریگر سے مفت کام کی توقع نہ رکھیں۔
میں آج بھی یہی سمجھتا ہوں کہ اگر ہم کسی محنت کش کے پاس اس کی مدد کے لیے جائیں تو وہ ہمارا اعتماد اپنی دیانت داری سے جیتے۔ مناسب قیمت، معیاری کام اور اچھا برتاؤ مستقل گاہک پیدا کرتے ہیں؛ غیر ضروری مہنگائی اور بداعتمادی گاہک کو دور کر سکتی ہے۔
معاشرے کی اصل ترقی صرف بڑی عمارتوں اور بڑے کاروباروں سے نہیں، بلکہ اس وقت بھی پہچانی جاتی ہے جب ایک عام محنت کش عزت سے روزی کما سکے اور ایک عام شہری مناسب قیمت پر اپنی ضرورت پوری کر سکے۔
ہمیں ایسا معاشرہ بنانا ہے جہاں محنت کی قدر ہو، کاروبار میں دیانت ہو، صارف کے حقوق محفوظ ہوں اور ریاست کمزور طبقے کو تنہا نہ چھوڑے۔
مزید پڑھیں





