ٹبہ سلطان پورکی محرومیاں کون ختم کرے گا،تحریر: سید علی جبران نقوی
نقطہ نظر
ٹبہ سلطان پور کو ترقی یافتہ ممالک کے جدید شہروں کی طرز پر کیوں نہیں بنایا جا سکتا؟
صحت، تعلیم، روزگار، صاف پانی، جدید انفراسٹرکچر اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے ایک جامع ترقیاتی وژن
پاکستان کے ضلع وہاڑی کی تحصیل میلسی کا شہر ٹبہ سلطان پور بھی اس بات کا مستحق ہے کہ اسے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے جدید شہروں کی طرز پر ایک مثالی، صاف ستھرا، محفوظ، تعلیم یافتہ اور جدید سہولیات سے آراستہ شہر بنایا جائے۔ 79 سال ہوئے وطن عزیز کو بنے ہوئے آخر کب تک ہمارے شہری بنیادی سہولیات کے لیے ترستے رہیں گے؟ کیا صاف پانی، معیاری تعلیم، جدید ہسپتال، روزگار، کشادہ سڑکیں اور بہتر سیوریج صرف بڑے شہروں یا ترقی یافتہ ممالک کے شہریوں کا حق ہیں؟
میرا وژن ہے کہ ٹبہ سلطان پور کو ایک ایسے جدید شہر میں تبدیل کیا جائے جہاں ہر شہری کو بلاامتیاز صحت، تعلیم، روزگار، صاف پانی اور بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی یقینی ہو۔
سب سے پہلے شہر اور اس کے گردونواح کے لیے ایک جامع ماسٹر پلان تیار کیا جائے، جس میں آئندہ 50 سے 100 سال کی آبادی، ضروریات اور شہری توسیع کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبہ بندی کی جائے۔ نئی سڑکیں، کشادہ گلیاں، معیاری فٹ پاتھ، اسٹریٹ لائٹس، جدید نکاسی آب اور بڑے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس تعمیر کیے جائیں۔ بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے الگ نظام بنایا جائے تاکہ شہریوں کو بارشوں کے دوران مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
صاف پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ اس مقصد کے لیے جدید واٹر فلٹریشن پلانٹس قائم کیے جائیں، پانی کی مسلسل لیبارٹری ٹیسٹنگ ہو اور گھر گھر پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے پائپ لائنوں کا جال بچھایا جائے۔ پانی کے معیار، مقدار اور فراہمی کی نگرانی کے لیے شفاف نظام بھی قائم کیا جائے۔
صحت کے شعبے میں جدید تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال، بنیادی مراکز صحت، زچہ و بچہ مراکز، ایمرجنسی سروسز، ایمبولینسز، جدید لیبارٹریز اور 24 گھنٹے طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ خواتین کے لیے الگ اور باعزت طبی سہولیات اور بچوں کے لیے خصوصی طبی مراکز بھی قائم ہوں تاکہ کسی شہری کو علاج کے لیے دور دراز شہروں کا سفر نہ کرنا پڑے۔
تعلیم کے میدان میں نئے سرکاری اسکول، جدید کالجز، ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹس، ڈیجیٹل لیبارٹریز اور لائبریریاں قائم کی جائیں۔ لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے معیاری تعلیم، جدید کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ مستحق طلبہ کے لیے وظائف اور ہونہار نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع بھی یقینی بنائے جائیں۔
شہر میں خواتین، بچوں اور خاندانوں کے لیے محفوظ اور معیاری عوامی مقامات ہونے چاہئیں۔ جدید لیڈیز پارکس، فیملی پارکس، بچوں کے کھیلنے کے میدان، کھیلوں کے اسٹیڈیم، جمنازیم، واکنگ ٹریکس، کمیونٹی سینٹرز اور پبلک لائبریریز تعمیر کی جائیں۔ خواتین کے لیے محفوظ عوامی ٹرانسپورٹ، مناسب واش رومز اور دیگر بنیادی سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔
روزگار کے بغیر ترقی کا تصور نامکمل ہے۔ ٹبہ سلطان پور کے نوجوانوں کے لیے صنعتی و تجارتی زون، چھوٹی صنعتوں، کاروباری مراکز، آئی ٹی ٹریننگ، فری لانسنگ، ای کامرس اور جدید زراعت کے منصوبے متعارف کروائے جائیں۔ نوجوانوں کو بلاسود یا آسان شرائط پر کاروباری قرضے، ہنرمندی کی تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ مقامی سطح پر ایسے ادارے قائم ہوں جو نوجوانوں کو ملازمتوں سے منسلک کرنے میں مدد دیں۔
اس کے ساتھ نوجوانوں کے لیے مثبت نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کا وسیع نظام ہونا چاہیے، جس میں تقریری مقابلے، مباحثے، کھیلوں کے ٹورنامنٹس، ادبی تقریبات، صحافتی تربیت، سائنسی نمائشیں اور ثقافتی پروگرام شامل ہوں۔ ہمارا مقصد صرف نوجوانوں کو ڈگریاں دلوانا نہیں بلکہ انہیں باصلاحیت، خودمختار، ذمہ دار اور معاشرے کے لیے مفید شہری بنانا ہونا چاہیے۔
لیکن اس پورے ترقیاتی وژن کی کامیابی کے لیے سب سے اہم سوال سیاسی نمائندگی، عوامی نگرانی اور احتساب کا ہے۔
میرا واضح مؤقف ہے کہ آئندہ انتخابات میں ٹبہ سلطان پور کے عوام کو صرف سیاسی نعروں، جماعتی وابستگیوں، برادریوں اور ذاتی تعلقات کی بنیاد پر ووٹ نہیں دینا چاہیے۔ قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی، سینیٹ اور بلدیاتی اداروں کے نمائندوں سمیت متعلقہ سرکاری عہدیداروں کی ماضی کی کارکردگی، دیانت داری، عوامی خدمت اور عملی نتائج کو فیصلہ سازی کا معیار بنایا جائے۔
عوام کو اپنے امیدواروں سے تحریری ترقیاتی منشور، منصوبوں کی تفصیلات، بجٹ، تکمیل کی مدت اور کارکردگی کی روزانہ ، ہفتہ وارانہ ، ماہانہ اور سالانہ رپورٹ طلب کرنی چاہیے۔ جو نمائندہ عوام کے مسائل حل کرے، وعدے پورے کرے، فنڈز کے استعمال میں شفافیت دکھائے اور علاقے کی ترقی کے لیے عملی کردار ادا کرے، اسے عوامی حمایت ملنی چاہیے۔ جبکہ ناکام کارکردگی، بدعنوانی یا وعدہ خلافی پر اس کا سیاسی اور قانونی احتساب ہونا چاہیے۔ البتہ ووٹ کا قانونی حق ہر اہل شہری کو حاصل ہے؛ عوامی احتساب اس حق کے منصفانہ اور باخبر استعمال کے ذریعے ہونا چاہیے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹبہ سلطان پور کے نوجوان، بزرگ، خواتین، تاجر، اساتذہ، وکلا، صحافی اور سماجی شخصیات مل کر ایک غیر جماعتی شہری ترقیاتی فورم قائم کریں، جو شہر کا جامع منشور تیار کرے اور منتخب نمائندوں سے اس پر عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کرے۔
ہمیں اب صرف وعدے نہیں، عملی کام چاہئیں۔ ہمیں شخصیات کی نہیں، کارکردگی کی سیاست کرنی ہے۔ ہمارا مقصد کسی ایک جماعت یا فرد کی مخالفت نہیں بلکہ اپنے شہر اور آنے والی نسلوں کا بہتر مستقبل ہونا چاہیے۔
ٹبہ سلطان پور بھی ترقی یافتہ دنیا کے شہروں کی طرح صاف، محفوظ، تعلیم یافتہ، خوشحال اور جدید سہولیات سے آراستہ ہو سکتا ہے، بشرطیکہ عوام اپنے حقوق کے لیے متحد ہوں اور حکمرانوں سے جواب طلب کریں۔
میرا خواب ایک ایسا ٹبہ سلطان پور ہے جہاں کسی بچے کا مستقبل غربت کے باعث تاریک نہ ہو، کسی مریض کو علاج کے لیے تڑپنا نہ پڑے، کسی خاتون کو بنیادی سہولتوں سے محروم نہ رہنا پڑے، کسی نوجوان کو بے روزگاری کے باعث اپنا شہر چھوڑنے پر مجبور نہ ہونا پڑے اور ہر شہری کو عزت، تحفظ اور بہتر زندگی میسر ہو۔
اب وقت آگیا ہے کہ ٹبہ سلطان پور کو نعروں سے نہیں، منصوبہ بندی، شفافیت، عوامی اتحاد اور عملی ترقی سے پہچان دی جائے۔
مزید پڑھیں




